اگر کرونا نے طول کھینچا…………

اگر کرونا نے طول کھینچا…………
اگر کرونا نے طول کھینچا…………

  

کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کرونا وائرس کی وباء کب ختم ہو گی۔ وہ تو شکر ہے کہ یہ بلا 21ویں صدی میں نازل ہوئی۔ اگر گزشتہ کسی صدی میں آ جاتی تو جانے کیا ہوتا۔ اب تو مواصلاتی ذرائع برق رفتار ہیں۔ کسی بھی لیبارٹری میں اگر آج اس کا کاؤنٹر تیار کرلیا جاتاہے تو اس کا استعمال بھی برق رفتار ہی ہوگا اور نوعِ انسانی کو اس سے چھٹکارا مل جائے گا۔ لیکن اگر یہ وباء 20ویں صدی یا اس سے پہلے پھوٹ پڑتی تو ہم کیسے جان سکتے کہ کس ملک میں اموات کی شرح کیا ہے اور اختتامِ نوعِ بشر کتنا قریب آ جاتا؟

ابھی کچھ دیر پہلے موبائل پر ایک دوست سے بات ہو رہی تھی…… کہنے لگے کہ یہ قیامت کی ابتداء ہے اور احادیث میں جو نشانیاں قربِ قیامت کی بتائی گئی ہیں ان میں کرونا کی یہ وبا بھی شامل ہے۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے احادیث کا کچھ زیادہ علم نہیں بلکہ ہمارے علمائے سُو نے اس باب میں اتنے غلُو سے کام لیا ہے کہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کون سی حدیث مشہور، متواتر، عزیز، غریب یا ضعیف ہے۔ مجھے تو اتنا معلوم ہے کہ جو حدیث آیاتِ قرآن کو سپورٹ کرتی یا ان کی شارح ہو تو میں اس کو قابلِ اعتماد گردانتا ہوں۔ اور…… گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں ……! ہاں اتنا کہا جا سکتا ہے کہ کرونا وائرس، کتابِ حشر کا انٹرو ہے۔

تین چار روز پہلے کسی اخبار کی شہ سرخی تھی کہ: ”پارلیمنٹ کی ایک سٹڈی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس اگلے 400دنوں تک باقی رہے گا“…… لیکن اس کے بعد کیا ہوگا، اس کی کچھ خبر نہیں …… خبر جو بھی ہو یہ امر کتنا وحشتناک ہے کہ دنیا کی واحد سپرپاور میں ہر روز 2500انسان ہلاک ہو رہے ہیں!…… ہماشما کا تو ذکر ہی کیا۔

میں سوچ رہا ہوں کہ جو لوگ لاک ڈاؤن کو برداشت کرنے کی سکت رکھتے ہیں وہ یا تو متمول لوگ ہیں یا وہ سفید پوش ہیں جو پڑھے لکھے ہونے کی وجہ سے حالاتِ جاریہ کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔ یہ وبائیں پہلے بھی نازل ہوتی رہی ہیں اور کروڑوں کی تعداد میں نوعِ بشر موت کے گھاٹ اترتی رہی ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ مرنے والوں کا تعلق کس گروہِ آبادی سے تھا اور جو زندہ بچ گئے تھے وہ کس طبقہ ء انسانی کا حصہ تھے…… تاریخ اس سوال کا جواب یہ دیتی ہے کہ مرنے والوں میں اکثریت کا تعلق ان غریب غرباء سے تھا جن کی جیب علاج معالجے کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی تھی اور جو احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونے کی مالی استطاعت سے محروم تھے…… جرمِ ضعیفی یا جرمِ غریبی کی سزا پہلے بھی موت تھی، آج بھی موت ہے اور آنے والے کل میں بھی موت ہی رہے گی!……

گزشتہ صدیوں میں آفاتِ ارضی و سماوی سے ہونے والی وباؤں اور ابتلاؤں کی کوئی باقاعدہ سٹڈی نہیں کی جاتی تھی۔اس وقت علومِ انسانی اس مقام تک نہیں پہنچے تھے کہ اس قسم کے مطالعات (Studies) کا اہتمام کر سکتے۔ چنانچہ طاعون، ہیضہ، سرطان، سیلاب، زلزلہ وغیرہ جیسی وباؤں میں مرنے والوں اور زندہ رہنے والوں کی اجتماعی تعداد کا ایک رف سا اندازہ (Estimate) تو لگا لیا جاتا تھا لیکن اموات و اتلافات کی وجوہات کیا تھیں، کون سے گروہ ہائے آبادی ان سے متاثر ہوئے، کون سے بچ گئے اور کس وجہ یا وجوہات کی بناء پر بچ گئے اس کی تفصیل اور اعداد و شمار کسی مطبوعہ صورت میں ہم تک نہیں پہنچے۔

البتہ 20ویں صدی کی دوسری عالمی جنگ کی انسانی اموات و اتلافات اور مادی صنائعات (Damages) کے کئی مطالعے (Studies) مطبوعہ شکل میں دستیاب ہیں …… ہم جانتے ہیں کہ اس جنگ میں سب سے زیادہ جانی اور مادی نقصانات محوری طاقتوں کے ہوئے۔ میری مراد جرمنی، جاپان اور اٹلی سے ہے۔ اتحادیوں میں روس کے جانی نقصانات بے تحاشا تھے۔ اس جنگ کی جو تواریخ اب تک منظر عام پر آئی ہیں ان کے مطابق سب سے زیادہ جانی نقصانات روس کے ہوئے۔ روسی افواج اورروسی عوام،جرمن افواج کی زد میں آئے تو سٹالن اور فیلڈ مارشل زدکوف (سپریم کمانڈر رشین آرمڈ فورسز) کا وہ ڈاکٹرین ان میں پیش پیش تھا کہ یہ روسی رہنما اپنے فوجیوں اور سویلین آبادیوں کے نقصانات کی ہرگز پرواہ نہیں کرتے تھے۔ آپریشن باربروسہ میں جب نازی افواج نے 22جون 1941ء کو روس پر حملہ کیا تو دیکھتے ہی دیکھتے یہ جرمن افواج ماسکو تک چلی گئیں۔ اس جرمن پیش قدمی کی راہ میں اگر کوئی شے رکاوٹ بنی تو وہ روس کی عظیم جھیلیں اور دلدلی علاقے تھے جو جرمن یلغار کی رفتار میں حائل ہوئے۔ دوسری وجہ روس کی وہ کچی پکی اور ناہموار سڑکیں تھیں جن پر جرمن میکانائزڈ گاڑیاں (ٹینک اور APCs وغیرہ) رک رک کر آگے بڑھنے پر مجبور ہوئیں اور تیسری وجہ ”جنرل موسم“ کی بے وقت آمد تھی۔ 1941ء کا موسم سرما روس میں وقت سے دو ہفتے پہلے آ گیا اور نازی افواج کا ریلا، ماسکو کے نواح میں پہنچ کر رک جانے پر مجبور ہو گیا۔ اور کثرتِ برفباری نے جرمن ایڈوانس کے آگے بند باندھ دیا۔

اس دوران سٹالن نے اپنی افواج کو حکم دیا کہ وہ جرمن آرمی گروپس کو سرحدوں پر روکیں اور اسلحہ ساز کارخانوں کو ماسکو سے نکال کر عقب میں ولاڈی واسٹک کی جانب Move کروا دیا…… اس کا ایک اور ”کارنامہ“ جو عام تاریخوں میں کم کم لکھا ملتا ہے وہ یہ ہے کہ اس نے اپنے اسلحہ سازی کے کاریگروں کو تو عقبی علاقوں میں محفوظ مقامات پر بھجوا دیا لیکن ساتھ ہی اپنے سائنس دانوں،دانش وروں، صحافیوں، شاعروں، اساتذہ (مرد و زن) اور لکھاریوں کو بھی چن چن کر محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا!……

جب اپریل 1945ء میں یورپ میں یہ جنگ ختم ہو گئی تو یہ ”رشین اثاثے“ عقبی علاقوں سے نکال کر از سر نو ماسکو، لینن گراڈ اور سٹالن گراڈ میں بھیج دیئے گئے۔ اس جنگ میں ان شہروں کی اگرچہ اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی تھی لیکن سٹالن نے حکم دیا کہ سب سے پہلے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو تعمیر کیا جائے…… چنانچہ 1950ء تک روس کی یہ درسگاہیں پھر سے آباد ہو گئیں اور اگلی نسل کی علمی، ادبی، سائنسی، عسکری اور سماجی پرورش میں مشغول ہو کر روس کو پھر سے سوویٹ یونین بنا دیا۔

شائد خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے…… جرمنی نے بھی یہی کچھ کیا…… جنگ عظیم کے آخری دو برسوں میں اتحادیوں نے جرمن شہروں کو فضائی بمباری کے ذریعے تاخت و تاراج کر دیا۔ اسلحہ ساز فیکٹریاں بند ہو گئیں، بھاری پانی تیار کرنے اور جوہری ٹیکنالوجی میں پیشرفت کرنے والی تمام تنصیبات اور سہولیات کو اتحادی انٹیلی جنس اور گوریلاؤں نے مسمار کر دیا۔ لیکن ہٹلر نے مرتے مرتے بھی وہی کام کیا جو روس کے سٹالن نے کیا تھا۔ تمام جرمن اساتذہ، لکھاریوں، دانشوروں، اسلحی سائنس دانوں اور انجینئروں کو جرمنی کے کوہستانی علاقوں میں بھیج کر ان کو زندہ رہنے پر”مجبور“ کر دیا۔ اس کا فائدہ وہی ہوا جو روس کو ہوا تھا۔ مارشل پلان کے تحت اگرچہ امریکہ نے واشنگٹن، نیویارک اور بوسٹن سے لے کر برلن، میونخ اور فرینکفرٹ تک ایک فضائی پل تعمیر کر دیا تھا لیکن ان دیوہیکل طیاروں میں صرف مادی ساز و سامان ہی جرمنی پہنچایا گیا جبکہ افرادی قوت وہی تھی جس کو ہٹلر نے اپنا انجام دیکھتے ہوئے جرمنی کے دشوار گزار علاقوں میں منتقل کر دیا تھا۔ ولی برانٹ 1969ء سے 1974 تک جرمنی کے چانسلر رہے۔ یہ عجیب و غریب انسان تھے۔ اپنے حرامی (Bastard)ہونے پر فخر کیا کرتے تھے۔ جب یہ جنگ ختم ہوئی تو ان کی عمر 32برس تھی۔ وہ جرمنی کی سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی کے بانیوں میں سے تھے، انہوں نے سب سے زیادہ زور جرمنی کے طول و عرض میں پھیلے تباہ شدہ تعلیمی اداروں اور تدریسی درسگاہوں پر دیا۔ میڈیا کے لکھاریوں کی ایک ایسی ”نسل“ پروان چڑھائی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے تباہ حال جرمن معیشت کو دنیا کی بڑی بڑی معیشتوں کے برابر لاکھڑا کیا…… آج جرمنی جو کچھ بھی ہے وہ اپنے اساتذہ (بالخصوص خواتین اساتذہ)، ٹیکنیکل انجینئروں اور اسلحہ ساز کارخانوں کے معماروں کے دم قدم سے ہے…… اور جاپان نے بھی یہی کچھ کیا……

خدا نہ کرے اگر کورونا وائرس مزید پھیلتا ہے تو مجھے معلوم ہے کہ یورپی اور امریکی قائدین اس کا کچھ نہ کچھ مداوا کر لیں گے۔ جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا وہ پہلے بھی اس قیامت سے گزر چکے ہیں۔ قیامت کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک دوسری قیامت کی ضرورت پڑتی ہے مولانا روم کا مشہور شعر ہے کہ اگر قیامت دیکھنی ہو (یعنی برپا کرنی ہو) تو اس کا طریقہ یہی ہے کہ خود قیامت بن جاؤ۔ اور قیامت ہی پر منحصر نہیں ہر شے کو ”دیکھنے“ کا طریقہ یہی ہے!

پس قیامت شو، قیامت را بہ ببیں

دیدنِ ہر چیز را شرط است ایں

آج اگر ہم پاکستانیوں کو لاک ڈاؤن کی قیامت کا سامنا ہے تو اس کا علاج یہی ہے کہ خود قیامت بن کر، قیامت ہی کے سکیل پر اور قیامت ہی کے انداز میں اس کے خلاف ڈٹ جائیں …… اللہ اللہ خیر سلّا!

مزید :

رائے -کالم -