نااہل حکمرانوں نے ملک کو اندھیروں کی طرف دھکیل دیا ہے‘شیخ فیاض الدین

  نااہل حکمرانوں نے ملک کو اندھیروں کی طرف دھکیل دیا ہے‘شیخ فیاض الدین

  

خان پور (نامہ نگار) مسلم لیگ ن کے ایم این اے شیخ فیاض الدین نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے پانچ سال میں اتنا کام کیا جتنا 70 برسوں میں نہیں ہواتھا ن لیگ نے ملک کو امن دیا، روز دھماکے ہوتے تھے (بقیہ نمبر18صفحہ6پر)

کراچی میں 2013ء میں روزانہ اوسطاً 25 افراد قتل ہو تے تھے‘ تاجروں کو بھتے کی پرچیاں ملتی تھیں‘ شہر ہفتہ ہفتہ بند رہتا تھا کئی کئی گھنٹے بجلی نہیں ہوتی تھی، پاکستان اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا انڈسٹری بند تھی نواز شریف نے دن رات محنت کرکے تمام معاملات پر قابو پایا تھا مگر موجودہ نا اہل حکمرانوں نے ایک دفعہ پھر ملک کو اندھیروں کی طرف دھکیل دیا ہے اپنی رہائش گاہ پر ایم پی اے حاجی محمد ارشد جاوید، مسلم لیگ ن یوتھ ونگ کے مرکزی رہنما چوہدری سلمان نواز کے ہمراہ ن لیگی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ فیاض الدین نے مزید کہا کہ میاں نواز شریف نے گیم چینچر منصوبہ سی پیک بھی شروع کرا دیا تھا اور ملک میں 67 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لے آیا تھا، جو اب منجمد ہوچکا نواز شریف اسٹاک ایکسچینج کو 19 ہزار سے 54 ہزار پوائنٹس تک لے گئے، ترقی کی شرح 5،8 فیصد اور مہنگائی کی شرح صرف 3 فیصد تھی ن لیگ کی حکومت نے پانچ سال میں 51 نئے ہسپتال بنا دیے،تمام ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں سی ٹی اسکین مشین نصب کی،انہوں نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ ن لیگی حکومت نے جو قرضے لیے وہ کہاں گئے تو ان کے لیے صرف یہی مثال دوں گا کہ 2013 میں پاکستان کی کل آمدنی 1980 ارب تھی جس کو مسلم لیگ ن ڈبل کرکے 4000 ارب کردیا تھا، اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو محاصل میں جو حصہ ملتا ہے اس کے مطابق 2018 کے بجٹ میں ان کا حصہ 2380 ارب بنتا تھا، 1150 ارب ڈیفنس بجٹ اور 800 ارب کی تنخواہیں پنشن،2018 میں پاکستان کا ٹوٹل بجٹ 5900 ارب تھا اب یہ جو 1900 ارب خسارہ ہے یہ کوئی بھی حکومت قرضوں کا آپشن ہی استعمال کرتا، لیکن ان قرضوں کا مصرف کیا تھا، کیا ماضی کی حکومتوں نے قرضے نہیں لیے تھے؟ کیا نواز شریف نے ماضی کی حکومتوں کے قرضے نہیں دیے؟ موجودہ حکومت نے اکہتر سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ قرضہ لیا مگر کوئی ایک اینٹ نہیں لگائی موجودہ حکمرانوں کو صرف اپنی سیاسی مخالفت مٹانے کے علاوہ اور کچھ نہیں آتا اس موقع پر شیخ وقار الدین، شیخ عماد الدین، محمد ارشد رحمانی، شیخ ذیشان علی و دیگر بھی موجود تھے۔

فیاض الدین

مزید :

ملتان صفحہ آخر -