فلاحی اداروں کی رفاہی خدمات لائق تحسین ہیں: ڈاکٹر عامر محمد ی

    فلاحی اداروں کی رفاہی خدمات لائق تحسین ہیں: ڈاکٹر عامر محمد ی

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)اتحاد بین المسلمین کونسل کے چیئرمین علامہ ڈاکٹر عامر عبداللہ محمدی نے کہا ہے کہ فلاحی اداروں کی رفاہی خدمات لائق تحسین ہیں لیکن عوام میں یہ شعور بیدار کرنے کی اس وقت شدید ضرورت کہ بغیر مانگنے اور سوال کرنے سے سے پرہیز کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سماجی اداروں کے راہنماؤں سے ویڈیو کانفرنس کے دوران کیا۔ویڈیو کانفرنس میں اہلحدیث ویلفئیر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری محند عرفان شیخ،جامع مسجد باب الاسلام ٹرسٹ لیاقت آباد کے صدر، طاہر انصاری، جامع مسجد اقصیٰ سرجانی کے صدر،محمد اشرف انصاری، جامع مسجد ابراہیم خلیل اللہ کے نائب صدر، بابر منیراسلامک ریسرچ اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کی سیدہ عفت عائشہ، الفلاح فاؤنڈیشن کی ڈاکٹر جویریہ طلعت،کے علاوہ حزیفہ ناصر،عبداللہ کامران زبیر احمد، حسن طارق، اور دیگر شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک شخص کو دیکھا جو لوگوں سے روٹیاں مانگ رہا تھا آپ اس کے قریب گئے تو دیکھا کہ وہ اپنی جھولی میں بہت ساری روٹیاں جمع کرچکا ہے اور پھربھی مانگ رہا ہے۔آپ رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اونٹوں کے پاس لے جاکر اس کی جھولی ان اونٹوں کے سامنے خالی کردی تاکہ وہ اونٹ یہ روٹیاں کھالیں اور ارشاد فرمایا کہ تم بھوکے اور فقیر ومسکین نہیں،تم تو تاجر ہو جو روٹیاں جمع کررہے ہو۔ڈاکٹر عامر عبداللہ نے کہا کہ سماجی اداروں کو چاہیئے کہ عوام میں اس بات کا شعور دیں کہ اسلام میں مانگنے کو سخت ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے۔خدا کے لئے قوم کو بھکاری بننے سے روکئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک شخص سے جو سول کرکے کچھ مال لینے دربار رسالت میں آیا تھا،اس کے گھر سے ایک پیالہ منگوا کر اسے دو درھم کی قیمت میں فروخت کرکے ایک درھم سے راشن اور ایک درھم سے کلہاڑی کا پھل لانے کا کہا تھا۔پھر دست مں ارک سے لکڑی کے دستے میں لگا کر اسے لکڑیاں کاٹ کر اپنا گھر چلانے کی تعلیم دی تھی۔ اس وقت اگر لاک ڈاون کی وجہ سے مزدور کو مزدوری،رکشہ ڈرائیورز کو سواری اور دیہاڑی دار کو کام نہیں مل رہا تو کم پر گزارہ کرنے کی کوشش کریں،کفایت شعاری سے کام لیا جائے۔تین وقت کی جگہ دو وقت کھالیجئے لیکن سوال نا کیجئے۔ڈاکٹر عامر عبداللہ نے کہا کہ پندرہ شعبان تک ہم نے سنت کے مطابق بہت سے دوستوں اور شاگردوں کو روزے رکھنے کا مشورہ دیا جس پر بہت سوں نے عمل بھی کیا۔بہت سوں کے چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء بھی ادا ہوگی۔ہماری قوم ایک خوددار قوم ہے لیکن عوام میں حکمرانوں کی عیاشیوں کہ وجہ سے حرص کا مادہ پیدا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں ہر سال سیکڑوں کی تعداد میں عمرے کا لیبل لگا کر پاکستان سے بھکاری مافیا ایک بڑی تعداد میں لوگوں کو مکہ مدینہ پہنچاتا ہے جس سے پوری دنیا کے لوگوں میں پاکستانی عازمین کو شرمساری ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ علماء کرام،سماجی ورکرز لوگوں میں خودکفالت،خودانحصاری،خودی، غیرت،حمیت،حیا وشرم،لحاظ ومروت جیسی مثبت خوبیاں لوگوں میں پیدا کرنے کی کوشش کریں۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -