مَیں پاکستان ہوں

مَیں پاکستان ہوں
مَیں پاکستان ہوں

  

میں پاکستان ہوں۔ میرے پیدا ہونے سے آج تک کی کہانی ایک لمبی داستان ہے۔ ایک کٹھن سفر ہے۔ میں زمین کا محض ایک ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں مسلمانوں کی محنتوں اور قربانیوں کا صلہ ہوں میں علامہ اقبال ؒ کے اس خواب کی تعبیر ہوں جو انہوں نے کروڑوں مسلمانوں کے لئے دیکھا تھا میرے پیدا ہونے سے پہلے ہی چودھری رحمت الہیٰ نے میرا نام پاکستان رکھ دیا تھا میں حضرت قائداعظم ؒ کی انتھک کوششوں کا صلہ ہوں۔ 1947 میں دنیا کے نقشے میں میرا وجود یوں ابھر کر سامنے آیا کہ دنیا حیران ہوگئی کیونکہ میں قدرت کا ایک انعام ہوں جو لیلۃ القدر کی رات اللہ پاک نے عطا کیا۔ پیدائش کے وقت میں ایک مفلوک الحال غریب بچے کی طرح تھا جس کے تن پر کپڑے اور پیٹ میں نوالے تک نہیں تھے۔ میرا بچپن اور لڑکپن ایسے ہی گذر گئے بلکہ اسی کسمپرسی کی حالت میں مجھے کئی لڑائیاں بھی لڑنی پڑیں جس سے مجھے زخم بھی آئے جن سے آج تک خون رس رہا ہے۔

میری پیدائش پر جہاں خوشیاں منائی گئیں، وہاں لاکھوں قربانیاں بھی دی گئیں ۔ کئی سہاگ اجڑے تو لاکھوں یتیم ہوئے کئی بے گھر ہوئے اور دربدر ہوئے۔ میری تخلیق لاالہ الا للہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر ہوئی تھی۔ قرآن و حدیث کا قانون ہوتے ہوئے بھی مجھے زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کی گئی۔ پہلے انگریزوں کا قانون لایا گیا ۔ 1949ء میں قرار داد مقاصدکے ذریعے اسلامی قانون نافذ کرنے کی کوشش کی گئی، مگر یہ بات سیکولر طبقے کو ہضم نہ ہوئی اور وہ مجھے لا دین ثابت کرنے کی کوشش میں لگ گئے۔ 1952ء اور 1956ء میں ایک بار پھر زنجیریں پہنائی گئیں جو جلد ہی ٹوٹ گئیں۔ 1962 ء اور 1973ء میں بھی آئین آئین کا کھیل کھیلا گیا جس میں اب تک 22 تبدیلیاں آچکی ہیں لیکن 1973ء کا آئین اپنی روح کے حساب سے کبھی نافذ نہیں ہوسکا۔ مجھ پر طرز حکمرانی کے بھی طرح طرح کے تجربے کئے گئے۔ کبھی جمہوری نظام لایا گیا تو کبھی فوجی چھتری تلے پناہ ڈھونڈی گئی۔کبھی اسلامی سوشلزم کا سہارا لیا گیا تو کبھی خود ساختہ شریعت کا۔ میرے بیٹوں نے مجھ پر بندوق کے ذریعے اپنا حکم چلانے کی کوشش کی۔ 1947ء سے قبل ایک گورے کا غلام تھا آج کئی کالے انگریزوں کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہوں۔

پیدائش کے ایک سال بعد میں یتیم ہوگیا کیونکہ میرے بانی حضرت قائداعظمؒ اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ ان کی وفات کے بعد ان کے ساتھی مجھے چھوڑ کر اپنے ذاتی مقاصد کی تکمیل میں مگن ہوگئے سندھ کے وڈیروں ، پنجاب کے چودھریوں اور سرحد اور بلوچستان کے قبائلی سرداروں نے مجھے لوٹ کا مال سمجھ کر لوٹنا شروع کردیا اور میرے جسم کے حصوں کی بولیاں لگنی شروع ہوگئیں۔1971ء میں سب نے مل کر میرے ایک بازو مشرقی پاکستان کو مجھ سے الگ کردیا۔ ساری دنیا میں میری جگ ہنسائی کروائی اور میرے قیام ہی کو غلط ثابت کرنا شروع کردیا۔ میرا حریف میرے ٹوٹنے پر ہنسا مگر مجھ پر حکمرانی کرنے والوں کو شرم نہ آئی۔ آج میرے ٹوٹنے پر کوئی غم نہیں کررہا بلکہ مزید ٹکڑے ہونے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ آج میں تنہا کھڑا ہوں اور مجھے لوٹنے والے میرے اندر بکھرے پڑے ہیں۔ آج میں غیروں سے کیوں شکایت کروں جب کہ میرے اپنے ہی میرے مرنے کے انتظار میں ہیں۔ جو میری تقدیر کو بدلنے کے نعرے لگا رہے تھے وہی میری تقدیر سے کھیل رہے ہیں۔ یہ نادان جس ٹہنی پر آشیانہ سجائے بیٹھے ہیںُ اسی کو کاٹ رہے ہیں۔ جس تھالی میں کھارہے ہیں اسی میں چھید کررہے ہیں۔ کبھی دہشت گرد مجھے ہلا کر رکھ دیتے ہیں اور پھر سیلاب مجھے ڈبو دیتا ہے مگر کوئی میرا پرسان حال نہیں۔ میں اب 68سال کا ہوگیا ہوں لیکن آج بھی غریب اور کمزور ہوں۔ میرے ساتھ جنم لینے والے کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ مجُھ سے 2 سال بعد آزاد ہونے والا چین کل تک مجھ سے بھیک مانگتا تھا مگر آج دیانت دار حکمرانوں کی وجہ سے دنیاپر راج کرتا ہے۔ دنیا کے سب وسائل اس کے قدموں میں ہیں۔ آج کی سپر پاور بھی اس کی مقروض ہے۔ حکمرانوں کی نااہلی نے مجھے اس قابل نہیں چھوڑا کہ میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکوں۔ مجھے مصنوعی طاقت دینے کے لیے قرضوں کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے مگر بعد میں میری رگوں سے دوگنا خون نچوڑ کر دوسرے ممالک کے بلڈ بنکوں میں رکھوا دیا جاتا ہے۔

اپنے محنتی عوام اور جیالے فوجی جوانوں کی وجہ سے میں مایوس نہیں۔ ملک میں وسائل کی کمی کی وجہ سے میرے بیٹے رزق کی تلاش میں نہ چاہتے ہوئے بھی مجھ سے دور کہیں انجان نگر میں دنیا بسانے پر مجبور ہیں۔ وہ بیرونی ممالک میں محنت کرکے زرمبادلہ بھیج دیتے ہیں جس سے ملک کا نظام چل رہا ہے۔ پھر راشد منہاس اور عارفہ کریم جیسے ہزاروں بچے تگ و دو میں ہیں اور میری ترقی کے خواب کو عملی جامہ پہنائیں گے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر عبدالقدیر اور جنرل راحیل شریف جیسے کچھ بچے ایسے بھی ہیں جن کی وجہ سے میں پھر سے جوان ہونے کی کوشش کررہا ہوں۔ امید ہے کہ میرے نام پر جینے اور مر مٹنے والے ایسے لوگ مجھے سہارا دے کر اٹھا دیں گے۔ اس کے علاوہ میں دنیا کا پہلا اسلامی ایٹمی طاقت والا ملک ہوں لیکن بعض لوگوں کے ذہنوں میں میرا نام سنتے ہی بھوک ، افلاس، دہشتگردی ، لوٹ مار اور کالے قانون جیسی چیزیں آتی ہیں جبکہ حقیقت بہت کم لوگوں کو معلوم ہے ۔ یہ ایک ایسی خوبی ہے جو سب برائیوں پر حاوی ہے۔ میری دوسری بڑی خوبی یہ ہے کہ میں نے براق ڈرون بنا لیا ہے۔ اس طرح میں آرمڈ ڈرون ٹیکنالوجی رکھنے والا دنیا کا پانچواں ملک بن گیا ہوں۔ جس سے میرا ہمسایہ اور سب سے بڑا دشمن خوف کا شکار ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے یہ ٹیکنالوجی امریکہ، اسرائیل، برطانیہ اور نائجیریا کے پاس ہے۔ جہاں اسے جنگ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ فرانس ، ایران اور عرب امارات نے بھی اس ٹیکنالوجی کے حصول کا دعویٰ کیا ہے تاہم ان ممالک نے کبھی اسے استعمال نہیں کیا۔ مزید 30 سے زائد ممالک اس ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے کام کررہے ہیں۔

میرے پاس دنیا کا آٹھواں عجوبہ شاہراہ قراقرم ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کی بلند ترین چوٹیاں K.2 اور نانگا پربت بھی میری دھرتی کا حصہ ہیں۔ میرے بچو! میری نصیحت کو یاد رکھنا اپنے دکھ درد کی حفاظت خود کرنا اور خود ہی انہیں دور کرنے کے لیے محنت اور کوشش کرنا۔ اس کا اظہار کبھی کسی غیر سے نہ کرنا ور نہ وہ ان دکھوں کے بدلے تمہیں خریدلے گا اور پھر تمہیں نئے دکھ دے گا۔ پیارے بچو! آپ کو میری خوراک کا خیال رکھنا ہوگا۔ میری خوراک یہ ہے کہ میرے سارے بچے ایمانداری اور محنت سے کام کریں۔ رشوت اور بدعنوانی کا خاتمہ کردیں۔ امن و امان کا بول بالا کریں۔ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھائیں۔ اس خوراک سے میرا جسم تندرست اور توانا ہوگا۔ میری درخواست ہے کہ مجھے ایسا بنا دو جہاں تعلیم ہر فرد کا مقدر ہو، جہاں ہر عورت کی عزت محفوظ ہو، جہاں غریب ، امیر کے ظلم کا شکار نہ ہو۔ خدارا میرے لئے اپنے خوابوں کا جہان بعد میں تعمیر کرنا پہلے اقبال کے خوابوں کو پورا کرو۔ اگر آپ میری ان باتوں کو مانیں گے تو میں اپنی ترقی سے بالکل مایوس نہیں۔ رہی میری بقا تو سرحدوں پر میرے بہادر بچے موجود ہیں وہ مجھے بچالیں گے وہ ضرب عضب لگا کر بن دیکھے دشمن کو جنہم رسید کررہے ہیں۔

میں اپنے خالق اور بانی حضرت قائداعظم ؒ کی ایک اہم بات آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایاتھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس کے بغیر پاکستان مکمل نہیں۔ اس لئے کشمیر کی آزادی اور تکمیل پاکستان تک آپ کو ہر جدوجہد جاری رکھنا ہوگی۔ میں خوش ہوں کہ دنیا میرے روشن مستقبل کی نوید سنا رہی ہے میں ایک روشن دلیل ہوں۔ میں اللہ کا انعام ہوں۔ میں پاک ہوں کیونکہ میں پاکستان ہوں اور میں زندہ آباد ہوں۔ میرے بچو! میں ایک حدیث سنانے کے بعد اپنی کہانی ختم کرتا ہوں۔ یہ غزوہ ہند سے متعلق سنن ابن ماجہ کی حدیث ہے۔ حضرت ابو ہریرہ کا بیان ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب جنگیں ہونے لگیں گی تو عجمی (غیر عرب) لوگوں میں ایک شخص اٹھے گا جو شہسواری کا ماہر ہوگا اور ہتھیار بھی اس کے پاس عمدہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اپنے دین کی مدد فرمائے گا۔ آج جنگوں کا دور ہے اور غیر عرب ممالک میں سب سے مستند فوجی اور ہتھیار صرف پاکستان کے پاس ہیں۔ اللہ نے مسلم اُمہ میں صرف پاکستان کو ہی نیوکلربم دیا ہے ۔ اس لیے یہ اشارے پاکستان کی طرف ہیں۔ انشاء اللہ پاکستان ہی مسلم دنیا کو لیڈ کرے گا اور غزوہ ہند میں بھی فتح یاب ہوگا۔

مزید :

کالم -