علامہ اقبالؒ کے مذہبی عقائد-ایک جائزہ

علامہ اقبالؒ کے مذہبی عقائد-ایک جائزہ

  

پروفیسر حلیمہ سعدیہ

افکارِ اقبالؒ کے غائر مطالعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اُنہوں نے توحید پر کامل ایمان کو وحدت اسلامی کا مؤثر تر ین وسیلہ قرار دیا ہے۔ اُنہوں نے اسلام کو ایک مکمل ضابطہئ حیات تسلیم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ملت اسلامیہ‘قرآن پاک میں تدبر کرے کیونکہ قرآن نے وحدت کا وہ پیغام دیا ہے جو تاابد اذہان کی تطہیر و تنویر کا مؤثر ترین وسیلہ ثابت ہوگا۔

توحید و رسالت وہ اہم ذرائع ہیں جن کی بدولت وحدت اسلامی کا نصب العین حاصل ہوسکتا ہے۔علامہ اقبالؒ نے عقائد کے عملی پہلوؤں کو زیادہ پیش نظر رکھا۔ اُنہوں نے اپنے پیغام کے ذریعے قوم کو حرکت و عمل کاپیغام دیا۔ان کے افکار‘ اسلامی تعلیمات سے کامل ہم آہنگی کے مظہر ہیں۔ یہاں یہ پہلو بھی اہم ہے کہ اقبالؒ حریت فکر کو تو تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں مگر لادینیت اور الحاد پر مبنی باطل تصورات کو ہدفِ تنقید بنا تے ہیں اور ایسے خیالات کو شیطانی قرار دیتے ہیں۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم لکھتے ہیں:

”اقبالؒ موحد ہے اور توحید میں کسی قسم کے اشتراک کو گوارا نہیں کرتا۔ مسلمانوں میں بعد میں وحدت وجود اور وحدت شہود کی بحثیں چھڑ گئیں‘ اقبالؒ کے نزدیک یہ بحثیں دینی بحثیں نہیں بلکہ فلسفیانہ مسائل و مباحث ہیں۔ اسلام میں توحید کے مقابلے میں فقط شرک ہے۔“

اقبالؒ قرآنِ کریم کی تعلیمات کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔ان کے قرآن پاک کے حوالے سے جو خیالات تھے‘ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم ان پر یوں بحث کرتے ہیں:-

”اقبالؒ قرآنِ کریم کو دین کی ایک مکمل کتاب سمجھتے ہیں …… ان کا عقیدہ یہ ہے کہ صحیح اور مستنداحادیث مقاصدِ اسلام اور مقاصدِ قرآن کو واضح کرتی ہیں اور خاص حالات پر اسلامی عقائد کا اطلاق کرتی ہیں‘ لیکن جہاں تک اصول اور اساس اسلام کا تعلق ہے‘ قرآن پاک سے باہر جانے کی ضرورت نہیں‘ احادیث کی صداقت اور صحت کا معیار بھی قرآن پاک ہی ہے۔“ (خلیفہ عبدالحکیم‘ ڈاکٹر‘ فکرِ اقبالؒ1983ء ص 99، بزم اقبال‘ لاہور) 

علامہ اقبالؒ نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ انسانی زندگی کے ہر دور میں قرآن پاک میں انسانوں کی راہنمائی کی اہلیت بدرجہ ئ اتم  موجود ہے اور قرآن کے اساسی حقائق کبھی دفتر پارینہ نہ بنیں گے۔

علامہ اقبالؒ کا تصور یہ تھا کہ ملت اسلامیہ کے لئے قرآن‘ آئین حیات کا اور اخلاق محمدیؐ،اسوہئ زندگی کا کام دیتا ہے۔ قرآنی آئین پر عمل کرنے سے انسانی سیرت میں پختگی اور سنت نبویﷺ کی پیروی سے حسن اور دلکشی پیدا ہوتی ہے۔ اقبالؒ نے رسالتﷺ کو مثالی خودی کا ایک نمونہ اور پیکر بنا کر پیش کیا ہے۔انہیں نہ صرف رسولِ کریمﷺ کی نبوت پر اعتماد تھا بلکہ انہیں نبی کریم ﷺ کے ساتھ انتہا درجہ کا عشق تھا۔ حضورﷺ کے ذکر مبارک پر اقبالؒ کی آنکھیں شدت جذبات سے اشک آلود ہوجاتی تھیں۔ اُنہوں نے ”ارمغانِ حجاز“ میں ایک مستقل عنوان ”حضورِ رسالتﷺ“ کا قائم کیا ہے۔ ان میں جو قطعات لکھے ہیں۔ اِن سے ان کی اس محبت اور عقیدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جو انہیں حضورﷺ سے تھی۔

بہترین انسان بننے کے لئے قرآن مجید میں انسانوں کو یہ کہہ کر رسولِ کریمﷺ کی پیروی کرنے کے لئے کہا گیا کہ تمہارے لئے رسول کریمﷺ کی سیرت میں بہترین نمونہ ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اخلاق عالیہ کے اعتبار سے حضورﷺ کامل ترین انسان ہیں۔ گویا توحید کے بعد رسالت پر صحیح معنوں میں ایمان رکھنے سے انسان ”مومن“ بنتا ہے۔ مومنین کے لئے خدا اور رسولﷺ کی ذات سے بے پناہ عشق ضروری ہے۔ گویا مومن کو عاشق ذات الٰہی اور عاشقِ رسولﷺ ہونا چاہیے۔

علامہ اقبالؒ توحید پر ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ سچے عاشق رسولؐ بھی تھے اور رسولﷺ سے عشق نہ صرف ان کے کلام میں نظر آتا ہے بلکہ علامہ اقبالؒ نے عالم انسانی کو جو پیغام دیا وہ بھی امت مسلمہ کا اتحاد اور رسولؐ سے عشق ہے۔ 

علامہ اقبالؒ کا تصور مردِ مومن درحقیقت حضورﷺ کی ذاتِ گرامی کی عمدہ صفات پر ہی مبنی ہے۔

علامہ اقبالؒ نے رسول کریمﷺ کی ثنایوں کی ہے    ؎

وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے  غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا

 نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر 

وہی قرآں‘ وہی فرقاں‘ وہی ےٰسین وہی طٰہٰ“

علامہ اقبالؒ کو نبوت پر جو اعتقاد تھا اس کی وجہ سے وہ ان احادیث کو بھی بلا تامل قبول کرلیتے تھے۔ جس میں حضورﷺ کے کسی معجزے کا ذکر ہوتا۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے ان کے سامنے بڑے تعجب کے ساتھ حضرت ابو سعید خدریؓ سے مردی اس حدیث کا ذکر کیا جس میں بیان ہوا ہے کہ رسول کریمﷺ اصحابِ ثلاثہ کے ساتھ احد پر تشریف رکھتے تھے۔اتنے میں احد لرزنے لگا حضورﷺ نے فرمایا کہ ٹھہر جا تیرے اوپر ایک نبیﷺ ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا کوئی نہیں ہے۔ اس پر پہاڑ ساکن ہوگیا۔ اقبالؒ نے حدیث سنتے ہی کہا کہ اس میں اچنبھے کی کون سی بات ہے۔ میں اس کو استغارہ و مجاز نہیں‘ بالکل ایک مادی حقیقت سمجھتا ہوں اور میرے نزدیک اس کے لئے کسی تاویل کی حاجت نہیں۔

امتِ مسلمہ میں ملا اور صوفی کے دو دو گروہ ایک عرصہ سے چلے آ رہے ہیں۔ علامہ اقبالؒ ان دونوں سے بیزار تھے۔ کیونکہ ان کے دل میں یہ تڑپ تھی کہ مسلمانوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے ایک طبقہ پیدا ہو لیکن اس کے لیے اہلِ دل اور اہلِ علم افراد درکار ہیں۔ خلیفہ عبدالحکیم کے خیال میں تو اقبالؒ ملّا اور صوفی کے ساتھ ساتھ بعض فلسفیوں سے بھی بیزار تھے۔ 

تصوف کے بارے میں علامہ اقبالؒنے اپنے انگریزی خطبات میں بھی یہ بات کہی ہے کہ روحانی وجدان حاصل کرنے کے لیے اب صوفیوں کے قدیم سلسلے کارآمد نہیں رہے     ؎

تری طبیعت ہے اور تیرا زمانہ ہے اور 

تیرے موافق نہیں خانقہی سلسلہ

علامہ اقبالؒ کو تصوف کے ان نظریات سے شدید اختلاف تھا کہ جو انسان کو ترک دنیا پر آمادہ کرتے ہیں۔ 

علامہ اقبالؒ کے نزدیک اسلام سراپا حرکت ہے اور ہمہ سمتی جدوجہد کا نام ہے لیکن تصوف کے بعض عقائد انسان کو بے عملی کی طرف راغب کرتے ہیں۔ چنانچہ اقبالؒ کو اس کا افسوس تھا کہ بعض متقدمین نے تصوف کو خراب کیا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ علامہ اقبالؒ تصوف کے ان عقائد و نظریات کے بھی مخالف تھے جو مثبت اثرات کے حامل تھے بلکہ علامہ اقبالؒ خود سلسلہئ قادریہ سے بیعت تھے اور انہوں نے ایک خط میں اس کا ذکر بھی کیا۔  لیکن وہ تصوف کے بعض منفی رجحانات سے مسلمانوں کو بچانا چاہتے تھے۔ ”اسلام“ کی نسبت اقبالؒ کے افکار حکیمانہ میں وہ اسلام کو ایک عالم گیر مذہب قرار دیتے ہیں جو قانونِ فطرت کی طرح تمام انسانوں کی زندگی پر حاوی ہے اور جہاں تک علامہ اقبالؒ کے ہاں ”ملتِ اسلامیہ“ کے تصور کا تعلق ہے انہوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو ایک عالم گیر ملت کی حیثیت سے اقوامِ عالم کے سامنے پیش کیا اور توحید پر کامل ایمان کو وحدت اسلامی کا موثر ترین وسیلہ قرار دیا۔ 

انہوں نے اسلام کو ایک مکمل ضابطہئ حیات تسلیم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دل و نگاہ میں تسلیم کا جذبہ پیدا کیا جائے تاکہ ایسی سوچ پروان چڑھ سکے جو قومی یکجہتی کی راہ ہموار کرے۔ علامہ اقبالؒ نے ملتِ اسلامیہ کو قرآن پاک میں تدبر کی تلقین کی ہے۔ 

”دعا“ کے متعلق علامہ اقبالؒ کے نظریات ان کے تیسرے خطبے بعنوان ”خدا کا تصور اور دعا کا مفہوم“ میں وضاحت سے ملتے ہیں۔ اس خطبے میں ایک مقام پروہ ”دعا“ کے حوالے سے کہتے ہیں۔ 

”……نفسیاتی حوالے سے بات کی جائے تو دعا اپنی اصل میں جبلی ہے‘ علم کے مقاصد کے حوالے سے دعا کرنے کا عمل تفکر ہے یہاں تک کہ دعا اپنی انتہا میں مجرد تفکر سے بڑھ کر ہے“۔ (شمارہ اقبالیات-جولائی‘ستمبر1996ء صفحہ81، اقبال اکادمی پاکستان، لاہور)

اِسی خطبے میں دعا ہی کے حوالے سے مزید فرماتے ہیں: -

”دعا روحانی تابندگی کے لیے ایک معمول کا عمل ہے جس کے ذریعے ہماری شخصیت کا چھوٹا سا جزیرہ زندگی کے بڑے کل میں اپنا مقام پا لیتا ہے۔“

علامہ اقبالؒ کا عقیدہ تھا کہ یہ دعا یا عبادت کا حقیقی مقصد اس وقت بہتر طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے جب دعا میں اجتماعیت کی شان پیدا ہو۔ ہر سچی دعا کی روح عمرانی ہے۔ حتیٰ کہ وہ تارک الدنیا راہب جو انسانی معاشرے سے قطع تعلق کر لیتا ہے وہ بھی امید رکھتا ہے کہ اسے عبادت کے ذریعے خدا کی قربت نصیب ہو۔ 

اپنے تیسرے خطبے میں ایک مقام پرعلامہ اقبالؒ دعا کے بارے میں لکھتے ہیں: -

”یقینا ایک نفسیاتی مظہر کی حیثیت سے دعا ابھی تک ایک راز ہے…… اسلام کے لیے اجتماعی دعا سے روحانی تابندگی کا عمرانی پہلو خصوصی دلچسپی رکھتا ہے۔“

عبادت کو علامہ اقبالؒ بہت اہمیت دیتے تھے اور اجتماعی عبادت سے مثبت اثرات کے قائل تھے۔ اس حوالے سے ان کا خیال تھا کہ: -

”اسلامی عبادت میں ایک خاص سمت کا چناؤ اجتماع کے احساسات میں یک جہتی یا وحدت کے تحفظ کے لیے ہے اور اس کی شکل   لوگوں میں سماجی مساوات کے احساس کی پرورش کرتی ہے اور عبادت کرنے والوں میں رتبے اور نسل کے امتیاز کو مٹاتی ہے۔“

اقبالؒ کے فلسفے کی روح خودی ہے اور انسانی خودی کا وہ تصور جو انہوں نے پیش کیا اور اس کے لیے تقدیر کا وہ تصور جو ان کے ذہن میں تھا وہی موزوں ترین تصور تھا کیونکہ اگر اقبالؒ تقدیر کے اس تصور کے قائل نہ ہوتے جو انہوں نے خطبات میں پیش کیا ہے تو ان کا سارا فلسفہ بے مدار ہو جاتا ہے۔ تقدیر کا جو عمومی تصور ہے اس کے مطابق تو اثباتِ خودی اور تعمیرِ خودی ممکن ہی نہیں رہتی کیونکہ جب تک انسان اپنے خیر و شر کا مالک نہ ہو اور اپنے ارادے سے اپنی صلاحیتوں کو ترقی نہ دے سکے اس وقت تک خودی کی تکمیل کا سوال بے معنی ہے۔ 

اس لیے اقبالؒ نے اپنے خیال کی بنیا د ہی اس پر رکھی کہ انسان کا ارادہ پوری طرح آزاد ہے۔ وہ اس نتیجے پر استقلال سے نہیں بلکہ نفسیاتی انداز میں پہنچے۔ تقدیر کا روایتی تصور یہ ہے کہ ہمارے اعمال خدا کے ہاں پہلے ہی سے متعین ہوتے ہیں اور وہ ایک ایک کر کے غیب سے پردہئ ظہور میں آتے ہیں۔ تقدیر کا یہ تصور نفی خودی کی طرف راغب کرتا ہے۔ اس ضمن میں علامہ اقبالؒ کے اپنے کلمات یہ ہیں: 

”قرآن مجید نے باربار تقدیر کی طرف اشارہ کیا ہے لہٰذا ہمیں تقدیر کے مسئلے پر بھی غور کر لینا چاہیے بالخصوص اس لیے کہ ”زوالِ مغرب“ میں اسپنگلر نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ اسلام خودی کی نفی کا خواہشمند ہے۔“

پروفیسر محمد منور کہتے ہیں: 

”حضرت علامہؒ نے تقدیر کی اس تعبیر سے سخت اختلاف کیا ہے جسے عرفِ عام میں قسمت کہا جاتا ہے………… تقدیر کی اس عام اور مروّج تعبیر کا مفہوم تو یہ ہوا کہ آدمی دنیا کے میدانِ عمل میں وارد ہو کر بھی آزادیئ عمل کا حق نہیں رکھتا………… یہ وہ کیفیت ہے جسے ’ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فرد ا“ ہونا قرار دیا جائے گا اور اسی کیفیت کا پیدا کردہ رویہ یہ تھا کہ مسلم ملت ”تن بہ تقدیر“ ہو کر بیٹھی رہی اور مغرب کی مادہ پرست قوموں نے اٹھ کر ان کا چارج سنبھال لیا۔“

دوسرے خطبے میں علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں: 

”ہم اس (کائنات)کو موجودہ کہتے ہیں تو ان معنوں میں کہ وہ ایک غیر معین امکان ہے چنانچہ بطور ایک ”نامی کل“ زمانے کا یہی تصور ہے جس کو قرآن پاک نے تقدیر سے تعبیر کیا ہے لیکن جس کو نہ اسلامی دنیا ٹھیک ٹھیک سمجھ سکی نہ غیر اسلامی دنیا۔ دراصل تقدیر عبادت ہے اس زمانے سے جس کا انکشاف ابھی باقی ہے“۔ 

علامہ اقبالؒ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی ”تن بہ تقدیر“ صورتِ حال پر بہت رنجیدہ ہوتے تھے اور اُن کا خیال یہ تھا کہ اگر افرادِ معاشرہ اپنی جگہ پست ہمت اور کج بیس ہیں تو پورا معاشرہ پست ہمت اور کج بیس ہوگا اور اس نظریئے کے قائل تھے کہ یہ ممکن نہیں کہ کسی قوم کے افراد کا حاوی عنصر زوال پذیر اور غیر معیاری ہو اور وہ قلیل تعداد کے قابل اور اہل افراد کے باعث فطرت کی جانب سے عائد کردہ اصولی سزا اور عقوبت سے بچ جائے۔ 

علامہ اقبالؒ نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ انسان اپنی کوشش سے اپنی تقدیر سنوار سکتا ہے۔ کوششِ پیہم اور راہِ عمل ہی سے انسان خود اپنی تقدیر بناتا ہے۔ 

علامہ اقبالؒ کا خیال یہ تھا کہ خاطر جبلت و خالقِ طبیعت سے ہر لمحہ ہدایت طلب کرتے رہنا اور بہتر تقدیر کے لئے دعا کرتے رہنا چاہیے۔ وہ بالِ جبریل میں کہتے ہیں:-

تری دعا سے فضا تو بدل نہیں سکتی

مگر ہے اس سے یہ ممکن کہ تو بدل جائے!

پروفیسر محمد منور نے علامہ اقبالؒ کے تصورِ تقدیر کا خلاصہ یوں بیان کیا ہے:-

”الغرض حضرتِ علامہ ؒ کے تصورِ تقدیر سے جو تلقین ہمیں حاصل ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ تقدیرات بہتر سے بہتر موجود ہیں لہٰذا بہتر سے بہتر کی طرف بڑھتے جائیے اور تبدیلی ئ تقدیر کے باب میں اللہ کے حضور دعاگو رہ کر توفیق طلب کرتے رہئے۔“

علامہ اقبالؒ کا خیال یہ تھا کہ قرآنی احکام کی پابندی میں انفرادیت کے ارتقا کے ساتھ اجتماعیت کا راز بھی مضمر ہے۔ کلامِ اقبال کے بغور مطالعے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ وہ قرآنی تعلیمات سے بے پناہ متاثر تھے اور ان کے فکر انگیز نظریات اور خیال افروز اشعار میں توحید

مزید :

ایڈیشن 1 -