روزنامہ پاکستان کے بیوروچیف واجد علی کیساتھ پولیس کی بدتمیزی

روزنامہ پاکستان کے بیوروچیف واجد علی کیساتھ پولیس کی بدتمیزی

  

نوشہرہ (بیورورپورٹ) ایس ایچ او نوشہرہ کینٹ کی ایما ء پر موبائل افسر اے ایس آئی کا روزنامہ پاکستان کے دفتر پر دھاوا سینئر صحافی اور روزنامہ پاکستان کے بیوروچیف کو تھانے لے جاکر ان کے ساتھ بدتمیزی اور ان کو حوالات میں بند کرنے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی دھمکی صحافیوں اور معززین کی مداخلت سے صحافی کو چھوڑ دیا گیا سینئر صحافی کے ساتھ ایس ایچ او نوشہرہ کینٹ کی بدتمیزی پر نوشہرہ پریس کلب کی صحافی برادری سراپا احتجاج ایس ایچ او نوشہرہ کینٹ اور اے ایس آئی کی ضلع بدر کرنے کا مطالبہ نوشہرہ کے صحافیوں کاایس ایچ او نوشہرہ کینٹ اور اے ایس آئی کی ضلع بدری تک نوشہرہ پولیس کی ہر قسم کوریج سے بائیکاٹ کا اعلان تفصیلات کے مطابق روزنامہ پاکستان کے بیوروچیف واجد علی اپنی دوکان واقع دفتر روزنامہ پاکستان میں اپنی صحافتی ذمہ داریاں سرانجام دینے کیلئے بیٹھا ہوا تھا کہ تھانہ نوشہرہ کینٹ کے اے ایس آئی افتخار بمعہ پولیس نفری کے ہمراہ آئے اور زبردستی دفتر بند کرنے کا کہا جب صحافی نے کہا کہ یہ میرا دفتر ہے اور اپنی صحافتی امور نمٹاکر جارہا ہوں جس پر اے ایس آئی آگ بگولہ ہوگیا اور کہا کہ میڈیا جائے بھاڑ میں چاہیے تم ڈی آئی جی،آئی جی پی یا وزیر سفیر کو بتاو تمیں دفتر بند کرنا پڑے گا نوشہرہ کینٹ پولیس کی بازار میں بعض دوکانداروں کے ساتھ ملی بھگت کی وجہ سے لاک ڈاون کا ستیاناس ہوا ہے نوشہرہ کینٹ پولیس رویہ کے خلاف نوشہرہ پریس کلب کے صحافیوں نے نوشہرہ پولیس کی ہر قسم کوریج کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے اور ڈی آئی جی مردان ریجن، آئی جی پی خیبر پختونخواہ سمیت اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ایچ او نوشہرہ کینٹ اور تھانہ نوشہرہ کینٹ کے اے ایس آئی افتخار کے خلاف محکمانہ کاروئی کرکے ان کو ضلع بدر کریں ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -