یمنی صدر منصور ہادی برقع پہن کر یمن سے نکلے، سعودی صحافی

یمنی صدر منصور ہادی برقع پہن کر یمن سے نکلے، سعودی صحافی
یمنی صدر منصور ہادی برقع پہن کر یمن سے نکلے، سعودی صحافی

  

کراچی(ویب ڈیسک)سعودی صحافی فہیم الحامدنے کہا کہ سعودی عرب نے یمن میں قانونی بالادستی اور امن کے قیام کے لئے کردار ادا کیا ،یمنی صدر منصور ہادی برقع پہن کر یمن سے نکلے۔وہ مقامی نیوز چینل جیو نیوز کے پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘ میں پروگرام کے میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ مختلف ممالک میں پاکستان کے سابق سفیر اشرف جہانگیر قاضی نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی اور تعلقات کے خلوص میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ چین جیسا ہمسایہ ملک پاکستان کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان نے اکنامک کوریڈور میں اپنا کردار ادا نہیں کیا تو اس منصوبے سے جو توقعات لگائی جارہی ہیں وہ پوری نہیں ہونگی۔

امریکا کی جانب سے دی جانے والی امداد کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جتنی بھی امداد امریکا نے ہمیں دی ہمارا اس سے کہیں زیادہ نقصان بھی ہوچکا ہے۔یمن کے معاملے پر چین کے کردار پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چین نے اقوام متحدہ کی جانب سے پیش کی جانے والی قرار پر اپنے تحفظات کے ساتھ منظور کیا ہے اگر یمن میں اس قرارداد کی روشنی میں امن نہیں آتا تو اقوام متحدہ مزید سخت قرارداد لائے اور شاید چین اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ دفاعی تجزیہ کار شہزاد چوہدری نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب ایک بڑی جنگ سے نکلتا ہوا نظر آرہا ہے اور پاکستان اپنے اگلے مرحلے میں جانے کے لئے تیار ہے اور ایسے وقت میں چین کا پاکستان کے لئے منصوبوں کے ساتھ آنا بہت اہم بات ہے امریکا چین کو اپنے انخلاء کے بعد افغانستان میں کردار ادا کرنے کا کہہ رہا ہے۔اشرف جہانگیر قاضی کا کہناتھا کہ سیکورٹی کے اعتبار سے پاکستان نے بہت سے اقدامات اور انتظامات کئے ہیں چین کے تعاون سے لگائے گئے پراجیکٹ اور ورکرزکے کے تحفظ کے لئے ملٹری کے فوجی دستے تعینات ہوں گے اور اگر وہ ان انتظامات سے مطمئن نہ ہوتے تو وہ کبھی دستخط نہ کرتے۔چین کی جانب سے پاکستان میں ہونے والی اس بھاری بھرکم (ہیوی) سرمایہ کاری سے بھارت میں یقیناًً پریشانی تو ہوگی لیکن یاد رہے کہ بھارت کے تعلقات بھی چین کیساتھ بڑھ رہے ہیں اور انہوں نے بھی آپس میں بہت سے پراجیکٹس کئے ہیں۔ان کا مزید کہناتھا کہ چین کی جانب سے لگائے جانے ان پراجیکٹس میں گڈ گورننس کو یقینی بنانا ہوگا۔

سینیٹر عبدالقیوم نے کہا کہ پاکستان پہلا ملک تھا جس نے چین کو تسلیم کیا، ہم ابتداء ہی سے اچھے ہمسایہ اور دوست ہیں، انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں سے پاکستان کے ساتھ ساتھ چین کا بھی فائدہ ہے ، چین کو اندازہ ہے کہ اسے محدود کرنے کے لئے انڈیا کو مسلح کیا جارہا ہے ، اکنامک کوریڈو ایک گیم چینجر ہوگا ،امریکا کو یہ بات پسند نہیں آرہی،وہ چاہتا ہے کہ چین کو کنٹرول میں رکھا جائے،اگر چین سے امریکا کی بالادستی ختم ہوتی نظر آئی تو اسے تشویش ہوگی،ہمیں چاہئے کہ ہم اس منصوبے کو تکمیل تک پہنچانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں،سینیٹر جنر ل قیوم کاکہناتھا کہ سعودی سرحد کے تحفظ کے لئے پاکستان ہمیشہ اس کے ساتھ ہوگا۔ مگر ابھی یمن مسئلے پر ہم اقوام متحد ہ کے چارٹر کے خلاف جاکر یمنی لڑائی میں فریق نہیں بن سکتے،اور ہم ان کو بھی یہ بات باور کرارہے ہیں کہ یہ لڑائی ان کے حق میں بھی نہیں ہے کیونکہ ملٹری کبھی بھی سیاسی مسائل کا حل نہیں ہوتی۔

ان کا مزید کہناتھا کہ چین کی جانب سے جو سرمایہ کاری ہوئی ہے 46 ارب کی اس میں سب سے بڑا چیلنج لاء اینڈ آرڈر اور سیکورٹی صورتحا ل ہے لہذا اس کولازمی بہتر بناناہوگا ،چین کی کامیابی کا راز اس کی خارجہ پالیسی ہے جس میں امن کو بنیاد ی اہمیت حاصل ہے۔دفاعی تجزیہ کار شہزاد چوہدری نے کہا کہ پاکستان اب ایک بڑی جنگ سے نکلتا ہوا نظر آرہا ہے اور پاکستان اپنے اگلے مرحلے میں جانے کے لئے تیار ہے اور ایسے وقت میں چین کا پاکستان کے لئے منصوبوں کے ساتھ آنا بہت اہم بات ہے، امریکا چین کو اپنے انخلاء کے بعد افغانستان میں کردار ادا کرنے کا کہہ رہا ہے، انہوں نے کہا کہ 46ارب ڈالر کے منصوبے ایک دم سے ہمارے ہاتھ میں نہیں آنے والے ،یہ پراجیکٹ20 ہیں جو کہ آئندہ 0 سالوں پر محیط ہیں جس میں مشکلات بھی آسکتی ہیں، 51منصوبوں میں ملازمتوں کے مواقع بھی فراہم ہونگے، چین نے ان منصوبوں کے لئے ہم سے کمٹمنٹ کی ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں تمام راستے کھلے رکھنے ہیں اور امریکا سمیت کسی ملک سے تعلقات کو خراب نہیں کرنا، شہزاد چوہدری کا کہناتھا کہ یمن جنگ پرچین کی جانب سے یہ ایڈوائس آئی کہ پاکستان کو اس جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہئے،چین خود بھی اسی با ت کو آگے بڑھائے گا کیونکہ وہ خود کبھی کسی اس طرح کی جنگ کا حصہ نہیں بنتا۔

انہوں نے کہا کہ چین کی جانب سے کی جانے والی اس انویسٹ منٹ میں اب حکومت کے لئے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ان پراجیکٹس کے اندر شفافیت کو عین ممکن بنائے کیونکہ یہ کمرشل ڈیلز ہیں۔سعودی گزٹ کے ڈپٹی ایڈیٹر اینڈ چیف فہیم الحامدنے یمن کے معاملے پر پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں آخری صحافی تھا جس نے یمنی صدر منصور ہادی سے ان کے محل میں ملاقات کی تھی۔میں نے ان کو انتہائی تشویش اور پریشانی کی حالت میں پایا۔باوجود اس کے کہ وہ کافی متحرک نظر آئے حوثیوں کے خلاف مقابلے کے لئے ،ایران کے حوثیوں کے ساتھ تعاون کو لیکر یمنی صدر کو بہت سے خدشات تھے۔ معاشیک پیلس پر ایئرفورس کی کارروائی کے بعد یمنی صدر کو ریسکیو کر کے سعودی عرب منتقل کرلیا گیا۔

مزید : بین الاقوامی