کے ایم سی کی مارکیٹوں اور دکانوں کا اپریل مئی کا کرایہ فوری وصول نہیں کیا جائے گا: میئر کراچی

  کے ایم سی کی مارکیٹوں اور دکانوں کا اپریل مئی کا کرایہ فوری وصول نہیں کیا ...

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کے ایم سی کی تمام مارکیٹوں اور دکانوں کا ماہ اپریل اور مئی کاکرایہ فوری وصول نہیں کیا جائے گا ان مہینوں کاکرایہ آنے والے چار ماہ کے کرائے میں تقسیم کرکے لیا جائے گا، تاکہ چھوٹے کاروبار کرنے والے دوکانداروں کو ریلیف مل سکے، انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس اور لاک ٹاؤن کے باعث لوگ اعصابی تناؤ کا شکار ہیں اور گھروں میں انتہائی فکر مند اور پریشان ہیں، ہمیں حفاظتی اقدامات اپناتے ہوئے چھوٹے تاجروں، الیکٹرانکس، فرنیچر اور کلاتھ مارکیٹوں کو کھولنا پڑے گا بصورت دیگر ان لوگوں کیگھروں میں فاقوں کی نوبت آجائے گی اور کاروباری حضرات اپنے ملازمین کو تنخواہیں ادا نہیں کرسکیں گے، یہ بات انہوں نے پیر کے روز فریئر ہال میں آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر کی سربراہی میں ملنے والے 10 رکنی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر ڈپٹی میئر سید ارشد حسن، سینئر ڈائریکٹر کو آرڈینیشن مسعود عالم، سینئر ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ بشیر صدیقی، تاجر اتحاد کے رہنماء عبدالحئی خان، محمد اکرم رعنا، الطاف لالا، شیخ ایم رفیق، سکندر خالد نور، ایس ایم ارشاد اور راشد خان کے علاوہ متعلقہ افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی نے کہا کہ کراچی میں 6 لاکھ سے زائد دکانیں ہیں جن سے شہریوں کو روزگار میسر آتا ہے، لاک ڈاؤن کو 37 روز گزر گئے ہیں اور اب حکومت اور عوام یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ کاروبار کو مسلسل بند رکھا جائے، میئر کراچی نے کہا کہ مختلف کاروبار کی مارکیٹیں کھولنے کے لئے دنوں کا تعین کیا جاسکتا ہے، دکاندار اور گاہک پر یہ لازم ہوگا کہ وہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کریں، انہوں نے کہا کہ یہ گاہک کی ذمہ داری ہوگی کہ لازمی طور پر ماسک اور دستانے پہن کر مارکیٹ میں آئیں، میئر کراچی نے تاجروں سے درخواست کی کہ وہ ہر مارکیٹ میں اپنے تین سے چار ایسے فعال نمائندے متعین کریں جو اس بات کو یقینی بنائیں کہ کورونا وائرس سے بچنے کے لئے دکاندار اور خریدار تمام تر حفاظتی اقدامات کو اپنائے ہوئے مارکیٹوں اور دوکانوں میں داخل ہوں، انہوں نے کہاکہ تمام مارکیٹوں میں اس سلسلے میں بینرز آویزاں کئے جائیں اور اگر ممکن ہو تو ہینڈ بلز کے ذریعے اشتہاری مہم بھی چلائی جائے، میئر کراچی نے کہا کہ گوشت، دودھ، سبزی فروٹس اور سپر اسٹور پر اکثر یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ شہری کورونا سے بچنے کے لئیحفاظتی اقدامات نہیں کررہے یہ ان کے لئے انتہائی خطر ناک اور نقصان دہ ہے جبکہ دوسرے شہریوں کو بھی اس سے خطرات لاحق ہیں، میئر کراچی نے کہا کہ میں حکومت سے درخواست کروں گا کہ وہ چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کو ٹیکسز اور یوٹیلیٹی بلز میں ریلیف دیں، سلیذ ٹیکس میں کمی کی جائے تاکہ کاروبار ی حضرات اس مشکل وقت سے نکل سکیں، میئر کراچی نے تاجر رہنماؤں سے درخواست کی کہ ضلعی سطح پر ان جگہوں اور ایریاز کی نشاندہی کریں جہاں جراثیم کش اسپرے کروانا مقصود ہو تاکہ فوری طور پر ایسی کاروباری جگہوں پر اسپرے کیا جاسکے، انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال دو ملکوں کے درمیان ہونے والی ہولناک جنگ سے بھی زیادہ خطرناک ہے کسی کو نہیں معلوم کہ گولی کہاں ہے اور کس کو لگنے والی ہے، انہوں نے کہا کہ اسمال میڈیم انٹرپرائیزڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کراچی کے کاروباری حضرات کو بھی موجودہ حالت میں ہونے والے خسار یکو پورا کرنے کے لئے مالی امداد فراہم کرے، میئر کراچی نے تاجروں کو آگاہ کیا کہ کے ایم سی کی مالی صورتحال انتہائی ابتر ہے اور تنخواہوں اور پنشن کی مد میں ہر ماہ 10 سے 12 کروڑ روپے کا شاٹ فال ہے لیکن ہم شہرکے لئے اس صورتحال میں آپ لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور جو بھی ممکن ہوسکا وہ اقدامات کرنے سے گریز نہیں کریں گے، لوگوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دی جائے گی میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کی 50 فیصد سے زائد آبادی کچی آبادیوں میں مقیم ہے اور زیادہ تر غریب اور لوائر مڈل کلاس ان آبادیوں میں رہائش پذیر ہے، اگر کورونا وائرس کی وباء ان آبادیوں میں پھیل گئی تو اسے کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا، حکومت ہوش کے ناخن لے اور حقیقی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات کرے، اس موقع پر آ ل کراچی تاجر اتحاد کے چیئر مین عتیق میر نے کاروبار کھولنے، چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کو ریلیف دینے سے متعلق تحریری سفارشات بھی میئر کراچی کے حوالے کیں، انہوں نے کہا کہ لاہور میں کاروباری مراکز کافی حد تک کھل گئے ہیں لیکن کراچی میں ہمارے ساتھ امتیازی سلوک برتا جارہا ہے، حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر نظام الاوقات کا علان کرے کیونکہ رمضان المبارک اور عید کی آمد کے پیش نظر مارکیٹوں کا بند رکھنا کراچی کے تاجروں کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگا۔اور ان کے کاروبار تباہ ہو جائیں گے اور لاکھوں افراد کو بیروزگاری کا سامنا ہوگا،

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -