شہباز شریف کے عدم تعاون پر قانونی راستہ اختیار کرنے کا حق موجود: نیب

  شہباز شریف کے عدم تعاون پر قانونی راستہ اختیار کرنے کا حق موجود: نیب

  

لاہور/اسلام آباد(این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک)قومی احتساب بیورو(نیب) لاہور نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مبینہ منی لانڈنگ کی تحقیقات آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں تاہم قومی ادارے کو ان کی جانب سے تحقیقات میں تاحال عدم تعاون کا سامنا ہے،قومی ادارے کے ساتھ عدم تعاون کا مظاہرہ کرنے کی صورت میں قانون اپنا راستہ اپنانے پر حق بجانب ہو گا۔ اپنے بیان میں ترجمان نیب نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مبینہ منی لانڈرنگ کے کیس میں جاری تحقیقات کے حوالے سے انہیں 17اپریل کو ذاتی حیثیت میں نیب انویسٹی گیشن ٹیم کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی جس کیلئے ادارے کی پالیسی کے تحت انہیں باقاعدہ مفصل سوالنامہ بھی ارسال کیا تھا۔ نیب لاہور کو مذکورہ کیس منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ان سے مفصل و جامع جوابات درکار ہیں۔ نیب لاہور میں 17اپریل کو پیش نہ ہونے اور کرونا وباء کا عذر پیش کرنے کی صورت میں نیب لاہور کی جانب سے انہیں دوبارہ 22اپریل دن 12بجے نیب تفتیشی ٹیم کے روبرو پیش ہونے کا نوٹس ارسال کیا گیا ہے اور انہیں آگاہ کیا جاتا ہے کہ ان کی نیب لاہور میں پیشی کے موقع پر مکمل حفاظتی اقدامات اپنائے جائیں گے جن میں سوشل ڈسٹینسنگ، ماسک و سینی ٹائزر کا استعمال شامل ہو گا اگرچہ اس موقع پر اس بات کی وضاحت بھی کی جاتی ہے کہ قومی ادارے کے ساتھ عدم تعاون کا مظاہرہ کرنے کی صورت میں قانون اپنا راستہ اپنانے پر حق بجانب ہو گا۔دوسری جانبمسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے مطالبہ کیا ہے کہ نیب نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے 22 تاریخ کو جو تفتیش کرنی ہے، ویڈیو لنک کے ذریعے کی جائے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان نے کہا کہ ہم جیل سے نہیں گھبراتے لیکن شہباز شریف کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ نالائقی، بدنیتی اور گھٹیا سوچ ہے، ہم اس کا مقابلہ کریں گے۔ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ نے نیب بارے جو کچھ ریمارکس دیئے کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نیب کو چینی اور آٹا سکینڈل نظر نہیں آتا، یہ معمولی باتیں نہیں ہیں۔نیب اور ایسے حکمرانوں کے ہوتے ہوئے ملک نہیں چل سکتا۔انہوں نے کہا کہ حکمران جھوٹے کیس بنا کر اپوزیشن کو دبانے میں مصروف ہیں۔ شہباز شریف کوصاف پانی کیس میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن اس سے کچھ نہ ملا تو آشیانہ کیس بنانے کی کوشش کی گئی۔ نیب نے پھر نوٹس جاری کردیا ایسی کیا عجلت ہے؟ اپوزیشن لیڈر میڈیکل ایشوز کی وجہ سے آئسولیشن میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکمرانوں کے رونے نہیں بلکہ کام کرنے کا وقت ہے۔ حکومت لاک ڈاؤن کے معاملات پر سنجیدگی سے غور کرے۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کی بات سمجھ سے باہر ہے۔ وزیراعظم نے خود کہا کہ آگے اموات بڑھیں گی۔ شاہد خاقان عباسی نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم کی ٹائیگر فورس کو سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا، یہ کرپشن کا سب سے بڑا ذریعہ ہوگی۔ سیاست اور ملکی معیشت کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اگر یہی رویہ رہا تو کون اس ملک میں انویسٹمنٹ اور کون سیاست کرے گا؟۔

نیب/مسلم لیگ

مزید :

صفحہ اول -