ممتاز قادری کیخلاف وفاق کو اپیل کیلئے 2ہفتے کی مہلت, دونوں کا موقف سنیں گے : سپریم کورٹ

ممتاز قادری کیخلاف وفاق کو اپیل کیلئے 2ہفتے کی مہلت, دونوں کا موقف سنیں گے : ...
ممتاز قادری کیخلاف وفاق کو اپیل کیلئے 2ہفتے کی مہلت, دونوں کا موقف سنیں گے : سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر قتل کیس میں ملزم ممتاز قادری کی پھانسی کیخلاف اپیل کی سماعت کرتے ہوئے وفاق کو دو ہفتوں میں اپیل دائر کرنے کی مہلت دیدی ہے اور کہا ہے کہ ریاست اور ملزم کی جانب دائر دونوں اپیلوں کو ایک ساتھ سنا جائے گا۔

سماعت کے دوران جسٹس دوست محمد نے ریمارکس دیئے کہ دین میں کوئی خرابی نہیں بلکہ اصل خرابی ہم میں ہے ممکن ہے ریاستی اپیل مسترد ہوجائے۔ ممتاز قادری کی جانب سے دائر کردہ اپیل میں اہم قانونی نقات اٹھائے گئے ہیں۔ پیر کو جسٹس عمر عطاء بندیال پر مشمتل دو رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔ سماعت یک آغاز کے پر جسٹس دوست محمد نے کہا کہ ریاست نے ممتاز قادری پر عائد دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کے ہائی کورٹ فیصلے کیخلاف اپیل دائر کر رکھی ہے جو آج واپس لے لی گئی ہے کہ اپیل میں درستگی کرنی ہے اور اضافی دستاویزات بھی جمع کرانے ہیں اس لیے مہلت فراہم کی جائے۔ فاضل جج نے درخواست گذار کے وکیل سے پوچھا کہ آپ کی کیا رائے ہے اگر دونوں اپیلوں کو یکجا کرکے سنے تو کیا آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا۔ اس پر ممتاز قادری کے وکیل نے کہا دونوں اپیلوں کو یکجا کرکے سننا مناسب ہے تاہم میں نے عمرہ کیلئے جانا ہے بہتر ہے کوئی مناسب تاریخ دی جائے۔ جسٹس دوست محمد نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملزم ممتاز قادری پر عائد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات ختم کردی ہیں ہم نے اس اہم نقطے کو بھی دیکھنا ہے۔ ہم مقدمے کو بارہ مئی تک ملتوی کردیتے ہیں۔ اس پر ممتاز قادری کے وکیل نے کہا کہ بارہ مئی خطرناک تاریخ ہے اس دن کراچی میں بھی واقعہ پیش آیا تھا۔ جسٹس دوست محمد نے کہا کہ اللہ نے تمام دنوں کو بنایا ہے جبکہ فاضل جج کا یہ بھی کہنا تھا کہ ممتاز قادری کی جانب سے دائر کردہ اپیل میں اہم قانونی نکات اٹھائے گئے ہیں ممکن ہے کہ ریاستی اپیل مسترد ہوجائے۔ بعد ازاں وفاق کو دو ہفتوں میں اپیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت چودہ مئی تک ملتوی کردی گئی۔ عدالت نے دونوں اپیلوں کو ایک ساتھ سننے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

مزید : اسلام آباد