لاک ڈاؤن کے اثرات، امریکی آئل مارکیٹ کریش، خام تیل تاریخ میں پہلی با ر منفی 37ڈالر بیرل پر پہنچ گیا

لاک ڈاؤن کے اثرات، امریکی آئل مارکیٹ کریش، خام تیل تاریخ میں پہلی با ر منفی ...

  

واشنگٹن)(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)امریکہ میں تیل پانی سے بھی سستا ہوگیا، امریکی آئل مارکیٹ کریش کر گئی جس کے بعد امریکی کروڈ آئل پہلی بار منفی میں چلا گیا، کینیڈا میں تیل کے کنوئیں بند کر دیئے گئے۔امریکی کروڈ آئل پہلی بار منفی میں چلا گیا۔جس کے بعد پاکستان میں بھی لوگوں نے پٹرول 50 روپے لٹر پر آنے کی امید لگالی امریکا میں خام تیل کی مارکیٹ کریش کرگئی اور امریکی تاریخ میں پہلی بار خام تیل کی فی بیرل (158 لیٹر) قیمت صفر سے بھی کم ہوکر منفی 37.6 ڈالر فی بیرل پر چلی گئی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کے باعث جہاں دنیا بھر کی معیشتیں بدحالی کا شکار ہورہی ہیں وہیں عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو شدید جھٹکا لگا ہے جس کے باعث امریکی کروڈ آئل کی مارکیٹ کریش کرگئی۔ امریکی خام تیل کی قیمت چند گھنٹوں میں مسلسل کم ہوتے ہوئے منفی ہوگئی اور ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت منفی 37.6 ڈالرہونے پر مارکیٹ بند کردی گئی ۔تیل کی قیمتوں میں اس بدترین مندی کے بعد امریکا میں تیل کی خریداری کے لیے ہونے والے مئی کے معاہدے بند ہوگئے اور امریکہ کی تمام بڑی تیل کمپنیاں بند ہونے کے قریب پہنچ گئیں۔۔دوسری جانب برینٹ کروڈ آئل 25.62 ڈالر فی بیرل کی سطح پر مستحکم ہے جب کہ عالمی گیس کی قیمت 6 فیصد اضافے سے 1 ڈالر 87 سینٹ پر موجود ہے۔ کینیڈین خام تیل کی قیمت بھی ایک ڈالر فی بیرل سے کم ہوگئی ہے جس کے بعد کینیڈا میں تیل کی پیداوار بند کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیاہے،۔خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی آئل کمپنیاں تیل ذخیرہ کرنے کے لیے پیسے دینے پر مجبور ہو گئیں، 1983ء کے بعد کسی بھی تیل کی قیمت پہلی بار صفر سے نیچے چلی گئی ہیماہرین کے مطابقککرونا کی وجہ سے عالمی ٹرانسپورٹ بند ہے اور پیٹرول کی طلب کم ہوگئی ہے، ڈیمانڈ کم اور سپلائی زیادہ ہونے سے سب سے زیادہ نقصان امریکن آئل کمپنی شیل کو ہوگا،کرونا کی وجہ سے عالمی معیشت کے مزید گراوٹ کے شکار ہونے کا خدشہ ہے، اس وقت دنیا کی اکانومی 1929ء میں ہونے والی عالمی کساد بازاری کی طرف جارہی ہے۔ تیل کی ڈیمانڈ پوری دنیا میں انتہائی تیزی کے ساتھ کم ہوگئی ہے، ٹرانسپورٹ بند اور فیکٹریاں بند پڑی ہیں اس کا فائدہ ان ممالک کو پہنچے گا جو جتنا جلد لاک ڈاؤن ختم کرتے ہیں، اس میں آئل پروڈیوسرز کو بہت نقصان ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تیزی سے ختم ہورہی ہے جس کے باعث امریکا میں خام تیل کی قیمت 4 دہائیوں کی کم ترین سطح پر ا?گئی ہے ساتھ ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید کم ہورہی ہیں جس کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان ہے، اگر ایسا ہوتا ہے تو رمضان میں پھل، سبزیاں اور دیگر اجناس کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں کیوں کہ ان پر ٹرانسپورٹیشن کی لاگت کم ہوجائے گی۔۔دریں اثناء پاکستان میں عوام نے پٹرول پچاس روپے لٹر پر آنے کی امید لگالی ہے اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا مکمل فائدہ منتقل کرنے کا مطالبہ کر دیا۔پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے سے 25 روپے فی فی لیٹر تک کمی کا امکان ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت ڈیزل اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 15 روپے سے 25 روپے فی لٹر کمی کا اعلان کر دے تو رمضان میں پھل، سبزیاں اور دیگر اجناس کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں۔معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کو پٹرول اور ڈیزل کی فی لٹر قیمت میں 10 سے 25 روپے فی لٹر کمی کا اعلان کرنا چاہئے، حکومت کے اس اعلان سے ایک طرف تو محصولات میں اضافہ ہوگا جبکہ ڈیزل سستا ہونے سے "ٹرانسپورٹیشن کوسٹ" یا سامان کی نقل و حمل کی لاگت میں واضح کمی آنے کاامکان ہے جس سے پھل، سبزیاں اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں کم ہو جائیں گی اور ماہ رمضان میں عوام کو بڑا ریلف مل سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق کورونا وائرس سے صنعتی پیداوار متاثراور معیشت کو دھچکا پہنچا ہے، ایسے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہونا پاکستان جیسے آئل درآمد کرنے والے ممالک کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔

آئل مارکیٹ کریش

مزید :

صفحہ اول -