جوڈیشل کمیشن سمیت 6 نئے آرڈنینس قومی اسمبلی میں پیش ،اپوزیشن کی شدید تنقید

جوڈیشل کمیشن سمیت 6 نئے آرڈنینس قومی اسمبلی میں پیش ،اپوزیشن کی شدید تنقید

اسلام آباد ( آئی این پی ) قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے عام انتخابات 2013ء انکوائری کمیشن آرڈی نینس 2015ء،نیشنل ٹیکو کمیشن آرڈیننس 2015ء سمیت چھ نئے آرڈی نینس قومی اسمبلی میں پیش کردیئے ۔ قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ سمیت اپوزیشن جماعتوں نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کو آرڈی نینس جاری کرنے کی فیکٹری نہیں بنانا چاہیے کیونکہ قانون سازی پارلیمینٹ کی ذمہ داری ہے۔قومی اسمبلی کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ میری گزارش ہے کہ حکومت آرڈی نینس فیکٹری نہ لگائے بلکہ آرڈی نینس فیکٹری چلانے کا کام وفاقی وزیر دفاعی پیدوار رانا تنویر حسین کا ہے ، حکومت اگر اگر قانون سازی کرنا چاہتی ہے تو ترمیمی بل ایوان میں لے آئے ہم سے بات کرے ، اپوزیشن تعاون کرے گی ۔ ایم کیو ایم کے عبدالرشید گوڈیل نے کہا کہ قانون سازی کو اسمبلی سے منظور ہونا چاہیے ، آرڈیننس لانے کی روش درست نہیں ، پیپلزپارٹی کے ایاز سومرو نے کہا کہ پارلیمنٹ کا کام آرڈیننس منظور کرنا نہیں بلکہ قانون سازی کرنا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ قائمہ کمیٹیاں ترمیمی بلوں کے جائزے میں بہت زیادہ وقت لگاتی ہیں حالانکہ میرے پیش کردہ پانچ ترمیمی بل قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے متفقہ طور پر منظور کیے مگر وہ تاحال قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیے گئے ۔ جماعت اسلامی کے پارلیمانی رہنماء صاحبزادہ طارق نے کہا کہ قومی اسمبلی کو اس کے حقیقی کردار سے محروم نہ رکھا جائے ۔ قومی اسمبلی

اسلام آباد ( آئی این پی ) وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے قومی کمیشن برائے حقوق اطفال کے قیام کا بل 2015ء قومی یونیورسٹی برائے میڈ سائنسز کے قیام کا بل 2015ء اور مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898 میں مزید ترمیم کا بل 2015ء قومی اسمبلی میں پیش کردیئے جبکہ گیس چوری کی روک تھام اور نادہندگان سے وصولیوں کا بل 2014ء موخر کردیاگیا ۔قومی اسمبلی کے اجلا س میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی شیخ آفتاب احمد نے ایوان میں تین ترمیمی بل وفاقی وزیر قانون پرویز رشید اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے پیش کیے ۔ مذکورہ بلوں میں قومی کمیشن برائے حقوق اطفال بل 2015ء ، مجموعہ تغریرات پاکستان 1860 اور مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898 میں مزید ترمیم کرنے کا بل (فوجداری قانون ترمیمی بل 2015ء ) اور قومی یونیورسٹی برائے میڈیکل سائنسز بل 2015ء شامل ہیں جبکہ ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے گیس چوری روک تھام اور نادہندگان سے وصولیوں کا بل 2015ء بدھ کے روز تک موخر کردیا ۔

بل موخر

مزید : صفحہ آخر