8قومی کرکٹرز کا آن لائن فٹنس ٹیسٹ مکمل

8قومی کرکٹرز کا آن لائن فٹنس ٹیسٹ مکمل

  

لاہور(سپورٹس رپورٹر)قومی کرکٹرز کے آن لائن فٹنس ٹیسٹ کا آغاز ہوگیا۔پہلے دن8کھلاڑیوں حارث سہیل، محمد عباس، اسد شفیق، سرفراز احمد،شان مسعود، حسن علی، شاداب خان اور عماد وسیم کے فٹنس ٹیسٹ لئے گئے،سنٹرل کنٹریکٹ یافتہ دیگر کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ(آج)منگل کو لیے جائیں گے۔ٹرینرز کی جانب سے 6،6 کھلاڑیوں کے سیٹ بناکر ان سے باری باری مختلف مشقیں کروائی گئیں،یوں اگلی ڈرل سے قبل سانسیں بحال کرنے کیلئے مناسب وقفہ بھی مل جاتا ہے، پش اپ، سٹ اپ، چن اپ اور بلغارین اسکواٹ سمیت مختلف مشقوں کے ذریعے کرکٹرز کی فٹنس کا جائزہ لیاگیا،سنٹرل کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ قومی ٹیم کے اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشنگ کوچ یاسر ملک لے رہے ہیں،ڈومیسٹک کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ متعلقہ ٹیموں کے ٹرینرز لے رہے ہیں۔یاد رہے کہ پی سی بی نے کنٹریکٹ کو پرفارمنس کیساتھ فٹنس سے بھی مشروط کرتے ہوئے پالیسی وضع کی تھی کہ معیار پر پورا نہ اترنے والے کھلاڑی کی تنخواہ سے 15 فیصد کٹوتی شروع ہو جائے گی جو بہتری آنے تک جاری رہے گی، مسلسل ناکامی پر کیٹیگری میں تنزلی یا پھر کنٹریکٹ ہی ختم کر دینے کا فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے، تاہم گزشتہ روز ہیڈکوچ و چیف سلیکٹر مصباح الحق نے واضح کردیا تھا کہ ٹیسٹ کا مقصد کھلاڑیوں کو سرگرم رکھنا ہے،اس کی بنیاد پر کسی کھلاڑی کو جرمانے یا سزا کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ آن لائن ٹیسٹ کا مقصد وبائی وائرس سے بچاؤ کے لیے گھروں پر بیٹھے کھلاڑیوں کو فٹ رکھنا ہے، معیار سے کم رزلٹ کسی کرکٹر کے ریکارڈ پر اثر انداز نہیں ہو گا نہ ہی کوئی کٹوتی ہو گی۔ ڈومیسٹک کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ متعلقہ ٹیموں کے ٹرینرز لے رہے ہیں علاوہ ازیں پاکستان سپورٹس بورڈ نے کورونا وائرس کی وجہ سے ماضی میں کھیلوں کے مختلف مقابلوں میں شاندار کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو تقریباً 50 لاکھ روپے سے زائد جاری کر دیئے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پی ایس بی حکام نے بتایا کہ57 کھلاڑیوں میں سے ہر ایک کو 90 ہزار روپے کے چیک دیئے جنہوں نے ماضی میں اپنے اپنے کھیلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرکے ملک کا نام روشن کیا تھا،یہ رقم وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی خصوصی ہدایت پر پاکستان سپورٹس فاؤنڈیشن ریلیف فنڈ سے فراہم کی گئی۔ حکام کے مطابق وظیفہ کی رقم وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ کی سربراہی میں منعقدہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں منظور کی گئی، صرف ایسے کھلاڑی جن کی عمر 50 سال سے زائد ہے امدادی فنڈ سے مالی مدد کے اہل ہیں۔ حکام ن بتایا کہ یہ وہ کھلاڑی ہیں جنہوں نے ماضی میں اتھلیٹکس، باکسنگ، باڈی بلڈنگ، فٹ بال، ہاکی، کبڈی، ٹینس، والی بال، ویٹ لفٹنگ اور ریسلنگ کے مقابلوں میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر تمغے جیتے تھے۔

مزید :

کھیل اور کھلاڑی -