آئی ایم ایف کی پاکستانی قرضوں، مہنگائی میں کمی کی پیشگوئی، 5سال میں قرضے کم ہو کر 73فیصد مہنگائی 4.8فیصد رہ جائیگی: رپورٹ

آئی ایم ایف کی پاکستانی قرضوں، مہنگائی میں کمی کی پیشگوئی، 5سال میں قرضے کم ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف) نے پاکستان کے قرضوں و مہنگائی میں کمی کی پیشگوئی کر دی۔آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق آئندہ سال 2021ء سے پاکستان کے قرضوں، مہنگائی میں کمی شروع ہو جائیگی، 5 سال میں قرضے 90 فیصد سے کم ہوکر جی ڈی پی کے 73 فیصد رہ جائیں گے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2021ء میں قرضے جی ڈی پی کے 87.8 فیصد ہوجائیں گے، مالی سال 2022ء میں قرضے جی ڈی پی کے 83.7 فیصد رہ جائیں گے، 2023ء میں قرضے کم ہوکر جی ڈی پی کے 80.8 فیصد ہو جائیں گے۔آئی ایم ایف کے مطابق 2024ء تک قرضے مزید کم ہوکر 77.4 فیصد رہ جائیں گے۔ 2025ء میں قرضے جی ڈی پی کے 73 فیصد رہ جائیں گے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 5 سال کے دوران مہنگائی 10.5 فیصد سے کم ہوکر 4.8 فیصد رہ جائیگی، مالی سال 2021ء میں مہنگائی کم ہوکر 9 فیصد ہوجا ئیگی۔آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ سال 2022ء میں مہنگائی کم ہوکر 8 فیصد رہ جائیگی، 2023 میں مہنگائی 6.1 فیصد تک کم ہوجائیگی۔ مالی سال 2024 میں مہنگائی کی شرح کم ہوکر 4.9 فیصد ہوجائیگی۔ 2025 میں مہنگائی کی شرح کم ہوکر 4.8 فیصد رہ جائیگی۔واضح رہے اس سے قبل عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ جاری کرتے ہوئے پاکستانی معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ جاری کرتے ہوئے آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ رواں سال پا کستا ن کی معاشی شرح نمو منفی 1.5 فیصد رہے گی، جس کے باعث پاکستان میں بے روزگاری اگلے دو سال مسلسل بڑھنے کا خدشہ ہے۔عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا تھا کہ پاکستان میں رواں سال بیروزگاری 4.5 فیصد، اگلے سال 5.1 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ پاکستان میں گزشتہ مالی سال بیروزگاری کی شرح 4.1 فیصد تھی۔آئی ایم ایف کا مزید کہنا تھا کہ موجو د ہ مالی سال مہنگائی 11.1 فیصد کی سطح پر رہنے کا امکان ہے، اگلے سال مہنگائی کم ہو کر 8 فیصد کے سنگل ہندسے پر آجائیگی۔عالمی ادارے کے مطابق اگلے سال معاشی شرح نمو میں بھی بہتری کی امید ہے۔ گروتھ 2 فیصد رہنے کا تخمینہ امسال کرنٹ اکاونٹ خسارہ 1.7 فیصد، اگلے سال 2. 4 فیصد رہے گا۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی پاکستان میں مقیم نمائندہ ٹریسا ڈبن نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کا پاکستان میں پیٹرولیم کی قیمتو ں میں کوئی عمل دخل نہیں، اگر حکومت پیٹرولیم لیوی کم نہیں کرتی تو یہ اس کا فیصلہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی پاکستان میں مقیم نمائندہ ٹریسا ڈبن کا سیمینار سے خطاب میں کہنا تھا دنیا کو کرونا وائرس کے باعث چیلنجز کا سامنا ہے، آئی ایم ایف اثرات سے نمٹنے کیلئے عالمی سطح پر 50 ارب ڈالر فراہم کرے گا۔ پاکستان نے کرونا کیخلاف بروقت اقدامات کیے ہیں، کرونا سے پہلے معا شی اصلاحات اور اقدامات کیے جارہے تھے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے بعد ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن تھی، پاکستان میں ٹیکس وصو لیوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔ کرونا وائرس کے بعد پاکستانی معاشی شرح نمو میں کمی متوقع ہے، رواں مالی سال افراط زر کی شرح 11.3 فیصد تک رہنے کا امکان ہے،جبکہ ملکی اخراجات میں 700 ارب روپے تک کا اضافہ، ٹیکس وصولیوں میں 900 ارب تک کمی متوقع ہے۔ٹریسا ڈبن کا کہنا تھا کہ کرونا سے نمٹنے کیلئے 1.4 ارب ڈالر قرض کی منظوری دی گئی، پاکستان کیلئے ریپڈ فنانس کی منظوری دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں رہتے ہوئے دوست ملکوں کے قرضے واپس کر سکتا ہے۔

آئی ایم ایف

مزید :

صفحہ اول -