مخالفانہ بیان بازی ترک کر دیں

مخالفانہ بیان بازی ترک کر دیں

  

وزیر اعظم عمران خان مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ مئی میں کورونا کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے ان کی طرف سے عوام کو احتیاط کی تلقین کی جاتی ہے اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ملک میں مکمل ا تفاق رائے بھی ہو تاہم ان کو شکوہ ہے کہ کورونا کے حوالے سے خوف و ہراس پھیلایا جاتا ہے۔انہوں نے کسی کا نام تو نہیں لیا لیکن ان کے انداز بیان سے یہی مترشح ہوتا ہے کہ مخاطب میڈیا، سندھ حکومت اور وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ ہیں اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ پہلے ان کے وفاقی وزراء نے بیک وقت محاذ کھولا اور الزامات کی بوچھاڑ کر دی ادھر سے بھی جواب دیا گیا اور مخدوش حالات میں محاذ آرائی بڑھتی چلی جا رہی تھی پھر اچانک وزرا تو خاموش ہوئے تاہم معاونین خصوصی اور کراچی سے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی نے سخت تنقید کرنا شروع کر دی اور مراد علی شاہ کو نشانے پر رکھ لیا الزام وہی ہے کہ غلط معلومات سے ہراس پھیلایا جا رہا ہے اور یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب سپریم کورٹ میں کورونا کے حوالے سے از خود نوٹس کیس کی سماعت ہو رہی ہے ابھی گزشتہ روز ہی وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وہ محاذ آرائی نہیں چاہتے اور وفاق کے ساتھ باقاعدہ تعاون کر رہے ہیں اور ان کا وزیراعظم سے رابطہ ہے اور باہم مل کر کام کریں گے انہوں نے تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے یقین دلایا کہ ساری کوشش وفاق کے تعاون سے ہو گی اور وہ حالیہ بیانات کا جواب نہیں دیں گے انہوں نے سوال کیا کہ اگر وہ ٹھیک نہیں ہیں تو سندھ حکومت کے اقدامات کی پیروی کیوں کی جاتی ہے۔یہ سب افسوسناک ہے عوام پریشان ہیں کہ اتنی بڑی پریشانی میں بھی انکے راہنما تحمل اور اتفاق رائے پیدا نہیں کرتے عوام مایوس ہو رہے ہیں اور یہ بہت ہی غیر مناسب ہے کہ عوام کی بد دلی کوئی اور پریشانی پیدا کر سکتی ہے ضرورت یہ ہے اس آفت سے نمٹنے کے لئے مکمل اتحاد کا مظاہرہ کیا جائے اور ایسی صورت میں جب عوام کے نظم و نسق کی ضرورت ہے یہ محاذ آرائی کچھ اور رخ اختیار کر لے گی بہتر عمل یہ ہے کہ اس سے گریز کیا جائے اب تو عوام یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ میڈیا کو مخالفانہ بیانات نشر اور شائع نہیں کرنے چاہئیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -