پنجاب فوڈ اتھارٹی نے بناسپتی کے 5مشہور برانڈز مضر صحت قرار دے دیئے

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے بناسپتی کے 5مشہور برانڈز مضر صحت قرار دے دیئے

 لاہور(سعید چودھری )پنجاب فوڈ اتھارٹی نے بناسپتی کے 5مشہور برانڈز مضر صحت قرار دے دیئے ہیں ۔جن کمپنیوں کے بناسپتی گھی کو انسانی صحت کے لئے مضر قرار دیا گیا ہے ان میں ،شاہ تاج بناسپتی ، میزان بناسپتی ، کسان خالص گھی ، سوہنا بناسپتی اور خالص بناسپتی شامل ہیں ۔لاہور ،راولپنڈی ، سرگودھا ،گوجرانوالہ اور فیصل آباد ڈویژنوں کی پبلک اینا لسٹ آسیہ قیوم نے ان برانڈز کے بھیجے گئے نمونہ جات کے لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد ان کے مضر صحت ہونے کی بابت سرٹیفکیٹس بھی جاری کردیئے ہیں ۔پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ مجریہ 2011کے سیکشن 11(3)کے تحت ان سرٹیفکیٹس کو عدالتوں میں قابل قبول شہادت کا درجہ حاصل ہے ۔رپورٹ کے مطابق خالص بناسپتی ،شاہ تاج بناسپتی اور کسان خالص گھی میں وٹامن اے شامل نہیں ہے جبکہ بین الاقوامی معیار کے تحت ایک پونڈ بناسپتی میں وٹامن اے کے 15ہزار یونٹ شامل ہونا ضروری ہیں ۔رپورٹ کے مطابق ان تینوں برانڈز کے علاوہ میزان بناسپتی اور سوہنا بناسپتی کے نمونے بھی لیبارٹری ٹیسٹ میں انسانی صحت کے لئے نقصان دہ پائے گئے ہیں ۔ان پانچوں برانڈز کوگورنمنٹ پبلک اینا لسٹ لیبارٹری نے انسانی استعمال کے لئے "ان فٹ "قرار دے دیا ہے ۔سوہنا بناسپتی کا لیبارٹری سیمپل نمبر1250،میزان بناسپتی کا 1258، شاہ تاج بناسپتی کا1251، کسان خالص گھی کا 1252اور خالص بناسپتی کالیبارٹری سیمپل نمبر 1256کے تحت تجزیہ کیا گیا ۔یہ تمام نمونے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے متعلقہ حکام نے سربمہر کرکے تجزیہ کے لئے لیبارٹری بھجوائے تھے ۔قانونی اور مقررہ معیار کے مطابق بناسپتی میں موجود چکنائی کوزیادہ سے زیادہ 40درجہ سینٹی گریڈ پر پگھل جانا چاہیے ۔بناسپتی کو40درجہ سینٹی گریڈ پرگرم کیا جائے تو اس میں چکنائی کی مقدار 43ہونی چاہیے جبکہ لیبارٹری ٹیسٹ رپورٹ کے مطابق سوہنا بناسپتی میںیہ مقدار49، میزان بناسپتی میں48، شاہ تاج بناسپتی میں بھی 48 ،خالص بناسپتی میں47اور کسان خالص گھی میں چکنائی کی مقدار48پائی گئی ہے ۔چکنائی اور چربی کی یہ اضافی مقدار خون کی شریانوں میں جمنا شروع ہوجاتی ہے جو آخرکار ہارٹ اٹیک کا سبب بنتی ہے ۔

مزید : صفحہ اول