ذخیرہ اندوزی کے خلاف آرڈیننس، دارومدار عمل پر ہے

ذخیرہ اندوزی کے خلاف آرڈیننس، دارومدار عمل پر ہے
ذخیرہ اندوزی کے خلاف آرڈیننس، دارومدار عمل پر ہے

  

اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ذخیرہ اندوزی کے خلاف آرڈیننس نافذ ہونے، یا وزیر اعظم عمران خان کے ذخیرہ اندوزوں کو وارننگ دینے اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی طرف سے بیانات کی وجہ سے ذخیرہ اندوز باز آ جائیں گے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ یہ ایک بہت منظم اور طاقتور مافیا ہے۔ اس کے ڈانڈے حکومتی صفوں، جمہوری اسمبلیوں میں بیٹھی ہوئی سیاسی اشرافیہ سے ملتے ہیں ہاں یہ کہنا درست ہوگا کہ پہلی بار عمران خان نے ذخیرہ اندوزوں کے لئے ایک سخت آرڈیننس نافذ کیا ہے، جس میں مال کی ضبطی کے ساتھ ساتھ بھاری جرمانہ اور قید بھی تجویز کی گئی ہے۔ اگر یہ قانون پوری طرح نافذ العمل ہو جاتا ہے تو پھر تبدیلی کی امید کی جا سکتی ہے، وگرنہ تو سب جانتے ہیں کہ قوانین بن جاتے ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ بہت سے مافیا انہیں بے اثر کر دیتے ہیں اس تلخ حقیقت کو تسلیم کئے بنا چارہ نہیں کہ پاکستان میں قانون شکنی بعض طبقے قانونی حق کے طور پر کرتے ہیں اس لئے قانون بن جاتا ہے، اس کی بے توقیری معمو ل کی بات سمجھی جاتی ہے۔ اب اس ذخیرہ اندوزی کو لیجئے، اس کے لئے پہلے بھی قوانین موجود ہیں، ادارے بھی کام کرتے ہیں چھاپے بھی پڑتے ہیں مگر ہوتا کچھ بھی نہیں۔ اب اس بار قانون بناتے ہوئے۔ دلچسپ شق بھی رکھی گئی ہے کہ جو کوئی ذخیرہ اندوزری کی نشاندہی کرے گا، اسے ضبط شدہ مال کا دس فیصد انعام میں دیا جائے گا۔ کیا طاقتور مافیا کے مقابلے میں کوئی شخص اس طرح کی جرأت کر سکتا ہے، یہ سوالیہ نشان اپنے جواب کا طلبگار ہے۔

کل ایک آڑھتی صاحب مجھے ملے۔ انہوں نے مجھ سے یہ سوال پوچھا کہ آخر ذخیرہ اندوزی کی تعریف کیا ہے۔ میں نے کہا اشیاء کو ناجائز منافع کے لالچ میں ذخیرہ کر لینا اور ان کی کمی کے موقع پر باہر لانا۔ وہ کہنے لگے حضور یہ جو اربوں روپے کی سرمایہ کاری کولڈ سٹوریج اور گوداموں پر ہو چکی ہے، آخر اس کا مقصد کیا ہے۔ دنیا بھر میں مال کو آف سیزن کے لئے محفوظ کیا جاتا ہے۔ مثلاً میں ایک تاجر ہوں، آخر مجھے کتنی مقدار میں اشیاء سٹور کرنے کی اجازت ہو گی۔ آج دنیا کا ہر پھل پورا سال پاکستان میں دستیاب ہوتا ہے۔ یہ اس کولڈ سٹوریج نظام کی برکتیں ہیں۔ ظاہر ہے یہ سستے سیزن میں خرید کر ہی ذخیرہ کیا جائے گا تاکہ جب سیزن ختم ہو جائے تو اسے باہر لایا جا سکے۔ اسے محفوظ کرنے میں اتنا عرصہ کی سرمایہ کاری، کولڈ سٹوریج کے اخراجات اور بجلی کے بلوں کی مد میں ادائیگیوں کو شامل کر کے ریٹ نکالا جاتا ہے، کیا اس سارے عمل کو بھی ذخیرہ اندوزی قرار دے کر سزائیں دی جائیں گی، سچی بات ہے میں انہیں اس کا کوئی دو ٹوک جواب نہیں دے سکا۔ انہوں نے کہا دیکھیں اگر اس طرح اشیاء کو ذخیرہ کرنے کی ممانعت کر دی گئی تو آف سیزن میں لوگ سبزیوں، دالوں، پھولوں اور دیگر اشیاء کو ترس جائیں گے۔ انہیں نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ اس قانون کی اگر مناسب تشریح نہ کی گئی تو یہ سرکاری اداروں کے کرپٹ افسران کے لئے کمائی کا بہت بڑا ذریعہ بن جائے گا لگتا تھا وہ اندر سے بھرے ہوئے ہیں، کہنے لگے یہ جو سرکاری طور پر گندم خرید کر ذخیرہ کرلی جاتی ہے، کیا یہ بھی ذخیرہ اندوزی کے زمرے میں آئے گی میں نے کہا اس میں اور عام ذخیرہ اندوزی مں فرق ہے، کیونکہ سرکار جو گندم خریدتی ہے، وہ آگے جا کر اسے مہنگے داموں فروخت نہیں کرتی، اس کا مقصد صرف غذائی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا اگر ایسا ہے تو پھر گندم اور آٹے کا بحران کیوں پیدا ہوا، کیوں آٹے کی قیمت دوگنی ہو گئی۔

