پارلیمانی کمیٹی کا ہر ہفتے اجلاس بلا کر کرونا کی صورتحال کا جائزہ لینے کا فیصلہ

        پارلیمانی کمیٹی کا ہر ہفتے اجلاس بلا کر کرونا کی صورتحال کا جائزہ لینے ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پارلیمانی کمیٹی برائے کورونا وائرس کے اجلاس میں سندھ نے لاک ڈاؤن کو مزید سخت کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر لاک ڈاؤن میں نرمی ہوئی تو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا مشکل ہوگا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے معاملے پر صوبوں کے تجربات سے سیکھنا ہوگا، کو طویل دورانیہ کی پالیسیوں کے حوالے سے تجاویز پیش کرنا چاہیے،ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا ہے کہ کورونا وائرس کے اسی فیصد مریضوں میں علامات ہی ظاہر نہیں ہوتیں، ہمیں بنیادی اصولوں کو ترتیب دیکر روزانہ کی زندگی کی طرف واپس آنا ہوگا۔ پیر کو کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیرصدارت ہوا جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر پارلیمانی امور بابر اعوان، اعظم سواتی، وفاقی وزیر حماد اظہر، فہمیدا مرزا اور علی محمد خان،اپوزیشن کے رہنما خواجہ آصف، راجہ پرویز اشرف اور مشاہد اللہ اور سینیٹر شیری رحمان کے علاوہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا،صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین شریک ہوئیں۔اجلاس میں ملک بھر میں کرونا وائرس کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیاگیا۔سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہاکہ پچھلے اجلاس میں پیش کی جانے والی تجاویز اور رپورٹ ارکان کو دے دی گئی ہے،پارلیمنٹ کرونا وائرس کے تدارک کیلئے اپنا بھر پور کردار ادا کر رہی ہے،پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہر ہفتے بلایا جائے گااور ہر ہفتے صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے پارلیمانی کمیٹی کو وزارت صحت پنجاب کے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ صوبے میں کورونا کے ٹیسٹ کی تعداد بڑھانے پر تیزی سے کام جاری ہے،پنجاب میں اس ہفتے میں آٹھ ہزار سے زائد کرونا ٹیسٹ کیے گئے۔ یاسمین راشد نے کہاکہ کرونا وائرس سے بچاو کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب میں اس وقت پچاس ہزار سے زائد ٹیسٹ کٹس موجود ہیں انہوں نے کہاکہ پنجاب نجی شعبے کے ساتھ ملکر بھی کرونا وائرس کے ٹیسٹ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب میں کرونا کے مریضوں کو پلازمہ کے ذریعے علاج کیا جارہا ہے،پنجاب میں اندرونی طور پر وائرس کے پھیلاؤکا بھی تفصیل سے جائزہ لیا جار ہا ہے۔انہوں نے کہاکہ عوام کی صحت اور جان بچانا ہماری اولین ترجیح ہے۔قائمہ کمیٹی برائے صحت صوبہ بلوچستان ڈاکٹر رباب بلیدی نے پارلیمانی کمیٹی کو ویڈیو لنک کے ذریعے بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ بلوچستان میں ٹیسٹ کٹس کی کمی ہے،ڈاکٹروں کو حفاظتی لباس اور دیگر آلات فراہم کیے جارہے ہیں،صوبے میں لاک ڈاون سے وائرس کے پھیلاو کو روکنے میں مدد ملی ہے۔۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ ملک میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے،این 95 ماسک کی فراہمی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں،کوشش کی جارہی ہے کہ مقامی سطح پر این 95 ماسک خود بنائے۔ انہوں نے کہاکہ این 95 اور میڈیکل کٹس کی مقامی طور پر تیاری کرنا شروع کر دیں گے،جو ڈاکٹر ہسپتالوں میں کام کر رہے ہیں ان کیلئے این 95 ماسک لازمی قرار دے دیا ہے،ڈاکٹروں کو حفاظتی سامان کی فراہم کیلئے مزید اقدامات کر رہے ہیں،قومی اور صوبائی سطح پر لاک ڈاون کی وجہ سے وائرس کے پھیلاو میں کمی آئی ہے،اب تک ملک بھر میں ایک لاکھ پانچ ہزار ٹیسٹ کیے ہیں،کوشش کر رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر 20 ہزار ٹیسٹ کیے جائے۔چیئرپرسن احساس پروگرام ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ کرونا وائرس کے حوالے سے نئی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وائرس کے پھیلاؤکا عمل تیز ہے،اس وائرس سے اسی فیصد متاثرہ افراد میں علامات ظاہر نہیں ہوتی،ہمیں بنیادی اصول مرتب کرنے کے بعد روزانہ کی زندگی کیطرف واپس آنا ہوگا،لاک ڈاؤن سے ملک کی اقتصادی صورتحال پر دباؤآ رہا ہے،یہ دیکھنا ہو گا کہ ملک لاک ڈاون کی صورتحال کتنی دیر مزید برداشت کر سکتا ہے۔وزیر مملکت علی محمد خان نے پارلیمانی کمیٹی سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ میڈیا کو کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے،پارلیمانی کمیٹی کو میڈیا کے حوالے سے تجاویز پیش کرنا ہو گی،احساس پروگرام کے تحت غریب لوگوں کی مالی معاونت کی جارہی ہے،یہ وقت ہے کی مخیر خصرات اپنے لوگوں کی معاونت کریں۔ انہوں نے کہاکہ دیکھنا ہوگا کہ احساس ایمر جنسی پروگرام کے تحت زیادہ سے زیادہ ضرورت مند افراد کی مدد کی جاسکے۔۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی بھرپور انداز میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں،کمیٹی کو طویل دورانیہ کی پالیسیوں کے حوالے سے تجاویز پیش کرنا چاہیے،لاک ڈاؤن کے حوالے سے صوبوں کے تجربات سے آئندہ کی پالیسی مرتب کرنا ہوگی،صحت اور معیشت کے درمیان توازن پیدا کرنا ہوگا،پاکستان کی معیشت طویل لاک ڈاؤن برداشت نہیں کر سکتی،طویل لاک ڈاؤن سے ملک میں غریب کی سطح میں اضافہ ہوگا،اللہ کا شکریہ ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس سے اموات کی شرح کم ہے،صنعت کاروں اور تاجر برداروی لاک ڈاون سے تیزی سے متاثر ہو رہے ہیں،غریب طبقہ لاک ڈاون سے شدید متاثر ہو رہا ہے،۔ اجلاس کے دور ان مسلم لیگ (ن)کے سینیٹرمشاہد اللہ خان نے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا او رکہا کہ جب بات کرنے کا موقع نہ ملے تو اجلاس میں بیٹھنے کا کیا فائدہ؟۔وزیر صحت آزاد کشمیر ڈاکٹر نقی نے پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ ان حالات میں قومی اسمبلی کو متحرک رکھنے پر اسپیکر کے مشکور ہیں،قومی اسمبلی کی کمیٹی کرونا وائرس کے حوالے متحرک ہے۔۔خیبر پختو نخواہ کے وزیر صحت تیمور جھگڑا نے پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ لاک ڈاؤن وائرس کے پھیلاو کو روکنے میں معاون ثابت ہوا ہے،صوبے میں وائرس کے ٹیسٹ کی تعداد کو بڑھانے کیلئے کام کر رہے ہیں،خیبر پختونخوا کے عوام کی بڑی تعداد عرب امارت میں کام کرتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ صوبے میں ڈاکٹروں کی تعداد بڑھانے کیلئے اقدامات کر ہے ہیں،۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان نے پارلیمانی کمیٹی کو ویڈیو لنک کے ذریعے بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے سیاحت کی صنعت بری طرح متاثرہ ہوئی ہے،گلگت بلتستان میں تین ٹیسٹ مراکز ہیں وفاق گلگت بلتستان کی مالی معاونت کرے،اگر کورونا وائرس کا دورانیہ بڑھ گیا تو بے روزگاری بڑھ جائے گی۔،گلگت بلتستان کو مزید کٹس اور پی آر سی کی ضرورت ہے۔

پارلیمانی کمیٹی

مزید :

صفحہ اول -