کرونا کیسز اور اموات خطرناک حد تک بڑھنا تشویشناک ہے، ایمل ولی

کرونا کیسز اور اموات خطرناک حد تک بڑھنا تشویشناک ہے، ایمل ولی

  

پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے صوبہ بھر میں کورونا کیسز اور اموات میں خطرناک حد تک اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے غیرسنجیدہ رویہ عوام کے جان و مال کے ضیاع کا سبب بن رہا ہے، صرف پشاور میں اتوار کے روز ایک گھنٹہ کے دوران چھ افراد جان کی بازی ہار گئے لیکن حکومتی اراکین سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف گالیاں دینے میں مصروف ہیں، ٹوئٹرپر اپنی کارکردگی کو عملی میدان میں لانا ہوگا، وزراء و مشیروں کی پوری فوج ٹوئٹر پر تو موجود ہوتی ہے، تصاویر کو شیئر کیا جاتا ہے لیکن عملی میدان میں کچھ نظر نہیں آرہا۔ ولی باغ چارسدہ سے جاری بیان میں ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا وہ بدقسمت صوبہ ہے جہاں سب سے زیادہ تعداد میں کورونا وائرس سے اموات سامنے آئے ہیں، اب بھی وقت ہے عوام کو بچانے کیلئے بولڈ اور مضبوط فیصلے کئے جائیں تو عوام کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں لیکن بدقسمتی سے ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ کورونا اور بی آر ٹی کے درمیان مقابلہ نظر آرہا ہے، بی آرٹی کو جس طرح توڑ کر جوڑ کر اور پھر توڑ کر جوڑا جارہا ہے اسی طرح یہ وبا خدانخواستہ طول نہ پکڑے۔حکومتیں اگر اور کچھ نہیں کرسکتی تو عمران خان کے وسیم اکرم اور وسیم اکرم پلس سندھ کے وزیراعلیٰ سے ہی کچھ سیکھ لیں۔ انہوں نے کہا کہ باچاخان ٹرسٹ کے تمام ذیلی ادارے اس وقت عوامی خدمت میں مصروف عمل ہیں، ملگری ڈاکٹران، ملگری سیڑنکار ایک طرف دو دوسری جانب اے این پی کارکنان گھر گھر راشن پیکجز بلانمود و نمائش پہنچارہے ہیں جو دراصل خدائی خدمتگاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبے خودمختار ہوچکے ہیں، اب صوبوں کو سمجھنا ہوگا کہ حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلے کئے جائیں۔ انہوں نے ڈاکٹرز کو حفاظتی سامان کی عدم فراہمی اور ڈاکٹرز و پیرامیڈیکل سٹاف کی کورونا وائرس سے متاثر ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ افسوسناک امر یہ ہے کہ حفاظتی سامان ابھی تک مہیا نہیں کیا گیا، صرف باتوں اور افتتاح کی تختی لگانے سے حالات تبدیل نہیں ہوں گے، عوام ابھی تک اپنے حقیقی نمائندے ڈھونڈرہے ہیں

مزید :

پشاورصفحہ آخر -