ترکی بہ ترکی:جہانِ دیگر کی سیاحت

ترکی بہ ترکی:جہانِ دیگر کی سیاحت
 ترکی بہ ترکی:جہانِ دیگر کی سیاحت

  

دُنیا کے ہزاروں لوگ، دُنیا کے مختلف ملکوں کے ہوائی مستقروں سے اڑنے والی پروازوں کے ذریعے دُنیا کے بہترین شہروں اور ملکوں کا سفر کرتے ہیں، لیکن ان میں سے بہت کم لوگ ہوتے ہیں، جو اپنے سفر کا حال لفظوں میں بیان کرتے ہیں اور کتابی صورت میں سامنے لاتے ہیں۔ اپنے دیکھے ہوئے کو بیان کرنے کا ہنر سب کے پاس نہیں ہوتا۔ میر تقی میر نے یونہی تو نہیں کہا تھا:

سرسری تم جہان سے گزرے

ورنہ ہر جا جہانِ دیگر تھا

دل کی آنکھ سے دیکھنے والوں پر جہانِ دیگر منکشف ہوتا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو سفر کو بھی سیاحت میں بدل دیتے ہیں اور قدم قدم پر حیرتیں ڈھونڈ لیتے ہیں۔ سیاحت دراصل حیرتیں تلاش کرنے کا نام ہے، اس لئے آپ سفر نگاری کو حیرت نگاری بھی کہہ سکتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم کو مَیں ان کے زمان�ۂ طالب علمی سے جانتا ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ تب مَیں آٹھ بازاروں کے شہر، فیصل آباد میں مقیم تھا، تب مَیں بھی تبسم صاحب کی طرح طالب علم تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ وہ زرعی یونیورسٹی میں کِشت زاروں کے بحرِ ذخار میں غوطہ زن تھے اور مَیں گورنمنٹ کالج دھوبی گھاٹ سے ایم اے اُردو کر رہا تھا۔ ایک فرق اور بھی تھا کہ مَیں اُن دِنوں فیصل آباد کے اُس وقت کے ایک مقبول اخبار ’’عوام‘‘ میں نوکری بھی کر رہا تھا۔ کسی مقامی موضوع پر ہر روز اداریہ لکھنا اور علمی و ادبی مضامین کی کانٹ چھانٹ میری ذمہ داری تھی۔ ایم اے کے ایک طالب علم کے لیے اس سے بہتر نوکری اورکوئی نہیں ہو سکتی تھی۔ فیصل آباد کے تمام شاعروں اور نثر نگاروں سے میرا ایک ذاتی تعلق بن گیا تھا۔

انہی دِنوں ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم بھی اپنے مضامین لے کر روزنامہ ’’عوام‘‘ کے دفتر میں آیا کرتے تھے۔ ان کے مضامین اگرچہ میری دلچسپی کے نہیں ہوتے تھے، لیکن میرے ایڈیٹر ’’ظہیر قریشی‘‘ نے مجھے کہہ رکھا تھا کہ ہر اچھا لکھنے والے کی حوصلہ افزائی کی جائے، اس لیے تبسم صاحب کے مضامین بھی مَیں اہتمام کے ساتھ روزنامہ ’’عوام‘‘ میں چھاپا کرتا تھا۔ ان دِنوں اعجاز تبسم کے مضامین کی نسبت ان کی شخصیت میں مجھے زیادہ کشش اور دلچسپی محسوس ہوتی تھی۔ اُن کی آنکھوں میں ہر وقت شرارت سی ناچتی نظر آتی۔ اُن پر مجھے ہمیشہ ایک سیمابی کیفیت طاری دکھائی دیتی۔ لگتا تھا کہ اُس کے بحر کی موجوں میں بہت سے اضطراب مچل رہے ہیں۔ ان کے مضامین کا ادبی اسلوب دیکھ کر ایک آدھ دفعہ مَیں نے انہیں ادبی موضوعات پر لکھنے کو بھی کہا، لیکن انہوں نے اپنے لیے جو دائرہ چنا تھا، وہ اسی میں مقید رہے۔

تقریباً26برس کے بعد،2016ء کے موسم بہار میں،ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم نے مجھے اپنے سفر نامے ’’ترکی بہ ترکی‘‘ کا مسودہ بھیجا تو مَیں نے جلدی جلدی اسے پڑھ ڈالا۔ یہ سفر نامہ نہیں، ایک حیرت کدہ ہے جو آپ کو سفر نامہ نگار کے دل کی دُنیا سے بھی روشناس کراتا ہے اور دُنیا کے دل کے زاویے بھی دکھاتا ہے۔ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم ایک ماہرِ زراعت ہیں۔ ماہرِ زراعت خاک کے ذرے ذرے پر نظر رکھتا ہے۔ زمین کی کوکھ سے پھوٹنے والی گندم کی بالیوں میں چھپے ایک ایک دانے کے اندر جھانکنے پر قادر ہوتا ہے۔ اس کا عملی اظہار’’ترکی بہ ترکی‘‘ میں یوں نظر آیا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں کے روبرو بکھرنے والے ایک بھی منظر کو نظر انداز نہیں کیا، حتیٰ کہ چہروں کو پڑھنے کی کوشش بھی کرتے رہے۔ جب چہروں کو پڑھ چکے تو لوگوں کے رویوں پر روشنی ڈالتے رہے۔ کبھی تاریخ کا ورق کھنگالتے رہے اور کبھی استقبالی موسموں سے ہم کلام ہوتے رہے۔

مَیں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ سفر نگار کو ایک انسان کی حیثیت سے کائنات میں بکھری حیرتوں کو سمیٹنا چاہئے، لیکن ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم نے بطور مسلمان بھی ایران اور ترکی کو دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم کے ہاں افسانہ طراز کا فن بھی اپنی تمام جزئیات کے ساتھ دکھائی دیتا ہے۔ ان کے اس سفر نامے کو آپ پڑھتے جایئے تو اس میں زیریں سطح پر آپ کو کئی کہانیاں ملیں گی جو اپنے کرداروں کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں اور ایک منطقی انجام تک پہنچ کر رُک جاتی ہیں۔ مثلاً ابتدائی صفحات میں آپ کو ایران میں سفر کے بیان میں ایک نقاب پوش حسینہ ملے گی جو مصنف کی طرف چپکے چپکے دیکھتی رہتی ہے اور جب ترکی پہنچتی ہے تو وہی حسینہ رات کی چادر اتار کر پھینکتی ہے اور صبح پُرنور کی طرح مصنف کے سامنے آن کھڑی ہوتی ہے۔ یہ صرف ایک حسینہ کا واقعہ نہیں، دو معاشرتوں کے تضاد کی کہانی ہے۔ محمد اعجاز تبسم کا یہ اسلوب پورے سفر نامے میں نظر آتا ہے۔ وہ کرداروں اور واقعات کے ذریعے اپنے قاری کو ترکی کے حیرت کدے میں لے کر جاتے ہیں اور یوں لے کر جاتے ہیں کہ اُس کا اِس حیرت کدے سے باہر نکلنے کو جی ہی نہیں چاہتا۔

ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم نے سفر کے دور کو دل کی آنکھ سے دیکھا ہے اور دل کی زبان میں بیان کیا ہے۔ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم کا یہ سفر نامہ پڑھ کر مجھ پر یہ راز منکشف ہوا ہے کہ انہوں نے ترکی میں سب کچھ دل کی آنکھ سے دیکھا اور سب کچھ دل کی زبان میں بیان کر دیا ہے، اسی لیے ان کی ہر سطر آپ ہی آپ دل میں اترتی جاتی ہے۔مجھے یقین ہے جس طرح آج ہر پاکستانی ترکی دیکھنے کا آرزو مند ہے، اسی طرح’’ترکی بہ ترکی‘‘ پڑھنے کی خواہش بھی عام ہو گی۔ اگر تبسم صاحب اسی طرح سفر اور سفر نگاری کرتے رہے تو وہ بہت جلد سفر نگاروں کے سرخیل بن جائیں گے۔

مزید : کالم