کراچی لاک ڈاؤن، مستشنی اداروں کے لیے این او سی کی شرط ختم

  کراچی لاک ڈاؤن، مستشنی اداروں کے لیے این او سی کی شرط ختم

  

کراچی(این این آئی)سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن کی پابندی سے مستشنی قرار دیئے جانے والے اداروں کے لیے این او سی اور انڈرٹیکنگ کی شرط ختم کردی ہے۔ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے کرونا لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ صنعتوں، کاروبار اور ریسٹورنٹس کے لیے ایک اور بڑے ریلیف کا اعلان کردیا۔ کمشنر کراچی نے مستشنی قرار دیے جانے والے اداروں سے این او سی اور انڈر ٹیکنگ لینے کی شرط ختم کردی جس کے بعد کاروباری، صنعتی سرگرمیاں اور ریسٹورنٹس بغیر کوئی کاغذ جمع کرائے اپنا کام شروع کرسکتے ہیں۔کمشنرکراچی نے کاروباری انڈسٹری اورریسٹورنٹس کیلئے ایڈمنسٹریٹیو آرڈرجاری کردیا جس کے تحت تمام انڈسٹریز، ریسٹورنٹس، کاروباری شخصیات کو محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے قواعد و ضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔قبل ازیں سندھ حکومت نے تاجروں کی مشاورت سے کراچی میں دکانیں اور بازار کھولنے کا پلان تیار کیا۔ جس کے تحت کراچی کے تجارتی مراکز اور دکانوں کو کاروبار کی نوعیت کے لحاظ سے 13شعبہ جات کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ہر درجے میں شامل شعبے کو ہفتے میں دو روز کاروبار کی اجازت ہوگی۔وزیر اعلی سندھ کے بعد کمشنر کراچی کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں میں شامل تاجروں نے اپنی سفارشات پیش کیں اور بتایا کہ پلان کے مطابق گاڑیوں کے شورومز، مکینک، پرزہ جات کی دکانیں ڈینٹر پینٹرز اور آٹو سیکٹر سے متعلق تمام دکانیں و بازار کو ایک شعبہ تصور کیا جائے گا اور ہفتہ میں دو روز گاڑیوں سے متعلق کاروبار کھولا جائے گا۔اسی طرح کپڑے کے مراکز، سلائی کے لیے درکار میٹریل، درزیوں کی دکانیں، سلے سلائے ملبوسات کے مراکز، ایمبرائڈری ورک سمیت ملبوسات سے متعلق جملہ کاروبار بھی ایک کٹیگری میں رکھے گئے ہیں جو ہفتہ میں دو روز کھولے جائیں گے۔گھریلو استعمال کی اشیا کو ہاؤس ہولڈ میں رکھا گیا ہے جس میں فرنیچر، پردے، قالین، برتن کی دکانیں، پلاسٹک و دیگر مصنوعات کو شامل کیا گیا ہے یہ تمام کاروبار بھی ہفتے میں دو روز ایک ساتھ کھولے جائیں گے۔کراچی کے تمام الیکٹرک اور الیکٹرانکس مصنوعات کے بازار، دکانیں موبائل مارکیٹ، مرمت کی دکانیں بھی ایک ہی کٹیگری میں رکھی گئی ہیں، تعمیراتی میٹریل کو ایک الگ کٹیگری میں رکھا گیا ہے جس میں تمام ساز وسامان، تعمیرات سے متعلق ہارڈ ویئر، کارپینٹر، لکڑی کے بازار، دروازے چوکھٹ تیار کرنے والے، پینٹ کی دکانیں، آئرن ورکس بھی شامل ہیں۔صنعتی پرزہ جات اور صنعتوں کے لیے میٹریل فروخت کرنے والے مراکز، موٹروں کی فروخت اور مرمت، انجینئرنگ ورکس سے متعلق مراکز صنعتی کیمکل کی دکانیں ایک کٹیگری کا حصہ ہوں گی۔ذرائع کے مطابق عام بازاروں میں کریانہ اور اشیائے ضروریہ، گوشت مرغی کی دکانیں بھی ہفتہ میں دو روز کے لیے بند کی جائیں گی، میڈیکل اسٹورز اور دودھ کی دکانیں بیکریاں پورا ہفتہ کھولنے کی اجازت ہوگی۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -