عبدالعلیم خان سیاست و وزارت

عبدالعلیم خان سیاست و وزارت

  

لاہور میں جن لوگوں کی پی ٹی آئی میں شمولیت سے پارٹی مضبوط ہوئی ان میں علیم خاں ایک معروف سیاستدان ہیں۔ وہ پڑھے لکھے گھرانے میں ستر کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں پیدا ہوئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ سے اپنی سیاست کا آغاز کیا اور 2002ء کے انتخابات میں حلقہ این اے 127 سے بطور رکن قومی اسمبلی حصہ لیا مگر کامیاب نہ ہوئے۔ 2003ء میں پنجاب اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں کامیاب ہوئے اور انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے پہلے وزیر بنے۔ 2007ء تک وہ اس عہدے پر کام کرتے رہے۔ جس طرح پاکستان کی سیاست اور تاریخ میں پنجاب کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اسی طرح پنجاب میں لاہور کا ایک نمایاں سیاسی مقام ہے۔ صوبائی دارالحکومت ہونے کے ساتھ ساتھ لاہور پڑھے لکھے اور سیاسی طور پر بیدار مغز لوگوں کا شہر ہے۔ لاہور قیام پاکستان سے ایک عشرہ پہلے سے ہی پنجاب کی سیاست کا مرکز رہا ہے۔ لاہور سے اپنی سیاست کا آغاز کر کے متعدد شخصیات اسلام آباد تک پہنچیں۔ پاکستان کی تمام نمایاں سیاسی جماعتوں کو لاہور میں اپنے پاؤں جمانا پڑے۔ متفرق ذاتوں اور برادریوں کے اس شہر میں کچھ سیاسی شخصیات حادثاتی اور کچھ اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد سے پاکستان کے سیاسی افق پر نمودار ہوئیں۔

حال ہی میں پنجاب حکومت میں بطور سینئر وزیر حلف اٹھانے والے اور لاہور سے تعلق رکھنے والے عبدالعلیم خان نے سب سے پہلے عوامی رابطے کا آغاز سیاست کے بجائے عوامی فلاح اور خدمت سے کیا۔ انہوں نے اپنے نام سے ”عبدالعلیم خان فاؤنڈیشن“ قائم کی ہوئی ہے۔ اس کے تحت مستحق اور ضرورتمندوں کے لئے صحت اور تعلیم کی سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔ انہوں نے مستحقین کے لئے دستر خوان بھی شروع کر رکھا ہے۔ ان کے دل میں انسانی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ سیاست میں آنے کا مقصد بھی انسانی خدمت ہی تھا۔ بچوں کی تعلیم پر ان کی خصوصی توجہ کا ہی نتیجہ ہے کہ وہ ایک عشرے سے اس مقصد کے لئے کئی منصوبے مکمل کر چکے ہیں۔ معذور بچوں پر کام کرنے والی ایک تنظیم کی مالی معاونت بھی علیم خان فاؤنڈیشن کی طرف سے کی جا رہی ہے۔

علیم خان صوبائی کے بجائے قومی سیاست میں کردار ادا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ 2008ء کے انتخابات میں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ ق کے پلیٹ فارم سے این اے 127 اور پی پی 147 لاہور سے الیکشن لڑا۔ یہ دور وہ تھا جب پاکستان کی دونوں مقبول سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پی پی پی کی جلاوطن قیادت پاکستان میں این اور آر لے کر آ چکی تھیں۔ 27 دسمبر 2007ء کو بے نظیر بھٹو راولپنڈی میں ایک جلسے کے بعد حملے میں جاں بحق ہو گئیں اور ملک کی سیاسی فضا پی پی پی کے لئے ساز گار ہو گئی۔ ملک کے طول و عرض میں پی پی پی نے بینظیر کے قتل کارڈ کوخوب استعمال کیا۔ ان حالات میں مسلم لیگ ق کی اہم شخصیات انتخابات ہار گئیں۔ علیم خان بھی ان میں سے ایک تھے۔ علیم خان نے مسلم لیگ ق کو 2012ء میں ہی خدا حافظ کہنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ان کی نظر پاکستان تحریک انصاف کی طرف تھی، انہوں نے فروری 2013ء میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی۔ انہیں تحریک انصاف لاہور کا نائب صدر بنا دیا گیا۔ اب وہ اپنی سیاسی صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ 2013ء میں پی ٹی آئی کا مقابلہ پاکستان مسلم لیگ ن سے تھا۔ پارٹی کی حکمت عملی کے مطابق انہیں ٹکٹ نہ دی گئی، تاہم وہ عملی سیاست میں اپنا کردار ادا کرتے رہے اور اپنی جماعت کے لئے کام جاری رکھا۔ انہوں نے ان انتخابات میں پی ٹی آئی کی انتخابی مہم بھر پور طریقے سے چلائی۔ 2015ء میں پارٹی نے انہیں این اے 122 لاہور سے ضمنی الیکشن کیلئے میدان میں اتارا، لیکن مرکز میں مخالف جماعت کی حکومت تھی اس لیے وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ ان کے خلاف تمام حکومتی مشینری کو استعمال کیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی نے ان کی پارٹی خدمات کو دیکھتے ہوئے جولائی 2016ء میں وسطی پنجاب کا صدر بنا دیا۔

2007ء کے بعد علیم خان کو صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کا موقع 2018ء کے عام انتخابات میں ملا جب انہوں نے حلقہ پی پی158سے کامیابی حاصل کی۔ ان انتخابات میں پی ٹی آئی نے مجموعی طور پر کامیابی حاصل کی اور پنجاب، کے پی اور مرکز میں حکومتیں بنائیں۔ علیم کی خدمات کو دیکھتے ہوئے انہیں پنجاب کا سینئر وزیر بنا دیا گیا اور اس کے ساتھ انہیں لوکل گورنمنٹ اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کا قلمدان بھی سونپا گیا۔ تاہم جب نیب نے علیم خان کو پکڑا تو انہوں نے وزارت سے استعفیٰ دیدیا۔ نیب کا الزام تھا کہ انہوں نے اپنی آمدن سے زیادہ اثاثے بنا رکھے ہیں۔

نیب کے خلاف عمومی تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو بغیر ٹھوس ثبوت کے گرفتار کرتا ہے جسے سیاسی انتقام کا نام دیا جاتا ہے، جب علیم خان گرفتار ہوئے تو عام تاثر یہی سامنے آیا کہ حکومت نے بیلنس کرنے کے لئے علیم خان کو قربان کیا ہے۔ یہ تاثر بالکل غلط ثابت ہوا جب انہیں نیب نے الزامات سے بری کر دیا، لیکن انہوں نے رہا ہونے کے بعد یہ ضرور کہا کہ نیب قوانین میں سقم پایا جاتا ہیم حکومت کو چاہیے کہ ان پر نظر ثانی کرے۔ نیب کو چاہئے کہ پہلے تفتیش کرے اور بعد میں کیس بنائے۔ علیم خان بلا شبہ پی ٹی آئی کا سرمایہ ہیں اور انہیں دوبارہ 13 اپریل 2020ء کو سینئر وزیر بنا دیا گیا ہے، انہیں پی ڈبلیو ڈی اور ڈویلپمنٹ کا اضافی چارج بھی دیا گیا ہے۔ ان کی حکومت میں شمولیت سے یقیناً پنجاب حکومت مضبوط ہو گی، وہ پہلے کی طرح پی ٹی آئی کے لیے بھی سود مند ثابت ہوں گے۔ علیم خان جیسے لوگ جو اصولوں پر سیاست کرتے ہیں اور سیاست کو خدمت سمجھ کر اس میدان میں آئے ہیں، کو حکومت کا حصہ بنانا ایک مستحسن فیصلہ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -