صوبے میں کرونا ٹیسٹنگ کی استعداد کار 40سے بڑھا کر 1000کر دیا گیا: محمود خان

  صوبے میں کرونا ٹیسٹنگ کی استعداد کار 40سے بڑھا کر 1000کر دیا گیا: محمود خان

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ طبی عملے، پولیس اور ریسکیو اہلکاروں سمیت فرنٹ لائن پر خدمات انجام دینے والوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، صوبے میں کورونا ٹیسٹنگ کی استعداد کار کو 40 ٹیسٹ روزانہ سے بڑھاکر 1000 ٹیسٹس کردیا گیا ہے اور اس کو مزید بڑھانے پر کام جاری ہے۔ موجودہ صورتحال میں صوبائی حکومت نے مجموعی طور پر بتیس ارب روپے کا ریلیف پیکج دیا ہے، افغانستان و خلیجی ممالک سے آنیوالوں کیلئے بہترین انتظامات کئے گئے ہیں،یہاں آمد پر انہیں قرنطینہ میں رکھا جائیگا، ان کی سکریننگ اور ٹیسٹنگ کی جائیگی اور کلیئر ہونے کی صورت میں انہیں گھروں کو بھیج دیا جائیگا۔ وزیراعلیٰ نے موجودہ صورتحال میں ذخیرہ اندوزی کرنے کی کوشش کرنے والوں کو سختی سے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی ذخیرہ اندوزی میں ملوث پایا گیا تو اسے نشان عبرت بنادی جائیگا، جس کے لئے آرڈیننس منظور کیا گیا ہے۔ وہ پیر کے روز وزیراعلیٰ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ وزیراعلیٰ محمود خان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سماجی رابطوں کو کم کرنے میں انتظامیہ سے بھرپور تعاون کریں کیونکہ ان کی تعاون کے بغیر اس وباء پر قابو پانا بہت مشکل ہے، حکومت اس مشکل صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اْٹھا رہی ہے۔ صوبائی حکومت نے اس مقصد کے لئے کنٹرول رومز قائم کیے ہیں عوام اپنے اپنے علاقوں میں کورونا کے مشتبہ مریضوں کے بارے میں متعلقہ کنٹرول رومز پر اطلاع دیں۔ اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر فرنٹ لائن پر خدمات انجام دینے والے طبی عملے، پولیس اور ریسکیو اہلکاروں سمیت تمام عملے کو کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا کہ لوگوں کی جانیں بچانے میں فرنٹ لائن ورکرز کا کردار قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت مجموعی طور پر بتیس ارب روپے کا ریلیف پیکج منظور کیا ہے جس میں سے تیرہ ارب روپے احساس پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کو کیش دیے جائیں گے۔ کورونا کے مریضوں کے علاج معالجے اور دیگر ضروری انتظامات کے لئے محکمہ صحت کو آٹھ ارب روپے جبکہ محکمہ ریلیف کو چھ ارب روپے جاری کئے گئے ہیں۔ محمود خان نے کہا کہ زائرین کیلئے بہتر انتظامات کیے گئے اور اب وہ سارے زائرین باحفاظت اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں۔ افغانستان و خلیجی ممالک سے آنیوالوں کیلئے بھی بہترین انتظامات کئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ تبلیغی حضرات ہمارے بھائی ہیں اور وہ دین کی تبلیغ کے عظیم مقصد کو لیکر اپنے گھروں سے نکلے ہیں، یہ ہمارے خصوصی توجہ کے مستحق ہیں، ان کے لئے خصوصی انتظامات کرنے کے سلسلے میں حکام کو ہدایات دیے گئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے 114 ارب روپے کے ریلیف پیکج ملکی تاریخ کا سب سے بڑا پیکج قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس پیکج کے تحت صوبے کے مستحق خاندانوں کو 12ہزار روپے فی خاندان دئیے جارہے ہیں، صوبائی حکومت کے پیکج کے تحت صوبے کے 22لاکھ مستحق خاندانوں کو فی خاندان چھ ہزار روپے دئیے جائیں گے جبکہ زکوٰۃ فنڈز کے تحت بھی صوبے کے ایک لاکھ مستحق خاندانوں کو بارہ ہزار روپے فی خاندان دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت وزیر اعظم عمران خان کے وژن کیمطابق کوشش کررہی ہے کہ کوئی بھوک و افلاس کا شکار نہ ہو۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ اس مشکل وقت میں کمزور اور بے سہارا لوگوں کا بھرپور خیال رکھیں۔ وزیراعلیٰ محمود خان نے مزید کہا کہ میں نے خود سے ابتدا کرتے ہوئے اپنے کرایہ داروں کو دو ماہ کے کرائے معاف کئے ہیں لہٰذہ اہل ثروت بھی اپنے آس پاس غریب و نادارلوگوں کا اسی طرح خیال رکھیں۔

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے لیکر موجودہ کورونا صورتحال تک تمام مواقع پر پولیس کے کردار کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہا ہے خیبر پختونخوا پولیس نے ہر مشکل وقت میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور مجھے اپنی پولیس پر بجا طور پر فخر ہے، صوبے میں امن وامان کی بحالی اور عوام کی جان و مال کی تحفظ کے لئے خیبر پختونخوا پولیس نے قربانیوں کی جو لازوال داستانیں رقم کی ہیں ان کی مثال نہیں ملتی، عوام کی جان و مال تحفظ کے لئے پولیس کے اعلیٰ افسران اور جوانوں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں جس کے لئے میں انہیں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ وہ پیر کے روز سنٹرل پولیس آفس پشاور کے دورے کے موقع پر ریجنل پولیس افسران سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کر رہے تھے۔ انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی اور پولیس کے دیگر اعلی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت پولیس شہداء کی قربانیوں کوکسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیگی، حکومت ان شہداء کے اہل خانہ اور بچوں کی ہر ممکن مدد کرے گی اور ہر وہ اقدامات کریگی جو ان کی بہتر مستقبل کے لئے ضروری ہوں، میں اور میری پوری حکومت پولیس شہداء کے خاندانوں کے ساتھ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر پولیس کے ڈرون سرویلنس اور وہیکل اسٹریمنگ سسٹم کے ذریعے صوبے کے مختلف مقامات پر لاک ڈاون اور احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کی صورتحال کا براہ راست جائزہ لیا اور وہیکل اسٹریمنگ ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں سے اس حوالے سے معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے موجودہ صورتحال میں پولیس کی ڈرون سرویلنس اور وہیکل اسٹریمنگ سسٹم کو نگرانی کا ایک موثر نظام اور دور جدید کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس سسٹم پر ڈیوٹی سرانجام دینے والے اہلکاروں کے کام کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کو ڈرون سرویلنس اور وہیکل اسٹریمنگ سسٹم کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔دریں اثناء وزیر اعلیٰ نے پولیس شہداء کے بچوں کو پولیس میں بطور اسسٹنٹ سب انسپکٹر تقرری کے کاغذات پیش کئے۔ یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ نے 196 پولیس شہداء کے بچوں کو پولیس میں بطور سب انسپکٹر بھرتی کرنے کی پہلے ہی سے منظوری دی تھی۔ وزیر اعلیٰ نے سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے پولیس اہلکاروں میں تعریفی اسناد اور نقد انعامات بھی تقسیم کئے۔

مزید :

صفحہ اول -