جوڈیشل کمیشن کاکام شروع، پارٹیوں نے مزید ثبوت جمع کرائے

جوڈیشل کمیشن کاکام شروع، پارٹیوں نے مزید ثبوت جمع کرائے
جوڈیشل کمیشن کاکام شروع، پارٹیوں نے مزید ثبوت جمع کرائے

  

چودھری خادم حسین

پاکستان الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد آج کل تجزیہ کار اور دانش ور ہیں ریٹائرڈ افسروں پر دانشوری عموماً ریٹائرمنٹ کے بعد ہی اترتی ہے ان کا موضوع انتخابی عمل ہوتا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے 2013ء کے انتخابی عمل کی تحقیقات کرنے کے لئے مقرر جوڈیشل کمیشن کو اپنی رائے سے آگاہ کیا تو عوامی سطح پر کھلے بندوں بھی 2013ء کے انتخابات کو مشکوک قرار دیا انہوں نے سابق چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم (فخرو بھائی) سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی زبان کھول دیں، فخرو بھائی شدید علیل ہیں۔ یوں بھی یہ جوڈیشل کمیشن کی صوابدید ہے کہ وہ ان سے بیان کے لئے رجوع کرے اگر ان کی صحت اجازت دے تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن کنور دلشاد کے تجزیئے اور بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ 2013ء کے انتخابات دھاندلی شدہ تھے اور فخر الدین جی ابراہیم کو سب علم ہے، دوسرے معنوں میں کنور دلشاد کمیشن سے پہلے ہی بالواسطہ طور پر اپنا فیصلہ سنا رہے اور اس تاثر کو پختہ کر رہے ہیں کہ فخرو بھائی آگئے تو عمران خان کا سب کام ہو جائے گا وہ دھاندلی ثابت کر دیں گے۔

کنور دلشاد طویل عرصہ الیکشن کمیشن کے سیکریٹری اور با اختیار افسر رہے، آج کل ان کی ریٹنگ اچھی اور الیکٹرونک میڈیا والے ان سے رجوع بھی کرتے ہیں اور وہ اپنی رائے بھی دیتے جو حتمی ہوتی ہے حالانکہ ان کی رائے سے اختلاف کرنے والے بھی ہیں۔ اب تک کسی طرف سے یہ احتیاط نہیں کی گئی کہ جوڈیشل کمیشن کے قیام کے بعد ایسے ریمارکس نہ دیئے جائیں جو کمیشن کی کارروائی کو متاثر کرنے کا ذریعہ بنیں، کمیشن کی طرف سے بھی یہ ہدایت کی گئی تھی کنور دلشاد ایسے ریٹائرڈ افسر ہیں جن کے اپنے دور میں کئی انتخابات ہوئے کیا ہی بہتر ہو کہ وہ اس دور کی ’’دھاندلی‘‘ کو بے نقاب کریں یا پھر گنگا نہا کر پو تر ہونے کا اعلان کریں۔ عمران خان کا مطالبہ تو بہر حال یہ ہے کہ دھاندلی میں ملوث یا ذریعہ بننے والوں کو سزا بھی دی جائے ۔ بہرحال جہاں تک حالات کا تعلق ہے تو آج کچھ جماعتوں نے جوڈیشل کمیشن کو کچھ مزید ریکارڈ دیا ہے۔ تاہم ضرورت یہ ہے کہ کمیشن کے سامنے ایسی ٹھوس شہادت اور ثبوت لایا جائے کہ 2013ء کے انتخابات میں سازش کے تحت منظم دھاندلی کے ذریعے موجودہ وفاقی حکومت برسر اقتدار آئی۔

جہاں تک دھاندلی بلکہ انگریزی کا لفظ رگنگ استعمال کیا جائے تو اس کی شکایت ہر جماعت نے کی اور یہ الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے بعد کے حالات کے حوالے سے بھی کہی جاتی ہے اور اس سلسلے میں ہارنے والے جیتنے والے کے خلاف الزام لگا رہے ہیں۔ اسی مقصد کے لئے تو ٹربیونل قائم کئے گئے تھے۔

بہر حال تحریک انصاف نے 27 حلقوں کا ریکارڈ جمع کر دیا ہے اب کارروائی کے دوران شہادت اور ثبوت ہی کوئی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ویسے ہمارے عمران خان بھی اپنی سحر انگیز شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ الطاف حسین کے بارے میں بیانات میں تضاد کی بات کرتے ہیں اور خود حلقہ این۔ اے 246 میں کامیابی کا دعویٰ کرتے اور جلسے میں کہتے ہیں اب رینجرز سے ٹھپے نہیں لگیں گے تو ایم کیو ایم کے ووٹ تو کم ہوں گے دوسرے معنوں میں وہ یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ ایم کیو ایم جیتے گی مگر ووٹ پہلے سے کم ہوں گے اس کے ساتھ ہی عمران خان کی یہ بات پسند نہیں کی گئی کہ اسمبلیوں میں گیدڑ بیٹھے ہیں۔ وہ اپنے جوانوں کو ٹائیگر کہتے ہیں تو خود کو ببر شیر سمجھتے ہوں گے۔ ایسے الفاظ سے گریز کرنا چاہئے کہ ان کو چین کے صدر سے ملاقات کے لئے پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے دعوت دی گئی جو انہوں نے قبول کر لی ہے۔

مزید : تجزیہ