قومی اسمبلی میں سائبر کرائمز بل کی شدید مخالفت، بل آزادی اظہار کیلئے خطرہ ہے :ہیومن رائیٹس واچ

قومی اسمبلی میں سائبر کرائمز بل کی شدید مخالفت، بل آزادی اظہار کیلئے خطرہ ہے ...
قومی اسمبلی میں سائبر کرائمز بل کی شدید مخالفت، بل آزادی اظہار کیلئے خطرہ ہے :ہیومن رائیٹس واچ

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)انٹرنیٹ صارفین کو قابو کرنے کے لیے لایاجانیوالے مجوزہ سائبر کرائم ایکٹ کی قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے شدید مخالف کی جبکہ عالمی ادارے ہیومن رائیٹس واچ نے بھی سائبر کرائم بل کو آزادی اظہار رائے کیلئے خطرہ قراردیدیا۔

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرصدارت ہونیوالے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ قائمہ کمیٹی سے منظور کیا جانیوالا سائبر کرائمز بل مزید مشاورت کیلئے واپس کمیٹی کو ارسال کیا جائے۔ بل ایوان میں پیش کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے پی پی، متحدہ، پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے ارکان نے کہا کہ بل پر انسانی حقوق تنظیموں، این جی اوز، سوشل میڈیا اور آئی ٹی شعبے کے تحفظات دور کئے جائیں۔ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ بل پر کمیٹی میں سیاسی جماعتوں کے ممبران نے بھرپور کام کیا ہے، کوئی رکن کمیٹی میں نہیں آیا تو ہمارا کیا قصورہے ، بھرپور کام کیا ۔

دوسری طرف ہیومن رائٹس واچ اور انسانی حقوق کے دیگر گروپوں نے پاکستان میں سائبر کرائم کے بل کو آزادی اظہار اور پرائیویسی کیخلاف قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور پارلیمنٹ سے اس بل کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ اس ایکٹ کے تحت حکام کو کسی بھی جوڈیشل ریویو کے بغیر انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کے ڈیٹا تک رسائی کا اختیار مل جائے گا۔ ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا ڈویڑن کے ڈائریکٹر فیلم کائن نے کہا کہ یہ بل عوام کے آن لائن سکیورٹی کے حوالے سے تحفظات دور کرتا ہے نہ ہی بنیادی انسانی حقوق کی عزت کرتا ہے۔ ڈیجیٹل حقوق کیلئے سرگرم گل بخاری نے کہا بل کے اندر مواد کے اسلام کے خلاف اور غیر اخلاقی ہونے کا فیصلہ عدالت کے بجائے متعلقہ اتھارٹی کے ہاتھ چلا گیا ہے۔ اس میں حکومت کو کسی بھی چیز کو اپنی مرضی سے ختم کرنے کا اختیار مل گیا ہے۔

مزید : اسلام آباد