عمران خان کے بیان نے سینٹ کے انتخاب کو مشکوک بنادیا

عمران خان کے بیان نے سینٹ کے انتخاب کو مشکوک بنادیا
عمران خان کے بیان نے سینٹ کے انتخاب کو مشکوک بنادیا

  

پاکستان کی تاریخ سینٹ کے حوالے سے کبھی بھی بااعتبار نہیں رہی۔ سینٹ کے ہر انتخاب کے موقع پر صوبائی اسمبلی کے ممبران بکاؤ مال ثابت ہوتے ہیں۔ خریدار کی جیب بھاری ہے تو اس کے مطابق قیمت لگتی ہے۔ چند سال قبل سینٹ کے ووٹ خریدے گئے، خریدار صوبے سے باہر کی شخصیت تھی۔ ممبران بکتے رہے۔ ایک نے ذرا زیادہ قیمت مانگی تو خریدار نے دیکھا کہ رقم بہت زیادہ ہے تو اس نے انکار کردیا۔ جب انتخابات میں صرف 24گھنٹے رہ گئے تو ممبر اسمبلی نے ایک بروکر کو کہا کہ جو بھی قیمت ملے، ووٹ دے دوں گا۔ یہ ووٹر صرف 50ہزار میں فروخت ہوگیا۔ خریدو فروخت کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے۔ اب بھی خریدوفروخت کا سلسلہ برقرار رہاہے۔ بلوچستان میں جوکھیل کھیلا گیا، پاکستان کی سیاسی تاریخ کا بدترین دور تھا۔ اس ایوان میں 6سے زیادہ ارکان نے ووٹ بیچے ہیں، قوم پرست اور مذہب پرست ووٹ ادھر سے اُدھر ہوتے ہیں۔ نیشنل پارٹی کے ممبر نے بڑی جرأت سے اعلان کیا کہ میں نہ تو ووٹ اپنی پارٹی کی خواہش پر دوں گا اور نہ پارٹی کے فیصلے کی پابندی کروں گا۔

اس طرح نیشنل پارٹی کے ووٹ دوسری طرف چلے گئے۔ صرف پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے تاریخی کردار ادا کیا اور ممبر صوبائی اسمبلی منظور کاکڑ کے اعلان بغاوت کو قبول نہیں کیا اور الیکشن کمیشن کے ذریعے ڈی سیٹ کروادیا اور وہ ووٹ دینے سے محروم ہوگئے۔اس ایک ووٹ نے سابقہ گورنر کی اہلیہ کو سینٹ میں جانے سے روک دیا،اگر نیشنل پارٹی بھی ہمت کرتی تو موجودہ سینٹ میں نقشہ ہی بدل جاتا اور شاید موجودہ چیئرمین منتخب ہی نہیں ہوتے لیکن نیشنل پارٹی مصلحت کا شکار ہوگئی اور جرأت کا مظاہرہ نہ کرسکی۔

اب عمران خان کی حیرت انگیز اور ہوش رُبا پریس کانفرنس نے خطرناک سیاسی بھونچال پیدا کردیا ہے، انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی پارٹی کے جن ارکان نے سینٹ میں ووٹ فروخت کئے ہیں،انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا ہے اورپارٹی نے انہیں شوکاز نوٹس جاری کررکھے ہیں ، اگر اُن کا جواب نہ آیا تو اُن کے نام نیب کو دے دیئے جائیں گے، باقی جماعتوں کے بکنے والوں کے نام بھی ہمارے پاس ہیں اورکہا کہ 40 سال سے ووٹ بکتے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نہ بکنے والے اراکین کوخراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ یہ رپورٹ پارٹی نے اجلاس کے دوران پیش کی۔ اس رپورٹ میں پارٹی کے ان تمام اراکین کے نام تھے، جنہوں نے ووٹ بیچے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 30ارکان کو رقم کی پیش کش ہوئی تھی،ان میں سے 15ارکان نے ووٹ فروخت کئے۔ اس انتخاب میں پی ٹی آئی، اے این پی اور قومی وطن پارٹی کے ارکان کو بھی رقم دی گئی،اس سارے عمل میں ایک ارب 20کروڑ روپے تقسیم کئے گئے،پارٹی کے ارکان نے 60کروڑ روپے وصول کئے۔ 27فروری کو خیبرپختونخوا کے 3ارکان نے 11کروڑ 40لاکھ وصول کئے، 28فروری کو5ارکان اسمبلی نے 4,4کروڑ روپے وصول کئے،جبکہ یکم اور 2مارچ کو 6ارکان نے 3,3 کروڑ لئے اس کے علاوہ 2مارچ کو اسلام آباد میں خاتون رکن نے 3کروڑ روپے لینے سے انکار کیا اور 5کروڑ کا مطالبہ کیا، اسے 4کروڑ کی پیش کی گئی۔

اسی اجلاس میں عمران خان نے اعلان کیا کہ 20ارکان کو پی ٹی آئی سے نکال رہا ہوں، ان کو شوکاز نوٹس جاری کئے جارہے ہیں ان کا جواب آیا تو ان کے نام نیب بھیج دیئے جائیں گے، تاکہ ان کے بینک اکاؤنٹ چیک کئے جائیں۔ اجلاس میں بتلایا گیا کہ ووٹ فروخت کرنے والوں میں نرگس علی، وینا ناز، نگینہ خان، عبید مایار، زاہد درانی، عبدالحق، قربان خان، امجد آفریدی، عارف یوسف، جاوید نسیم، یاسمین خلیل، فیصل زمان، سمیع علی، معراج ہمایوں، قانون بی بی، بابر سلیم اور وجہہ الدین شامل ہیں۔ اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان نے سینٹ کے چیئرمین کے بارے میں جو کچھ کہا تھا، اس کی تصدیق تو عمران خان نے کردیہے۔ عمران خان نے بڑی فراخدلی سے انتخاب سے قبل اعلان کیا ہے کہ ہمارے ممبران اپنے ووٹ بلوچستان کے سنحرانی کو دیں گے، سنجرانی نے چیئرمین سینٹ کا انتخاب جیت لیا ہے لیکن اب اس اعلان کے بعد سینٹ کی کیا اخلاقی حیثیت رہ گئی ہے۔ اس ہوش ربا انکشاف کے بعد وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بالکل درست کہا ہے کہ ’’بکے ہوئے ووٹوں سے منتخب سینیٹرز کا کیا مستقبل ہوگا اور یہ کہ سینٹ الیکشن کا سارا عمل ابتداء ہی سے غلط تھا ،لہٰذا بتایا جائے کہ ان ووٹوں سے منتخب ہونے والے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا کیا بنے گا اور کیا اس سینٹ الیکشن کا سارا عمل ہی شروع سے غلط تھا۔

پی ٹی آئی کے سربراہ کے اس بیان کے بعد تو سینٹ الیکشن کا سارا عمل ہی غلط ثابت ہوگیا ہے۔

جمعیت نے الگ کمیٹی قائم کی مگر اس کی رپورٹ ندارد۔ بلوچستان میں سینٹ کے انتخاب سے قبل مختلف سیاسی حلقوں میں یہی چہ مگوئیاں ہورہی تھیں کہ خریدار ووٹ خریدنے آگیا ہے اور سیاسی حلقے حیران تھے کہ یہ خریدار کون ہے اورکہاں سے آگیا ہے؟ یہ راز بعد میں کھل گیا اور صوبائی اسمبلی میں ممبران نے سینٹ کے انتخاب کے موقع پر اپنی پارٹی سے بے وفائی کی ہے، لیکن جو جرات عمران کی پارٹی اور ان کے قائد نے دکھلائی ہے، وہ قابل تعریف ہے اور ایسا ہی کھیل پی پی پی نے صوبہ سندھ میں کھیلا ہے۔ اب راز کے فاش ہونے کے بعد حالیہ سینیٹ کا انتخاب نہ صرف مشکوک ہو گیا ہے، بلکہ اس کی قانونی اور اخلاقی حیثیت بھی ختم ہو کر رہ گئی ہے،لہٰذا سپریم کورٹ کو اس کا فوری طور سوموٹو نوٹس لینا چاہیے اور اس انتخاب کو کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سیاست میں کرپشن کے کاروبار کا خاتمہ کر دیا جائے اور سینٹ میں انتخاب کے موقع پر ہاتھ کھڑا کرکے ووٹ ڈالنے کا طریقہ اختیار کیا جائے، مگر اس سے قبل حالیہ سینٹ کے انتخاب کو کالعدم قرار دے کر از سر نو انتخاب کرایا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -