منجری کے شبہ پر منشیات فروشوں کا محنت کش پر تشدد

منجری کے شبہ پر منشیات فروشوں کا محنت کش پر تشدد
 منجری کے شبہ پر منشیات فروشوں کا محنت کش پر تشدد

  

لاہور(کر ائم سیل) لاری اڈا کے علاقہ میں مخبری کے شبہ پرمنشیات فروشوں کا محنت کش پر تشدد ،پولیس کا مقدمہ درج کر نے سے انکار، متاثرہ شخض انصاف کے حصول کے لیے بیوی کے ہمراہ ایس پی سٹی کے آفس پہنچ گیا ۔تفصیلات کے مطابق لاری اڈا کے رہائشی محمد اسلم نے روز نامہ’’پاکستان‘‘سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا کہ منشیات فروشوں بلال ،طارقی اور بابر حسین کو چند روز قبل پولیس نے منشیات فروخت کر نے پرپکڑ لیا تھا ۔ملزمان کو شبہ تھا کہ میں نے ان کی مخبری کی ہے جس کی بنا ء پر انہوں نے مجھے اغوا کیا اور ورکشاپ پر لے گئے۔ انہوں نے مجھے تشدد کا نشانہ بنا نے کے بعد ایک کمرے میں بند کر دیا اور میری بیگم نصرت کو فون کر کے کہا کہ اگر اپنے خاوند کی زندگی چاہتی ہو تو فوری 20ہزار کی رقم لے کر ورکشاپ پر پہنچ جا ؤ۔ میری بیوی اپنی سونے کی بالیاں لے کر آئی تو ملزمان نے بالیاں لے کر میری جان بخشی کی ۔بعدازاں ہم نے تھانے میں ملزمان کے خلاف کا رروائی کے لیے درخواست دی تو احسان پہلوان نے ہمیں ہراساں کر کے ہماری صلح کر وادی اور ملزمان سے میری بیوی کی بالیوں کے عوض 10ہزار روپے لے کر رکھ لیے لیکن بعد ازاں ہمیں بلیک میل کر نا شروع کردیا ہے ۔ اس بارے میں ایس آئی احسان کا موقف تھا کہ الزامات غلط ہیں،ان میں کسی قسم کی کو ئی صداقت نہیں ہے۔ اسلم خود نشئی ہے اور اس پر مختلف تھا نوں میں متعدد مقدمات درج ہیں، اسلم نے ملزمان کے پیسے دینے تھے اور اس کی بیوی نے زبردستی اپنی بالیاں دی تھیں۔

مزید : علاقائی