چین کی سرمایہ کاری ‘ پاکستان میں توانائی کا بحران حل ہو گا ‘ صنعتوں کو وسعت ملے گی

چین کی سرمایہ کاری ‘ پاکستان میں توانائی کا بحران حل ہو گا ‘ صنعتوں کو وسعت ...

 لاہور(کامرس رپورٹر)ملک کے صنعت کاروں اور تاجروں نے چینی صدر کے دورہ پاکستان کاخیر مقدم اور وزیراعظم محمد نوازشریف کو خراج تحسین پیش کیا ہے کہ جن کی کوششوں سے چین پاکستان میں مختلف منصوبوں میں 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے ۔ان صنعت کاروں اور تاجروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ چین کے صدر زی جنگ پنگ کا دورہ پاکستان معیشت کو مستحکم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرے گا۔ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر کے صدر اعجاز اے ممتاز ، آپٹما کے چیئرمین ایس ایم تنویر، پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ کے صدر عبدالباسط،پی پی اے کے چیئرمین ڈاکٹر مصطفی کمال، لاہور سٹاک ایکسچینج کے مینیجنگ ڈائریکٹر آفتاب احمد چودھری ،سابق چیئرمین لاہور سٹاک ایکسچینج سید عاصم ظفر،پیاف کے وائس چیئرمین خواجہ شاہ زیب اکرم اور لاہور چیمبر کے سابق ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن الماس حیدر نے چینی صدر کے دورہ پاکستان پر اپنے ردعمل کا اظہارکیا۔ان صنعت کاروں اور تاجروں کا کہنا تھا کہ چینی صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر اربوں ڈالر کے معاہدے ہونگے جس سے پاکستان میں توانائی کا بحران حل ہوگا، صنعتوں کو وسعت ملے گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے۔چین پاکستان کا بڑا تجارتی حصے دار ہے اور توقع ہے کہ آئندہ چندبرسوں میں باہمی تجارت کا حجم پندرہ ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی صرف سرحدیں ہی نہیں بلکہ دل بھی ملتے ہیں، عالمی سیاسی و معاشی امور پر دونوں ممالک کا نکتہ نظر بھی یکساں ہے۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر اعجاز اے ممتاز اور آپٹما کے چیئرمین ایس ایم تنویر نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تاجر تعمیرات، ہوٹل، سیاحت، ایس ایم ایز، کمپیوٹر، ٹیکسٹائل، گارمنٹس، کارپوریٹ فارمنگ، سی فوڈ، فوڈ پراسیسنگ، بینکنگ اینڈ فنانس، لائٹ انجینئرنگ وغیرہ کے شعبوں میں مشترکہ منصوبہ سازی کا آغاز کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توانائی اور زراعت کے شعبوں میں پاکستان کو چینی مدد کی اشد ضرورت ہے۔پیاف کے وائس چیئرمین خواجہ شاہ زیب اکرم نے کہا کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے جبکہ چین اس شعبے میں وسیع مہارت رکھتا ہے، اگر اس شعبے میں مشترکہ منصوبہ سازی کی جائے تو اس سے دونوں ممالک کو بہت زیادہ فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار بڑھنے سے نہ صرف مقامی ضرورت پوری ہوگی بلکہ اضافی پیداوار چین کو بھی برآمد کی جاسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ سی فوڈ پراسیسنگ کے شعبے میں بھی دونوں ممالک مل کر کام کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیوں کو پاکستان میں آٹو پارٹس کے شعبے میں مشترکہ منصوبے لگانے چاہئیں۔لاہور سٹاک ایکسچینج کے ایم ڈی آفتاب احمد چودھری اور سابق چیئرمین سید عاصم ظفر نے چینی صدر کے دورہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کی خارجہ پالیسی کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ چینی صدر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں اور مختلف منصوبوں میں 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ گودار بندرگاہ اور اقتصادی راہداری اور توانائی کے منصوبے مکمل ہونے سے پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جس کے اثرات ملکی سٹاک مارکیٹوں پر مثبت پڑیں گے ۔

مزید : صفحہ اول