علماء اور مشائخ نے لاک ڈاؤن حکمت عملی کی مکمل حمایت کر دی، وزیراعظم کی گرفتار خطیب، آئمہ اور نمازیوں کو فوری رہا کرنے کی ہدایت

      علماء اور مشائخ نے لاک ڈاؤن حکمت عملی کی مکمل حمایت کر دی، وزیراعظم کی ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)ملک کے علما و مشائخ نے کورونا وائرس کے تناظر میں وزیراعظم عمران خان کی لاک ڈاؤن کی حکمت عملی کی مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے حفاظتی اقدامات کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد کا یقین دلایا۔ پیر کو وزیراعظم عمران سے اسلام آباد میں علما کے ایک وفد نے ملاقات کی اور انہیں حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے حفاظتی اقدامات کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد کا یقین دلایا۔مذکورہ وفد میں پیر امین الحسنات شاہ، پیر شمس الامین، پیر نقیب الرحمن، مولانا محمد حنیف جالندھری، مولانا طاہر محمود اشرفی، مولانا حامد الحق حقانی، حافظ غلام محمد سیالوی، علامہ راجا ناصر عباس، صاحبزادہ پیر سلطان فیاض حسین، مفتی مولانا سید چراغ دین شاہ اور مولانا ضیا اللہ شاہ شامل تھے۔ گورنر سندھ عمران اسمٰعیل، مفتی منیب الرحمٰن اور مفتی تقی عثمانی نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی، علاوہ ازیں علامہ شہنشاہ حسین نقوی بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔بعد ازاں اسلام آباد میں معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان اور وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے پریس کانفرنس کی۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم نے ملک میں کورونا وائرس سے متعلق حکومتی پابندیوں کی خلاف ورزی پر گرفتار کیے گئے خطیب، امام اور نمازیوں کو فوری طور پر رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کورونا کو پھیلاؤ سے بھی روکنا ہے اور اپنی زندگی کو بھی رواں دواں رکھنا ہے اور علما نے وزیراعظم کی اس سوچ کو خراج تحسین پیش کیا اور اسے اسلام دوستی اور انسان دوستی کا آئینہ دار قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں وزیراعظم کی جانب سے مساجد کو کھولنا اور اللہ کے گھر کو آباد رکھنا اور وہاں عبادت اور دعاؤں کے ذریعے کورونا کے خلاف جہاد کا آغاز مساجد سے کرنا یہ ایسی ذمہ داری ہے جس کی پورے پاکستان اور عالم اسلام میں کہیں مثال نہیں ملتی۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے علما کے تمام مطالبات سننے اور بہت سے علما نے یہ تجویز دی تھی کہ آنے والے جمعہ کو یوم توبہ یا یوم رحمت کے طور پر منایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ان علما کو وزیراعظم کی جانب سے یہ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ ہمارے امام، موذن اور خطیب جو اس وقت مشکلات کا شکار ہیں، انہیں نظر انداز نہیں کریں گے اور جلد ہی وزیراعظم کوئی ایسا پروگرام متعارف کروائیں گے جس سے ان کی داد رسی ہو۔وزیراعظم کی معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ عمران خان نے پی ٹی وی کو ہدایت کی ہے کہ گھر میں موجود مدارس کے طلبہ و طالبات کے لیے بھی ایسا پروگرام شروع کریں تاکہ ان کے حفظ اور قرآنی تعلیم سے جڑا سلسلہ متاثر نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ علما کا مطالبہ تھا کہ جس طرح دیگر شعبوں میں یوٹیلیٹی بلز کو مؤخر کیا ہے اسی طرح مساجد، مدارس، امام بارگاہ اور دیگر مذہبی اداروں کیلئے کیا جائے جس پر وزیراعظم نے اس معاملے کو معاشی ٹیم کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے علمائے کرام کو کورونا وائرس کے خلاف یک زبان ہوکر مقابلہ کرنے کے لیے جو کردار ادا کرنے کا کہا گیا ہے اس پر عمران خان نے اْمید ظاہر کی ہے کہ علما انہیں مایوس نہیں کریں گے۔مساجد کو کھولنے سے متعلق اعلامیے پر انہوں نے کہا کہ اْمید ہے کہ علما اس پر عملدرآمد کریں گے اور اگر اس کی خلاف وزری ہوتی ہے تو حکومت ہر آئینی عمل اٹھانے کی مجاز ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ملک میں کورونا وائرس سے متعلق حکومتی پابندیوں کی خلاف ورزی پر گرفتار کیے گئے خطیب، امام، نمازیوں کو فوری طور پر رہا کرنے کا اعلان کیا ہے اور معاملے کا نوٹس لیا ہے، ابھی تک کسی صوبے یا ضلع میں ابھی تک ان افراد کو نہیں چھوڑا گیا تو فی الفور انہیں رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے سامنے مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمٰن نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ سود کے بغیر معیشت کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں تو وزیراعظم نے اس پر حکمت عملی تیار کرنے کے لیے متعلقہ وزارتوں کو ہدایات دی ہیں جبکہ مدارس کو بغیر سود کے قرضوں کے اجرا کے لیے ایک حکمت عملی بنانے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔اس موقع پر وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے بات کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے ہر طبقے کو آگے آنا ہوگا، علما کا جو کردار ہے اس سلسلے میں ہم ان سے مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ علماء سے ہماری نشست بہت کامیاب رہی اور تمام مسالک کی نمائندہ شخصیات نے شرکت کی اور سب نے وزیراعظم کو اپنے تعاون اور حمایت کا یقین دلایا اور وزیراعظم کی معتدل پالیسی کی حمایت کا اظہار کیا۔نورالحق قادری کے مطابق وزیراعظم نے بتایا کہ ہم کورونا وائرس سے متعلق مہم میں بظاہر ہم ایک مشکل فیصلہ کرچکے ہیں کہ نمازوں اور تراویح کے لیے مساجد کو پورا رمضان کھلا رکھا جائے اور وزیراعظم چاہتے تھے مساجد آباد رہیں اور قرآن پاک اور تراویح کی رونق بحال رہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے علما سے گزارش کی کہ 20 نکاتی لائحہ عمل پر سختی سے کاربند ہوں تاکہ خدانخواستہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی ذمہ داری علما، مساجد یا ائمہ پر نہ آئے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ جمعہ یا تو رمضان المبارک کا پہلا جمعہ ہوگا یا شعبان کا آخری جمعہ ہوگا اور اس سلسلے میں علما کی طرف سے اپیل کی گئی کہ اسے یوم توبہ اور یوم رحمت کے طور پر منایا جائے جس پر وزیراعظم کی پوری قوم سے اپیل ہے کہ اللہ کی طرف رجوع کریں، استغفار کریں اور اس کی رحمت کے طلبگار ہوجائیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے وزارت تعلیم کو کہا ہے کہ جس طرح باقی تعلیم کی آن لائن تعلیم کی بات ہورہی ہے اسی طرح قرآن پاک کی تعلیم کا بھی آن لائن اہتمام کیا جائے۔نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے زور دیا کہ علما، ائمہ اس ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے حکومت سے تعاون کریں تاکہ مشترکہ طور پر اس وبا پر قابو پایا جاسکے۔فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ مدارس کے بچوں کیلئے بھی گھر بیٹھے تعلیم کا پروگرام لایا جائے گا،کرونا بڑا چیلنج ہے،ایمانی قوت کیساتھ اس کا مقابلہ کرنا ہے۔ یر نور الحق قادری نے کہاکہ 20نکاتی اعلامیہ پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا۔دریں اثناوزیر اعظم عمران خان سے فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی اسمبلی نے ملاقات کی جس میں کورنا کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سمیت مختلف امورپر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پیر کو ہونے والی ملاقات میں چوہدری عاصم نذیر، نواب شیر وصیر، رضا نصراللہ اور خرم شہزاد شامل تھے،وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر بھی ملاقات میں موجود تھے۔ممبران قومی اسمبلی نے وزیر اعظم کو کورونا وائرس کے تناظر میں اپنے اپنے حلقوں کی صورتحال خصوصا احساس پروگرام کے تحت کمزور طبقات کو حکومت کی جانب سے مالی معاونت کی فراہمی کی صورتحال سے آگاہ کیا۔زیراعظم نے کورونا وائرس کے دوران عوام کو گھروں میں رہنے کی تلقین کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ جس قدر لوگ نظم و ضبط رکھیں گے اتنا ہی کورونا سے نمٹنا آسان ہوگا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام جس قدر ممکن ہو گھروں میں رہے، لوگوں کے نظم و ضبط سے ہی بندشوں میں نرمی ممکن ہو پائے گی، جتنا لوگ نظم و ضبط رکھیں گے اتنا ہی کورونا سے نمٹنا آسان ہوگا ٹیلی نار کے سی او اے نے امدادی چیک وزیراعظم کو پیش کیا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے سیلولر کمپنی ٹیلی نار کے سی ای اوعرفان وہاب کی ملاقات ہوئی، ملاقات میں معاون خصوصی زلفی بخاری اور فیصل جاوید بھی ملاقات میں شریک تھے۔سی ای او ٹیلی نار نے ریلیف فنڈ کا امدادی چیک وزیراعظم کو پیش کیا، ٹیلی نار نے مجموعی طورپر 1.6 ارب روپے امدادی پیکج کااعلان کیا ہے،دوسری طرف وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ کورونا کی روک تھام اور معیشت کا پہیہ رواں رکھنے میں توازن قائم رکھا جائے، تاجر برادری کی مشکلات کا مکمل ادراک ہے، جہاں تاجر برادری مشکلات کا شکار ہے وہاں متعلقہ صوبائی حکومت کے تعاون سے مسائل حل کیے جائیں،آزاد ملکوں میں طاقت کے استعمال کی بجائے قومی اہمیت کے معاملات میں عوام کو ترغیب دیکر ان کے تعاون کو یقینی بنایا جاتا ہے، کورونا کے خلاف جنگ میں ڈاکٹر اور طبی عملہ ہمارا ہراول دستہ ہے اور انکی ضروریات پورا کرنا اولین ترجیح ہے،کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پیر کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال اور روک تھام کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ اجلاس لیا گیا اجلاس میں وفاقی وزارء حماد اظہر، اسد عمر، مخدوم خسرو بختیار، سید فخر امام، معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف، فوکل پرسن برائے کورونا ڈاکٹر فیصل سلطان، چئیرمین این ڈی ایم اے و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے وزیرِ اعظم کو ملک بھر میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے بارے میں تفصیلی طور پر بریفنگ دی۔وفاقی وزیربرائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات اور حکمت عملی کو مزید موثر بنانے کے لئے مختلف زیر غور تجاویز پر بریف کیا۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں آٹھ ہزار سے زائد ٹیسٹ روزانہ کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں اس ماہ کے آخر میں بیس ہزار ٹیسٹ یومیہ کرنے کا ہدف حاصل کر لیا جائیگا۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ہسپتالوں کی استعدادِ کار کو بڑھانے کے حوالے سے بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں سامنے آنے والی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔چیئرمین این ڈی ایم اے نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ تیسری کھیپ میں چار سو آٹھ ہسپتالوں کو کورونا وائرس سے متعلق سامان بھجوایاگیا ہے، چوتھی کھیپ میں اس سامان کو دگنا کر دیا جائے گا۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ کورونا کی روک تھام اور معیشت کا پہیہ رواں رکھنے میں توازن قائم رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری کی مشکلات کا مکمل ادراک ہے اور وفاقی حکومت کوشاں ہے کہ حکومت کے حالیہ فیصلوں کی روشنی میں جہاں بھی تاجر برادری مشکلات کا شکار ہے وہاں متعلقہ صوبائی حکومت کے تعاون سے ان کے مسائل حل کیے جائیں۔

علما ء مشائخ ملاقات

مزید :

صفحہ اول -