عجب توجہ، عجب تغافل

عجب توجہ، عجب تغافل
عجب توجہ، عجب تغافل

  

مایوسی پھیلانا یقیناً بری ہی نہیں بہت بری بات ہے لیکن حقائق سے آنکھیں چرانا خطرناک معاشرتی جرم ہے۔ حقائق کے ادراک کے بغیر حالات کا مقابلہ کرنے کی حکمتِ عملی ترتیب ہی نہیں دی جا سکتی۔ کامیاب و کامران افراد، ادارے، اقوام اور ممالک خطرات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہی اس لئے ہیں کہ وہ حقیقت سے منہ موڑنے کی بجائے اس کا صحیح صحی اندازہ لگا کر مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے اور پھر پوری دیانتداری اور محنت سے اس پر عمل کر کے کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتے ہیں۔ ہمارے ہاں اول تو اعداد و شمار محفوظ رکھنے کا کوئی خاص اہتمام نہیں کیا جاتا۔ پھر تھوڑے بہت دستیاب اعداد و شمار کے تجزیئے میں بھی اپنے اپنے مفادات کو ترجیح دینے کا چلن عام ہے۔

میری توجہ عجب توجہ، میرا تغافل عجب تغافل

شکستِ ساغر کو دیکھتا ہوں، شکستِ دل کی خبر نہیں

اب دیکھیں ناں مسئلہ یا معاملہ ایک ہی ہوتا ہے مگر فریقین اس کا ایک دوسرے سے بالکل متضاد حل بتاتے ہیں۔ حکومت اور اس کے حواری جو بھی مؤقف پیش کریں حزب اختلاف اس کے بالکل الٹ رائے دینا اپنا فرض منصبی خیال کرتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اپنی اپنی سیاسی بقا کے لئے ایسا کرنا ضروری ہو مگر ملکی بقا اور سلامتی کو اولیت دینا بھی تو قومی تقاضا ہے۔ جس کا ادراک ہماری انفرادی، گروہی اور اجتماعی زندگیوں میں نظر نہیں آ رہا۔ کورونا کی عالمی وبا کے نتیجے میں دنیا بھر میں کساد بازار ی ا ور اقتصادی زبوں حالی کی جو لہر آئی ہے اس سے غریب اور کم ترقی یافتہ ممالک زیادہ متاثر دکھائی دیتے ہیں۔ کہنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ کورونا کی وبا تو شاید جلدی ختم ہو جائے مگر اس کے نتیجے میں آنے والی معاشی مصیبت تادیر بنی نوع انسان کو پریشان رکھے گی۔ اس کا احساس ترقی یافتہ امیر ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کو بھی ہے چنانچہ جی 20 کے اجلاس اور آئی ایم ایف کے اعلامیئے میں دنیا کے 70 سے زائد غریب ملکوں کی مدد اور سہولت کا اہتمام کیا گیا ہے۔