ظاہر ہے اس ذخیرہ اندوزی سے طاقتور مافیا نے فائدہ اٹھایا۔

خیر وہ ایک لمبی مغز خوری کے بعد رخصت ہو گئے۔ تاہم میں سوچتا رہا کہ قانون بنا دینا تو آسان ہے، آگے اس کی تشریح کیسے ہوتی ہے، یہ سرکاری کارندوں کا کام ہے، جو اکثر ہر قانون میں اپنے صوابدیدی اختیارات پیدا کر لیتے ہیں حکومت کو اس پہلو پر ضرور غور کرنا چاہئے کہ جس طرح گندم کو ذخیرہ کر لیا جاتا ہے، تاکہ ملک میں آٹے کا بحران پیدا نہ ہو، اسی طرح دیگر ضروری اشیاء کی سارا سال فراہمی کے لئے بھی کوئی میکنزم بنانا چاہئے۔ اگر اس آرڈیننس کے ذریعے بیک جنبش قلم ہر قسم کی ذخیرہ اندوزی کو ممنوع قرار دے دیا جاتا ہے اور کولڈ سٹوریج میں پڑی اشیاء کو ذخیرہ اندوزی قرار دے کر ضبط کر لیا جاتا ہے تو پھر آف سیزن میں ان کی جو قلت پیدا ہو گی اس کا سامنا کون کرے گا۔ اس کا بہترین حل تو یہ ہے کہ مارکیٹ میں موجود اشیاء کو صرف اس وقت سٹور کرنے کی اجازت دی جائے، جب وہ طلب سے زیادہ ہوں۔ صرف مصنوعی قلت پیدا کرنے کی خاطر اگر انہیں ذخیرہ کیا جاتا ہے تو یہ بدنیتی اور قانون شکنی ہے، جس کی پکڑ ہونی چاہئے۔ ماہ رمضان کے آتے ہی اشیائے خورو نوش کی قیمتوں کو پر لگ جاتے ہیں ہمارے ہاں کبھی اس پہلو پر حقیقی توجہ نہیں دی گئی۔ بلکہ اس معاملے کو کنٹرول کرنے کی بجائے رمضان بازار لگانے کی روایت ڈالی گئی۔

حالانکہ یہ ذخیرہ اندوز مافیا کو ہلہ شیری دینے کے مترادف ہے کہ تم جتنی چاہے مہنگائی کرو ہم رمضان بازار لگا کر عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کریں گے، اچھا ہوا کہ اس بار کورونا وبا کی وجہ سے رمضان بازار لگانے کا سلسلہ متروک قرار دیا گیا ہے، وگرنہ یہ رمضان بازار ضلعی انتظامیہ کے لئے سونے کی چڑیا ثابت ہوتے تھے۔ ان کے اخراجات کی مد میں کروڑوں روپے حاصل کر لئے جاتے تھے اور ان میں ناقص اشیاء فراہم کی جاتی تھیں۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ کے پاس طلب و رسد کا پورا ڈیٹا موجود ہو، اسے یہ بھی علم ہو کہ ضلع میں کہاں کہاں کولڈ سٹوریج اور بڑے گودام موجود ہیں جہاں اشیاء ذخیرہ کی جاتی ہیں۔ منڈی چاہے سبزی کی ہو یا غلے کی، اس کی گہری نگرانی کی جائے تو اشیاء کی قلت پیدا ہو ہی نہ سکے۔ اس بار وزیر اعظم عمران خان نے بہت اچھا کیا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں سے بھی ذخیرہ اندوزی کے خلاف معلومات اکٹھی کرانے کی اجازت دے دی ہے۔ جس طرح فلور ملوں کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے کہ انہیں جو گندم دی گئی اسے آٹے کی صورت میں کن کن ڈیلروں کو سپلائی کیا گیا۔ اسی طرح پھلوں، سبزیوں، دال، چینی، گھی، چاول، مرچ اور دیگر اسی نوعیت کی اشیاء کا ذخیرہ کرنے والوں سے بھی یہ پوچھا جائے کہ انہوں نے کب سے ذخیرہ کیا ہے اور کس تناسب سے مارکیٹ میں فراہم کر رہے ہیں ایک خاص مدت سے زیادہ اشیاء کا ذخیرہ کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لایا جانا چاہئے۔

پاکستان میں مصنوعی مہنگائی پیدا کر کے اربوں روپے عوام کی جیبوں سے نکلوا لینا کوئی نئی بات نہیں اب اگر حکومت نے عوام کو اس لوٹ مار سے بچانے کا تہیہ کر ہی لیا ہے تو اس پر پوری سختی کے ساتھ عمل ہونا چاہئے، غربت کی چکی میں پیستے عوام کو اگر حکومت کوئی اور ریلیف نہیں دے سکتی تو مہنگائی مافیا کے خلاف کارروائی کر کے کم از کم انہیں اس ظلم سے تو بچا سکتی ہے، جس کا وہ ہمیشہ شکار چلے آ رہے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -