جعلی اکاونٹس کیس میں گرفتار ملزموں کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنادیا گیا

جعلی اکاونٹس کیس میں گرفتار ملزموں کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنادیا گیا
جعلی اکاونٹس کیس میں گرفتار ملزموں کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنادیا گیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی اکاونٹس کیس میں گرفتار دوملزموں کی ضمانت مستردجبکہ ایک کی منظور کرلی۔ڈان اخبار کے مطا بق جعلی اکاو نٹس کیس میں گرفتار بینکر حسین لوائی اور کراچی میٹروپولیٹن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل پارکس لیاقت قائم خانی کی درخواستِ ضمانت مسترد کردی گئی جبکہ اس کیس کے ایک اور ملزم طحٰہ رضا کی ضمانت منظور ہوگئی۔

دونوں ملزموں کو اس سے قبل کورونا وائرس سے حفاظت کے پیش نظر ضمانت دی گئی تھی تاہم سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو منسوخ کرکے دوبارہ گرفتاری کا حکم دیاتھا۔

جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس لبنیٰ سلیم پرویز پر مشتمل ہائی کورٹ کے ڈویڑن بینچ نے جعلی اکاو¿نٹس کیس کے ملزمان کی درخواستِ ضمانت کی سماعت کی۔عدالت میں حسین لوائی کے وکیل سید اشفاق حسین نقوی نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نیب نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ متعلقہ ادارے کے ذریعے بینک کی مارگیج جائیداد اور مالی سہولت کا جائزہ لیا گیا۔

وکیل کے مطابق جو سہولتیں ہم نے دیں وہ بینکنگ معاملات میں معمول کی بات ہے اور نیب نے اس کی منظوری اور ادائیگی میں صرف معمولی تضادات کی نشاندہی کی تھی۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ درخواست گزار کے خلاف الزامات محض مفروضوں اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے عائد کیے گئے اور نیب یا جے آئی ٹی کی جمع کروائی گئی رپورٹ درخواست گزار کے کسی جرم میں ملوث ہونے کو ثابت نہیں کرتیں اس لیے ان کے موکل کو ضمانت دی جائے۔

لیاقت قائم خانی کے حوالے سے پراسیکیوٹر نے کہا کہ ان کے گھر سے 2 کلو سونا نکلا تھا اور انہوں نے ٹیکس چوری بھی کی جبکہ ان کی ملکیت میں 27 پلاٹس ہیں جس میں کچھ ان کی بیٹی اور کچھ بھتیجے کے نام پر ہیں۔نیب پراسیکیوٹر نےیہ بھی بتایا کہ تفتیشی ٹیم اب لیاقت قائم خانی کے اثاثوں کی جانچ کررہی ہے اور وہ ٹیم کے ساتھ تعاون نہیں کررہے۔

تاہم عدالت نے اس کیس کے ایک اور ملزم طٰحٰہ رضا کو ضمانت دے دی اور خورشید جمالی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -