امریکا پاکستان کو ہتھیار نہ بیچے، خطے میں تصادم بڑھے گا، حسین حقانی

امریکا پاکستان کو ہتھیار نہ بیچے، خطے میں تصادم بڑھے گا، حسین حقانی
امریکا پاکستان کو ہتھیار نہ بیچے، خطے میں تصادم بڑھے گا، حسین حقانی

  

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکا میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نے امریکا کی جانب سے پاکستان کو دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے ہیلی کاپٹروں اور میزائلوں سمیت ایک ارب ڈالر کے فوجی سازوسامان کی مجوزہ فراہمی کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خطے میں تصادم کو ہوا ملے گی، پاکستان جہادی چیلنج سے نمٹنے میں ناکام ہو گیا ہے، امریکا کی جانب سے مجوزہ طور پر فراہم کردہ ہتھیار پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کے خلاف استعمال ہونے کی بجائے پاک ایران سرحدپر عسکریت پسندوں اور بھارت کے خلاف استعمال ہوگا، امریکا پہلے اس بات کو یقینی بنائے کہ پاکستان ان ہتھیاروں کو ان مقاصد کیلئے استعمال کریگاجن کیلئے یہ فراہم کیاگیا۔

پیر کو امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں حسین حقانی نے امریکا کی جانب سے پاکستان کو ہیلی کاپٹر اور میزائلوں سمیت پاکستان کو ایک ارب ڈالر کے فوجی سازوسامان کی فروخت کے فیصلے پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا اور اس دوران انہوں نے مجوزہ معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت پاکستان، فوج اور اوباما انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے پاکستان کو ہتھیاروں کی فراہمی اسلامی شدت پسندوں کے خاتمے کے مقصد میں مدد ملنے کی بجائے جنوبی ایشیاء میں تنازعات اور تصادم کو ہوا ملے گی۔ حسین حقانی نے کہا کہ پاکستان اپنے ملک میں جہادیوں کے چیلنج سے نمٹنے میں ناکام ہو گیا ہے اور اس کی وجہ اسلحے یا ہتھیاروں نہیں بلکہ قوت فیصلہ کی عدم موجودگی ہے، یہاں تک کہ پاکستان نے اپنا عالمی نقطہ نظر تبدیل کرلیا ہے۔ سابق سفیر نے کہا کہ امریکی ہتھیار شدت پسندی کے خلاف کم اور دشمن ملک کے خلاف زیادہ استعمال ہوں گے اور یہ ہتھیار ملک کے اندرونی دشمنوں کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں، بجائے اس کے کہ ان کو جہادیوں کے خلاف استعمال کیا جائے، بھارت کے ساتھ تیز مقابلہ پاکستان کی داخلی اور خارجہ پالیسی کا حصہ رہا ہے۔

امریکا نے پہلے سے بھی بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو برابر کرنے کیلئے اس کی بہت مدد کی۔ ایک بڑے پڑوسی کے مقابلے میں سیکیورٹی کا حصول ایک معقول مقصد ہے تاہم اس کے مقابلے میں مستقل بنیادوں پر برابری کی خواہش ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکام کو پاکستان پہلے اس بات پر قائل کرنا چاہیے کہ بھارت سے مخالفت بیجنگ کے حوالے سے ہو لیکن فرانس یا جرمنی کے حوالے سے نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ فوجی پیکج کی فراہمی کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اوبامہ انتظامیہ بھی اپنے پیش روؤں کی سابقہ پالیسیوں کو برقرار رکھے ہوئے اور ان کے نتائج مختلف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

مزید : اسلام آباد