ہر ضلع میں محنت کشوں کیلئے کمپلینٹ سیل قائم کرنے کا فیصلہ

  ہر ضلع میں محنت کشوں کیلئے کمپلینٹ سیل قائم کرنے کا فیصلہ

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا حکومت نے مزدوروں کے لیے ہر ضلع میں فسیلٹیشن سنٹر اور مزدوروں کو درپیش مسائل سننے کے لئے لیبر ڈیپارٹمنٹ میں کمپلینٹ سیل قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔صوبائی وزیر محنت اور ثقافت شوکت علی یوسفزئی نے مزدور کی کم سے کم اجرت حکومت کے مقرر کردہ 17500 روپے کرنے اور ورکرز کی سوشل سکیورٹی کے ساتھ رجسٹریشن پر کوئی دباؤ قبول نہ کرنے کا عزم کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے سی این جی، پیٹرول پمپس اور دُوکانوں میں ناپ تول کے نظام کو بھی شفاف بنایا جائے گا۔وہ گزشتہ روز ڈائریکٹریٹ آف لیبر کے ورکرز ایجوکیشن ونگ اور ورکرز ویلفیئر بورڈ کے بارے میں دی جانے والی بریفنگ کے موقع پر اظہار خیال کر رہے تھے۔ صوبائی وزیر کو بتایا کہ رجسٹرڈ مزدوروں کے بچوں کو تعلیمی وظائف کے طور پر ہر سال کروڑوں روپے دیے جاتے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ کارخانہ یا دیگر اداروں کے مالکان رجسٹریشن سے انکار کریں تو ورکرز اپنے کوائف اور ادارہ کا نام کمپلینٹ سیل 0919211546 پر بھجوا سکتے ہیں۔ رجسٹرڈ مزدوروں کو جہیز اور ڈیتھ گرانٹ کے علاوہ بچوں کو تعلیمی سکالرشپس، مزدور پینشن اور ڈیتھ پنشن ملا کریں گے انہوں نے کہا کہ مالک کی طرف سے ڈیتھ معاوضہ تین لاکھ روپے سے بڑھا کر پانچ لاکھ روپے کرنے کے لئے قانون سازی کریں گے۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ کم سے کم اجرت کو یقینی بنانے کے لیے مزدوروں کو تنخواہ بذریعہ بنک دی جائے گی انہوں نے ڈائریکٹر لیبر کو ہدایت کی کہ صوبے کے تمام صنعتی یونٹس، لیز ہولڈرز، ہوٹلوں اور کمرشل پلازوں میں کام کرنے والے مزدوروں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ سرکاری محکموں کی طرف سے اپنے پراجیکٹ ملازمین کو حکومت کے مقرر کردہ ویجز پر عمل نہ کرنا باعثِ تشویش ہے یہ بات وزیراعلی محمود خان کے نوٹس میں لائی جائے گی لیبر لاز اس پر عمل درآمد اور قانون میں ترامیم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مزدوروں پر مالکان کا دباؤ ختم کرنے کے لیے تربیتی سیشنز اور سمینار صنعتی یونٹوں کی بجائے لیبرکالونیز میں منعقد کیے جائیں۔صوبائی وزیر نے کہا کے وزیراعلیٰ محمود خان کی انہیں مکمل سپورٹ حاصل ہے اور وزیراعلی چاہتے ہیں کہ ان کے صوبے کے مزدوروں کی بھلائی ہو انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر صوبے بھر کے مزدوروں میں ان کے حقوق کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جائے گی تاکہ آئندہ کوئی بھی غریب مزدور کے حق پر ڈاکہ نہ ڈال سکے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -