کرونا کے بعد کی دنیاکیسی ہو گی؟

کرونا کے بعد کی دنیاکیسی ہو گی؟
کرونا کے بعد کی دنیاکیسی ہو گی؟

  

ابھی کرونا کا پھیلاؤ جاری ہے۔ ابھی کرونا سے پیدا ہونے والے مسائل عروج اپنے کو نہیں پہنچے۔ ابھی اندازے اور تخمینے لگائے جا رہے ہیں کہ کتنا جانی اور مالی نقصان ہو سکتا ہے۔ ابھی کرونا کے وائرس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے کسی ویکسین کی تیاری جاری ہے۔ ابھی یہ معلوم کہ ایسی کوئی ویکسین کب تیار ہو گی اور کتنی موثر رہے گی۔ ابھی یہ بھی نہیں معلوم کہ اس حوالے سے کوئی کامیابی حضرتِ انسان کے ہاتھ آتی ہے نہیں۔ ابھی تو کسی نے یہ بھی نہیں سوچا کہ وائرس کے حملوں سے محفوظ رہنے کے لئے اگر کوئی ویکسین اور بیماری میں مبتلا ہونے کے علاج کے لیے دریافت ہو بھی سکے گا نہیں۔ اگر ہو گیا تو ٹھیک۔ لیکن اگر نہ ہوا تو پھر کیا ہو گا؟ کیا پوری نسلِ انسانی کی بقا کو خطرات لاحق ہو جائیں گے؟ ابھی یہ بھی کسی کو معلوم نہیں کہ اگر یہ وبا طوالت اختیار کرتی ہے اور دنیا بھر میں لاک ڈاؤن مہینوں طویل ہو جاتے ہیں تو اس کے اقوام‘ ممالک‘ خطوں اور سماجوں پر کیا اور کتنے اثرات مرتب ہوں گے۔ ان سارے معاملات کو سامنے رکھ کر سوچا جائے تو یہی منظر سامنے آتا ہے کہ ابھی حالات مبہم ہیں اور کچھ بھی واضح نہیں ہے۔

تو کیا یہ صورتحال یہ سوچنے پر مجبور نہیں کر دیتی کہ حال کے بارے میں تو ضرور سوچا جانا چاہئے کہ مستقبل کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ اگر بیماری پر قابو نہ پایا جا سکا تو مستقبل کیسا ہو سکتا ہے‘ اس کے بارے میں تصور کرنا ناممکن نہیں۔ دنیا بھر کی معیشت دہری مشکلات سے دوچار ہے دنیا بھر میں نظام زندگی مفلوج معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ کورونا وائرس سے عالمی معیشت کو بری طرح نقصان پہنچ رہا ہے۔ عالمی سطح پر گروتھ ریٹ 3.2 فیصد ہے جو آنے والے دنوں میں کم ہو کر 1.7 فیصد تک گرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کرونا سے عالمی معیشت کو 347 ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ کے مطابق اس وبائی مرض سے ترقی پذیر ایشیا اور دنیا بھر میں شرح نمو میں امسال گراوٹ کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے‘ جس میں کہا گیا ہے کہ کووڈ19 کے 2 مہینوں تک جاری رہنے کے سناریو کے مطابق اس کی عالمی معیشت کے لیے مالیت 76.6 ارب ڈالر جبکہ تین ماہ تک جاری رہنے سے 155.9 ارب ڈالر اور 6 ماہ کے دورانیہ کی مالیت 346.9 ارب ڈالر تک ہونے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اب تک 80 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کو سنگین بحران کے باعث ناقابل تلافی حد تک نقصان پہنچا ہے اور ابھی اس کی کوئی انتہا نظر نہیں آتی۔ ترقی پذیر اور غریب ممالک میں تو جیسے کرونا وائرس نے قہر بن کر ٹوٹ پڑا ہو۔ ان کے پاس جو وسائل تھے‘ وہ یہ ممالک اپنے عوام کو اس وبا سے بچانے کی کوششوں میں جھونک رہے ہیں اور یہ معلوم ہی نہیں کہ کامیابی کہاں ہے جبکہ عالمی اقتصادیات کے ماہرین یہ پیش گوئیاں کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی اقتصادی شرح نمو بری طرح متاثر ہو گی جس سے بین الاقوامی سطح پر غربت کی شرح میں مزید اضافہ ہو گا۔ عالمی سطح پرتیل کی قیمتوں مسلسل گر رہی ہیں‘ دنیا بھر کی سٹاک ایکس چینجز میں گراوٹ سے تقریباً سبھی ممالک کی معیشت کو دھچکا لگا ہے‘ فضائی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ٹورازم کو ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ اندازہ یہ لگایا گیا ہے کہ فضائی کمپنیوں کو 63ارب سے 113ارب ڈالر تک نقصان پہنچے گا‘ عالمی مارکیٹس بند ہو رہی ہیں‘کاروں کی صنعت، الیکٹرونکس اور تعمیرات کے شعبے بھی اس بحران سے بچ نہیں سکے ہیں۔ یہ دنیا بھر میں اس وقت چلنے والے معاملات کا محض ایک طائرانہ سا جائزہ ہے۔ اصل صورت حال اور اس کی شدت کے بارے میں فی الحال سو فیصد ٹھیک ٹھیک کچھ کہنا مشکل ہے تاہم سوچ کی پرواز کے تحت اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے زمانے کی ہماری دنیا کیسی ہوگی۔

یہ بالکل واضح ہے کہ اگر آج اور اسی وقت حالات ٹھیک ہو جائیں یعنی کرونا وائرس کا پھیلاؤ رک جائے اور دنیا بھر کی منڈیوں میں کاروباری و تجارتی سرگرمیاں فوری طور پر بحال ہو جائیں تو بھی عالمی معیشت کو جو دھچکا پہنچ چکا ہے‘ اس کے اثرات سے نکلنے کے لئے ایک سے دو سال درکار ہوں گے؛ تاہم جو حالات چل رہے ہیں‘ ان کو پیشِ نظر رکھا جائے تو حالات کے فوری طور پر ٹھیک ہو جانے کو ایک خواہش کا اظہار تو کہا جا سکتا ہے‘ لیکن زمینی حقائق کچھ اور کہانی بیان کرتے ہیں۔ کہا یہ جاتا ہے کہ وبا کا یہ سلسلہ طویل عرصے تک رہے گا۔ اگلے کچھ عرصے میں اگر اس پر قابو پا بھی لیا گیا تو مستقبل میں اس وبا کے پھر پھوٹ پڑنے کے اندیشے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اس طرح اب پوری دنیا کو فوری کے ساتھ ساتھ طویل المیعاد پالیسیاں بھی وضع کرنی ہوں گی۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ آگے کچھ کڑا وقت آنے والا ہے۔ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے سب کو کچھ نہ کچھ تیاری کرنی چاہئے۔ تجویز یہ ہے کہ مختصر مدت کی ہوں یا طویل المیعاد پالیسیاں‘ ان میں زراعت کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے تاکہ جب عالمی سطح پر تجارت اور کاروبار زوال کا شکار ہوں‘ جس کا کہ قوی اندیشہ ہے‘ تو ملکی آبادی کی خوراک کی ضروریات مقامی سطح پر پوری کی جا سکیں۔ اگر اس عرصے میں ہم خوراک کے حوالے سے بھی خود کفیل نہ ہو سکے اوور ہمیں اپنی کھانے پینے کی ضروریات پوری کرنے کے لئے بھی عالمی برادری کی طرف دیکھنا پڑا تو یقیناً اس کے نتیجے میں گہرے اور تشویشناک مسائل پیداہوں گے‘جن سے نبرد آزما ہونا پھر مشکل ہو جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -