امتحانی نظام اور اُستادوں کی اُستادیاں

امتحانی نظام اور اُستادوں کی اُستادیاں
امتحانی نظام اور اُستادوں کی اُستادیاں

  



ہمارے بچپن میں ہر اخبار کا ایک صفحہ قارئین کی ڈاک کے لئے مخصوص تھا ، جس پر جلی حروف میں درج ہوتا کہ ایڈیٹر کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔ اب دیکھتے ہی دیکھتے خطوط کا صفحہ کالم نویسوں کے قبضہ گروپ نے ہتھیا لیا ہے ۔ سنجیدہ کالم ، رنجیدہ کالم ، تجزیاتی کالم ، تاثراتی کالم ، علامتی کالم ، ملامتی کالم ۔ اِس میں ایڈیٹر تو ایک طرف ، کالم نویس کا خود اپنی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔ چنانچہ اب یہ نثری شاعری بحر کی بجائے لہر میں کی جاتی ہے ۔ میرا پسندیدہ انگریزی روزنامہ تاحال اِس سے مستثنیٰ ہے ۔ یقین نہ آئے تو آج سے دو دن پہلے ملتان کے عاصم غفار صاحب کا وہ مراسلہ پڑھ لیجئے جس میں انہوں نے صوبہء پنجاب کے تعلیمی اداروں میں سمسٹر سسٹم ترک کر کے دوبارہ سالانہ امتحانات رائج کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اِس کے حق میں دلائل بھی دئے ہیں ۔

سب سے نمایاں دلیل یہ کہ موجودہ نظام کے ہوتے ہوئے اساتذہ بے انصافی کی حد تک با اختیار ہو گئے ہیں ، جس کا ناجائز فائدہ اٹھایا جا رہا ہے ۔ چنانچہ مراسلہ نگار کا کہنا ہے کہ ایک یونیورسٹی کے پرچے چیک ہونے کے لئے کسی دوسری یونیورسٹی کے ممتحن کے پاس بھیج دئے جائیں تو انصاف کے تقاضے پورے ہو جائیں گے ۔ بظاہر یہ ایک معقول ، حقیقت پسندانہ اور قابلِ عمل تجویز ہے ، لیکن اگر اِس پر عملدرآمد ہو گیا تو ہم اُن مقبولِ عام خصلتوں کا کیا کریں گے جو ایک طویل اور نامحسوس ارتقا کے نتیجے میں انسانی مزاج کا حصہ بنی ہوئی ہیں ۔ یہ پیچیدگی زمانہء حال یا صوبہء پنجاب تک محدود نہیں ۔ پنجاب سے بہت دُور عظیم تر برطانیہ کے بارسوخ سیاسی رہنما سر ونسٹن چرچل نے اب سے ایک صدی قبل اپنی تعلیمی آزمائشوں کے لئے ’’امتحانات کے نامہربان ساحل‘‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی ۔

ونسٹن چرچل نالائق طالب علم مگر ذہین سیاستدان تھے ، سو تعلیمی امتحانات کے ساحل سے دوسری عالمی جنگ کا دریا عبور کر کے دو مرتبہ وزارتِ عظمی کی منزل تک جا پہنچے ۔ اُن کے والد نے بہت پہلے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ بیٹا یونیورسٹی تعلیم کے قابل نہیں بلکہ اِس نوجوان کو فوج میں کمیشن بھی دو مرتبہ ناکام ہونے کے بعد ملا تھا ۔ خود چرچل نے ’میری ابتدائی زندگی ‘ کے زیرِ عنوان ہَیرو پبلک اسکول میں داخلہ ٹیسٹ کا واقعہ مزے لے لے کر بیان کیا ہے ، جب پہلے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے امتحانیِ شیٹ پر نمبر لکھا ’ ایک‘ اور کافی غور و خوض کر کے بھی اِس ہندسے کے گرد صرف بریکٹ کا اضافہ کر سکے ۔ پھر پتا نہیں کاغذ پر سیاہی کے کچھ چھینٹے کیسے نمودار ہو گئے جنہیں دیکھ کر ہیڈ ماسٹر مسٹر ویلڈن نے فیصلہ کر لیا کہ لڑکے کو ضرور داخلہ ملنا چاہیے ۔ یہ سمسٹر سسٹم سے بہت پہلے کی بات ہے ۔

چرچل کے داخلے میں اُن کے خاندانی اثر و رسوخ کو دخل رہا ہوگا ۔ خود مَیں سیالکوٹ میونسپل کمیٹی کے اسکول میں تین ماہ کے اندر اندر دوسری سے تیسری جماعت میں کیسے پہنچا ، یہ تجربہ بھی سبق آموز ہے ۔ مجھ سمیت اُس سال ڈبل پروموشن لینے والے کُل تین لڑکے تھے ۔ ماسٹر و زیر چند نے ، جو تقسیم کے وقت ہندوستان جانے کی بجائے یہیں رہ گئے تھے ، کسی وجہ سے جغرافیہ کے مضمون میں میرا امتحان نہ لیا ۔ ابا کو پتا چلا تو اسکول گئے اور چیلنج دیا کہ آپ اِس سے اخبار پڑھوا کر دیکھیں ۔ عجیب بات کہ اخبار کی سُرخیاں سنتے ہی جغرافیہ میں دس میں سے چار کی بجائے نو نمبر لگا دئے گئے ۔ اگلے دن البتہ ماسٹر صاحب نے تینوں لڑکوں سے کہا کہ ایک ایک روپیہ لے کر آنا ، نہیں تو فی کس پاؤ بھر مٹھائی ۔ ماسٹر صاحب بھی چونکہ بندہ بشر تھے ، اِس لئے سبھی نے چپکے سے اُن کی بشریت کا تقاضا پورا کر دیا ۔

اِس سے آگے کے اہم امتحانات تو پبلک ایگزامینیشن تھے ۔ چنانچہ دسویں جماعت میں کوئی لطیفہ نہ ہوا ، بس نتیجہ نکلا تو ابتدائی اندازوں کے بر عکس بندے کی کارکردگی اطہر علی ، اجمل علوی اور عزیز ’بھوسہ منڈی‘ کے مقابلے میں بہتر رہی اور اِس کا خوب چرچا ہوا ۔ ہمارا انٹرمیڈیٹ کا امتحان ہوا تو سرگودھا بورڈ کو قائم ہوئے ابھی دوسرا سال تھا ۔ کیا حیران کُن رزلٹ نکلا ہے میرا کہ انگریزی میں ستر فیصد مارکس (اور اوس زمانے وچ!) جبکہ باقی چاروں مضامین میں ایک سو تئیس تئیس ، نہ ایک نمبر کم نہ زیادہ ۔ اُس دَور میں ٹی وی پہ ٹِکر نہیں چلتے تھے ۔ یہ افواہ البتہ گردش کرتی رہی کہ بورڈ کی عمارت میں کچھ حل شدہ پرچے بارش میں بھیگ گئے ہیں ۔ برسوں بعد ایک محفل میں سرگودھا بورڈ کے اولین سیکرٹری راجہ غالب احمد کے سامنے یہ قصہ چھیڑا تو انہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا ’’ممکن ہے بارش کے بارے میں آپ کی اطلاع درست ہو‘‘ ۔

اِس جواب سے شہہ پا کر جو واقعہ بیان کرنے لگا ہوں ، اُس سے مزا لینے کے لئے ممتاز صحافی اور ابتدائی زندگی میں انکم ٹیکس آفیسر خالد حسن کا وہ تاریخی جملہ سننا پڑے گا جو ٹھیک ساٹھ سال پہلے پبلک سروس کمیشن کے سامنے اُن سے سرزد ہوا تھا ۔ نہایت دلچسپ انٹرویو کے دوران جو پاکستان بھر میں ہمارے امیدوار کی اول پوزیشن پہ منتج ہوا ، سیلیکشن کمیٹی کے رکن اور گورنمنٹ کالج لاہور کے دیو مالائی پرنسپل پروفیسر سراج الدین نے ایم اے انگریزی میں اُن کے کم نمبروں پہ حیرت ظاہر کی تھی ۔ خالد نے برجستہ کہا ’’پنجاب میں فرسٹ اور سیکنڈ کلاس ڈگریاں ہمیشہ لاہور کے دو تعلیمی اداروں میں تقسیم کر دی جاتی ہیں ۔ میری بدقسمتی کہ مَیں نے ایم اے کا امتحان ملک کے ایک دور افتادہ کونے سے مرے کالج کے طالب علم کے طور پہ دیا ‘‘ ۔ اگلے جملے کا مفہوم یہ تھا کہ باقی بات آپ خود سمجھ جائیں ۔

پروفیسر سراج الدین کا کمال یہ ہے کہ بقول غالب ’’گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا‘‘ اور کوئی انتقامی کارروائی نہ کی ۔ خود مجھے لاہور کے مذکورہ اداروں میں سے ایک کے طالب علم کے طور پہ پورا تعلیمی سال گزارنے کا موقع ملا تھا ۔ بعد ازاں بحیثیت استاد وابستگی کا تجربہ بھی اُس زمانے میں بہت خوشگوار رہا جب بورڈ اور یونیورسٹی کا امتحان دو سال مکمل ہونے پہ دیا جاتا ۔ تو آپ پوچھیں گے کہ اگر تم نے ایم اے کا فائنل امتحان گورڈن کالج راولپنڈی سے دیا تو اِس پہ تکلیف کیا ہے ۔ سوال اِس لئے وزن رکھتا ہے کہ راولپنڈی وفاقی دارالحکومت کا جڑواں شہر ہے جو میرے آبائی ضلع جتنا دور افتادہ نہیں ۔ دوسرے گورڈن کالج تو سیالکوٹ والے اسکاچ مشن کے ماتحت نہیں بلکہ امریکہ کے یونائیٹڈ پرسبی ٹیرین چرچ سے منسلک تھا ، جس سے وابستہ فرسٹ اور سیکنڈ کلاس ڈگریاں بانٹنے والا ایک لاہوری کالج اب چارٹرڈ یونیورسٹی ہے ۔

سمسٹر سسٹم اور دو سالہ امتحانات کی بحث میں میرے پاس دلائل کی کمی ہے ۔ چنانچہ کسی بھی نظام میں بشریت کے تقاضے کیا کردار ادا کرتے ہیں ، یہ سمجھانے کے لئے ایک بار پھر صرف اپنی ہڈبیتی کو منطق کی بنیاد بناؤں گا ۔ مائینڈ نہ کیجئے کہ میری یہ مثال بھی سرگودھا کی بارش والے واقعے سے ملتی جلتی ہے ۔ فرق صرف یہ کہ جب راولپنڈی سے ایم اے انگریزی دیا تو بارش صرف کلاسیکل پوئٹری والے دن ہوئی جبکہ نتیجے کی دھلائی ایک اور پرچے میں ہو گئی ۔ خدا جانتا ہے کہ میرا سب سے اچھا پرچہ ادبی تنقید کا ہوا تھا اور میرے سب سے کم نمبر ادبی تنقید میں آئے ۔ بیرونِ لاہور کے امیدواروں کو کچھ پتا نہیں ہوتا تھا کہ پرچے کس نے بنائے اور کس نے دیکھے ۔ پر آج بھی مذکورہ امتحانی اسکرپٹ نکال کر کسی لائق اور دیانتدار ممتحن کو دکھائے جائیں تو وہ بلا لحاظِ عمر کہے گا ’’بیٹا ، بہت اچھا ‘‘ ۔

تو کیا اب یہ فرض کر لیا جائے کہ یہ کالم نویس امتحانی نظام کے مقدمے میں ہائی کورٹ کے جج صاحبان کی طرح لارجر بینچ تشکیل دینے کی سفار ش کر رہا ہے ؟ چلئے یونہی سہی لیکن حتمی فیصلے سے پہلے کوئی عبوری عدالتی حکم تو جاری کیا جا سکتا ہے ۔ جیسے یہی کہ جب تک سمسٹر سسٹم چل رہا ہے ہم ایک تجربہ کرکے دیکھیں ۔ وہ ہے ایک تسلسل سے لگے بندھے موضوعات اور اُن کے کچھ غیر روایتی پہلوؤں پر تحریری مشقیں کرانے اور اُن کی تصحیح کرنے کی کاوش ، تاکہ ہم طے شدہ نصابی ضرورتوں کا خیال رکھ سکیں اور ساتھ ہی طالب علم کاپی پیسٹ کی بجائے اپنی تخلیقی سوچ سے کام بھی لے ۔ ایک سرکاری یونیورسٹی میں یہ تجربہ دہراتے ہوئے اب مجھے تیسرا سال ہے اور اِس دوران میرے اختیاری مضمون کے اسٹوڈنٹس کی تعداد اِس پراپیگنڈے کی روشنی میں کم ہو رہی ہے کہ یہ لکھنے کا کام بہت کراتے ہیں اور نمبر کَس کے دیتے ہیں ۔ پھر بھی بطور مدرس مقبولیت کا گراف گرنے کا تجربہ اتنا حوصلہ شکن نہیں جتنا امتحانی امیدوار کے طور پہ تھا۔

مزید : رائے /کالم