’ افغانستان میں جنگ کا خاتمہ مشکل ہوسکتا ہے اگر۔۔۔‘امریکی حکام نے ایک نئے مسئلے کی نشاندہی کردی

’ افغانستان میں جنگ کا خاتمہ مشکل ہوسکتا ہے اگر۔۔۔‘امریکی حکام نے ایک نئے ...
’ افغانستان میں جنگ کا خاتمہ مشکل ہوسکتا ہے اگر۔۔۔‘امریکی حکام نے ایک نئے مسئلے کی نشاندہی کردی

  

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)افغانستان میں جنگ کے خاتمے کی کوششیں ایک بار پھر رائیگا ں جانے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا کورونا وائرس سے جنگ میں مصروف ہے افغانستان میں امن عمل متاثرہونے کا خدشہ ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ4 ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر افغان حکومت یا طالبان کی قید میں موجود کسی بھی اہم قیدی کی کورونا وائرس کی وجہ سے موت ہوگئی تو افغانستان میں جنگ کا خاتمہ مشکل ہوسکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق ذرائع میں سے دو کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان میں امریکی امن مشن کو ٹریک پر رکھنا ہے تو ضروری ہے کہ موسم بہار کے لڑائی کے سیزن سے قبل اس پر کام کرلیا جائے کیونکہ وبا کے دوران جنگ سے صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہوسکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے افغانستان کیلئے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زادنے تئیس مارچ کے امریکی وزیر خارجہ کے دورہ اسلام آباد، کابل اور دوحہ کے تناظر میں قطر کا دورہ کیا تھا جہاں طالبان کا دفتر موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا ہے کہ اگر افغان حکومت یا طالبان کی قید میں موجود افراد کی ایک نمایاں تعداد کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوجاتی ہے تو یہ انسانی حقوق کا مسئلہ بن جائے گا اور افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوگا۔

ایک مغربی سفارتکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی صورت میں بتایا ہے کہ امریکی صدر کسی صورت اس ڈیل کا خاتمہ نہیں چاہیں گے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تین نومبر کے امریکی انتخابات سے قبل افغانستان سے اپنی فوجیں نکال کر سرخروہونے چاہتے ہیں۔رواں سال انتیس فروری کو امریکا اور طالبان کے درمیان افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا معاہدہ طے پایا تھا اور یوں اٹھارہ سالہ طویل جنگ کے خاتمے کے امکانات روشن ہوئے تھے اس دوران طالبان نے افغان صدر اشرف غنی کی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مذاکرات سے قبل پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرے۔ انہوں نے افغان سکیورٹی فورسز پر حملے روکنے کی بھی بات کی تھی۔

دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی نے جو کہ اس معاہدے میں شامل نہیں تھے نے طالبان کا مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھااور صرف پندرہ سو قیدی رہاکیے تھے جبکہ طالبان نے اس دوران صرف چالیس قیدی رہا کیے تھے۔

خیال رہے افغانستان میں بھی کورونا وائرس پھیل رہا ہے اور صدارتی محل کے بیس ملازمین سمیت ایک ہزار کے قریب کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔حکام کو خدشہ ہے کہ یہ وائرس جیلوں میں پھیلا تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

مزید :

کورونا وائرس -