نشتر ہسپتال: عملے کی کرونا وارڈمیں اضافی ڈیوٹیاں‘ ینگ نرسز کا احتجاج

نشتر ہسپتال: عملے کی کرونا وارڈمیں اضافی ڈیوٹیاں‘ ینگ نرسز کا احتجاج

  

ملتان(نمائندہ خصوصی)نشتر ہسپتال انتظامیہ کورونا بچاو کی بجائے کورونا پھیلاو مہم پر کاربند ہوگئی بغیر میڈیکل سرٹیفکیٹ ضعیف طبی عملے کی ڈیوٹیاں کورونا وارڈ میں لگائی جانے لگی لگیں تفصیل کے مطابق نشتر ہسپتال کے 27 ڈاکٹروں 3 نرسز 5 پیرا میڈیکس کے کورونا میں مبتلا ہونے کے باوجود نشتر ہسپتال انتظامیہ کے انوکھے فیصلے جاری ہیں،ایک جانب غیر ضروری(بقیہ نمبر30صفحہ6پر)

طبی عملے کی کورونا وارڈز میں اضافی ڈیوٹیاں لگائی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے پہلے سے کم حفاظتی کٹس کا ضیاع ہو رہا ہے دوسری جانب ریٹائرمنٹ کے قریب شوگر دل کے مختلف عارضوں بلڈ پریشر میں مبتلا طبی عملے کی بغیر میڈیکل سرٹیفکیٹ ڈیوٹیاں کورونا وارڈز میں لگائی جا رہی ہیں اس حوالے سے ینگ نرسز ایسوسی ایشن کی ڈویژنل جنرل سیکرٹری نورین اور صائمہ یامین نے بتایا کہ 58 سالہ ہیڈ نرس تسنیم برکت اپنی ریٹائرمنٹ کے آخری سال پورے کر رہی ہیں،شوگر, بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا ہیں,فالج کا اٹیک بھی ہو چکا ہے, یہاں تک کہ وہ بات بھی کریں تو مشکل سے انکی زبان سمجھی جاتی ہے،گزشتہ دنوں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نشتر یسپتال ملتان نے انکو کرونا پاڑیٹو آئسولیشن وارڈ میں ڈیوٹی پہ متعین کیا،مگر ہیڈ نرس نے میڈیکلی فٹ نہ ہونے کی وجہ سے معذرت کی،انکی اس معذرت پہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے انکو عہدے سے معزول کر دیا, اور نشتر میں انکی سروس بھی معطل کر دی،ہم اس واقعے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور انتظامیہ کو یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ اگر ڈاکٹر شاہد بخاری نے انکی معطلی کے آرڈر واپس نہ لئے, اور سروس بحال نہ کی تو نشتر ہسپتال کی ساری نرسز ہسپتال میں احتجاجاً کام کرنا چھوڑ دیں گی۔

احتجاج

مزید :

ملتان صفحہ آخر -