ان فیض یافتگان میں وطن عزیز بھی شامل ہے۔ اندرونی طور پر بنک دولت آف پاکستان نے بھی شرح سود میں قابل ذکر کمی کر کے سرمایہ کاروں کو حوصلہ دیا ہے۔ تعمیراتی صنعت کی بحالی کے علاوہ مختلف کاروبار کرنے کی اجازت دے کر کاروباری سرگرمیاں جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہیں۔ اس کا فوری نتیجہ گرتی ہوئی سٹاک ایکسچینج (بازار حصص) کو نہ صرف سنبھالا ملا بلکہ اس نے لمبی چھلانگ لگا کر سرمایہ کاروں کو حیران کر دیا۔ اتنا حیران کہ منتظمین کو بازار حصص کی سرگرمی تھوڑی دیر کے لئے روکنا پڑی۔ یکدم 1500 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ کافی عرصہ کے بعد ڈالر اور سونے کی قیمت نیچے آئی۔ ایک ہی دن میں دو کھرب 29 ارب کی سرمایہ کاری ہوئی۔ 88 فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ یوں شیئرز کا دھندہ کرنے والوں کو اربوں روپے کا فائدہ ہوا۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اس سے بالکل الٹ صورتحال تھی۔ حصص کی قیمتیں دھرا دھڑ گر رہی تھیں۔ ڈالر اور سونا مہنگے ہو رہے تھے۔ سرمایہ کاروں کے اربوں ڈوب رہے تھے۔ حصص بیچنے والوں کی قطاریں لگی تھیں اور خریدار دلچسپی نہیں لے رہے تھے۔ اس تیز ترین گراوٹ کو روکنے کے لئے ٹریڈنگ روکنا پڑی۔ سرخیاں لگ گئیں کہ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ کریش کر گئی۔ اس کے بعد آناً فاناً ایسا انقلاب کہ ”جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا“ خوشگوار حیرت میں ڈوبا ہے سارا وطن۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بند صنعتوں کے لئے مارکیٹوں اور کاروباروں کو کھولنے کے حکومتی فیصلوں، شرح سود میں کمی کے سٹیٹ بنک کے اقدام، آئی ایم ایف کی جانب سے ایک ارب 60 لاکھ ڈالر کے پیکج کی منظوری، جی 20 کی طرف سے قرضوں کی وصولی مؤخر کرنے سے سرمایہ کاروں کی مایوسی ختم (یا کم) کرنے اور ان میں کاروباری جوش پیدا کرنے میں جو مدد ملی اس کے اثرات بازار حصص پر پڑے۔ یہ اثرات فطری نتیجہ ہیں متذکرہ عوامل کا اور یہ ماضی میں بھی دکھائی دیتے رہے ہیں مگر ماضی میں ایک متضاد اور منفی صورتحال کا سامنا بھی ہوا۔ وہ عالمی سرمایہ کاروں کی چالاکی۔ یہ ملٹی نیشنل سرمایہ کار بڑے معاشی نباض ہوتے ہیں۔ جب وطنِ عزیز میں شرح سود میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ سرمایہ کار معمولی شرح سود والے بنکوں (امریکہ یورپ وغیرہ) سے قرض لے کر پاکستان میں بھاری شرح منافع پر سرمایہ کاری کر دیتے ہیں۔ یوں مغربی بنکوں کے سرمائے کو یہاں لگا کر گھر بیٹھے منافع کماتے رہتے ہیں۔ پھر جب کہیں اور بہتر مواقع دیکھتے ہیں تو سرمایہ نکال کر وہاں لے جاتے ہیں اور ہمارے بازار حصص کی چولیں ہل جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ جب کمپنیوں کے حصص کے نرخ ایک خاص حد تک چڑھ جاتے ہیں تو یہی سرمایہ کار یکدم اپنے شیئرز مارکیٹ میں برائے فروخت پھینک دیتے ہیں اور شیئر مارکیٹ کریش کرنے لگتی ہے۔ اس طرح ہو سکتا ہے کہ موجودہ یوم کا مرحلہ بھی عارضی ہو۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں ماہرین اقتصادیات اپنی وضع کردہ پالیسیوں کی مدد سے ممکنہ نقصان کو کم سے کم کرنے اور اس سرمایہ کاری کے فوائد کو دیرپا بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس طرح دیکھا جائے تو یہ سرکاری ماہرین کے لئے جشن منانے کا نہیں مہارت دکھانے کا وقت ہے تاکہ حالیہ گرم بازاری مصنوعی ثابت نہ ہو اور کساد بازاری کے خطرات کم سے کم ہو سکیں۔

رمضان المبارک میں ہمارے ہاں ذخیرہ اندوزی کے ذریعے نا جائز منافع خوری کا دھندہ بہت پرانا ہے۔ رمضان کی آمد سے قبل ہی شہری ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں کہ اشیائے خورو نوش خصوصاً پھلوں کی قیمتیں چڑھ جائیں گی ا ور رمضان گزرنے کے بعد بھی واپس پرانی قیمتوں پر نہیں آئیں گی۔ اس بار حکومت نے بھی اس کا پیشگی ادراک کرتے ہوئے ذخیرہ اندوزی روکنے کے لئے قانون سازی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ہماری پارلیمینٹ تو اصلی کام، قانونی سازی، بھولی ہوئی ہے اور محض سیاسی شور و غوغا پر ہی وقت ضائع ہوتا رہتا ہے اس لئے یہ قانون بھی وفاقی کابینہ نے آرڈیننس کے ذریعے بنایا ہے۔ صدر مملکت نے اس پر دستخط بھی کر دیئے ہیں مگر اس کا اطلاق صرف وفاقی علاقے (اسلام آباد) پر ہوگا۔ اول تو ہمارے ملک میں قانون پر عملدرآمد کا ریکارڈ کچھ اچھا نہیں اگر وفاقی حکومت سرکاری مشینری کو متحرک اور فعال کر کے نئے قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنا بھی لے تو باقی ملک کا کیا ہوگا؟اسی لئے محب وطن حلقوں کی رائے کو وقعت دینے کی ضرورت ہے کہ وفاق کے انتظام و انصرام کو کامیابی سے چلانے کے لئے وفاق اور وفاقی اکائیوں میں عملی ہم آہنگی ضروری ہے۔ سیاست تو بحران سے نکلنے کے بعد بھی کی جا سکتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -