پنجاب، 500سے زائد صنعتوں، فیکٹریوں میں ایس او پیز کی خلاف ورزی، کارروائی شروع

      پنجاب، 500سے زائد صنعتوں، فیکٹریوں میں ایس او پیز کی خلاف ورزی، کارروائی ...

  

لاہور(لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر کے 10 بڑے شہروں میں 500 سے زائد صنعتوں، فیکٹریوں اور کارخانوں میں کرونا سے بچاؤ کے ”ایس او پی“ پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر،وزیر اعلی پنجاب کے حکم پرمشتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے چھاپے شروع، متعدد صنعتوں،فیکٹریوں اور کارخانوں کے مالکان کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع،پہلے مرحلہ میں نوٹس دوسرے مرحلہ میں صنعتوں اور فیکٹریوں کو سیل کیے جانے کے عمل میں تیزی کر دی گئی ہے۔ ”روزنامہ پاکستان“ کو محکمہ انڈسٹریز اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب کے بڑے شہروں شیخوپورہ، قصور، ننکانہ صاحب، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات اورساہیوال سمیت 10 بڑے شہروں میں صنعتوں، فیکٹریوں او رکارخانوں میں بڑے پیمانے پر کرونا کے خلاف جاری ”ایس او پی“ پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ہے جس پر ٹیکسٹائل سیکٹر، فارماسیوٹیکل سیکٹر،فوڈ اور ربڑ تیار کرنے والے کارخانوں اور فیکٹریوں اور تعمیراتی کمپنیوں سمیت 500 سے زائد صنعتوں، فیکٹریوں او رکارخانوں کے مالکان کو کرونا سے بچاؤ کے لئے جاری تجاویز پر مبنی ”ایس او پی“ پر عمل درآمد نہ کرنے پر مرحلہ وار کارروائی شروع کر دی گئی ے۔جس پہلے مرحلہ میں سینی ٹائیزر،ماسک گلوز اور دیگر آلات سمیت ایس او پی پر عمل درآمد نہ کرنے پر 500سے زائد صنعتوں فیکٹریوں اور کارخانوں سمیت شاپس پٹرول پمپس اور ورکشاپوں کے مالکان کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں محکمہ انڈسٹریز، محکمہ لیبر، سوشل سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی انتظامیہ سمیت پولیس پر مشتمل ضلعی سطح پر جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیمیں تشکیل دی گئی ہے جس پر اس جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے لاہور سمیت شیخوپورہ، ننکانہ صاحب،قصور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور گجرات میں صنعتوں اور فیکٹریوں سمیت ہوٹلوں،پٹرول پمپس، ورکشاپوں اور کارخانوں کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے ڈیپارٹمینٹل سٹورں کی بڑے پیمانے پر انسپکشن کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس حوالے سے محکمہ سوشل سیکیورٹی پنجاب کے ترجمان اور محکمہ لیبر کے ڈائریکٹر ہیڈ کوارٹر پنجاب محمد داؤد عبداللہ نے بتایا کہ کرونا سے بچاؤ کے لئے حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد نہ کرنے والی انڈسٹریز، فیکٹریوں اور کارخانوں کو پہلے مرحلہ میں نوٹس بھجوائے جا رہے ہیں جبکہ دوسرے مرحلہ میں تین روز کے بعد صنعتوں،فیکٹریوں اور کارخانوں کو دوبارہ چیک کیا جارہا ہے اور اس میں کرونا سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات نہ ہونے پر صنعتوں،فیکٹریوں اور کارخانوں سمیت ورکشاپوں اور ڈیپارٹمینٹل سٹوروں کو باقاعدہ محکمہ لیبر کے ایکٹ 1934 کے تحت کارروائی کر دی گئی ے جس میں صنعتوں،فیکٹریوں اور کارخانوں کو باقاعدہ سیل بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ”ایس او پی“ پر عمل نہ کرنے والے صنعتی اور فیکٹری مالکان کے خلاف جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کر دی ہیں جس میں پہلے مرحلہ میں لاہور، شیخوپورہ، فیصل آباد اور قصور میں ٹیکسٹائل سیکٹر، فارماسیوٹیکل سیکٹر، فوڈ تیار کرنے والے کارخانوں سمیت تعمیراتی سیکٹر ورکشاپوں،ڈیپارٹمینٹل سٹوروں اور بھٹوں کی انسپکشن کی جا رہی ہے۔ اس میں محکمہ انڈسٹریز،محکمہ لیبر اور سوشل سیکیورٹی کی ٹیموں سمیت پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں انسپکشن میں شامل ہوتی ہیں۔ ڈائریکٹر لیبر ہیڈ کوارٹر پنجاب داؤد عبداللہ نے مزید بتایا کہ کرونا سے بچاؤ کے لئے حفاظتی اقدامات کی چیکنگ کے لئے ڈائریکٹر لیبر لاہور نارتھ زون ارشد محمود تارڑ اور ڈائریکٹر لیبر ساؤتھ ضیغم عباس مظہر پر مشتمل لاہور اور شیخوپورہ سمیت قصور اور ننکانہ صاحب میں صنعتوں، فیکٹریوں اور کارخانوں سمیت بھٹوں کی انسپکشن کے لئے الگ سے ٹارگٹ دئیے گئے ہیں اور کرونا سے بچاؤ کے لئے حفاظتی اقدامات نہ کرنے والے صنعتی و فیکٹریز مالکان کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

کارروائی شروع

مزید :

صفحہ آخر -