ملزم پولیس کی غفلت سے چھوٹ جاتے ہیں اورکہاجاتاہے عدالتیں چھوڑدیتی ہیں،ہائیکورٹ کے مقدمے میں ریمارکس

ملزم پولیس کی غفلت سے چھوٹ جاتے ہیں اورکہاجاتاہے عدالتیں چھوڑدیتی ...
ملزم پولیس کی غفلت سے چھوٹ جاتے ہیں اورکہاجاتاہے عدالتیں چھوڑدیتی ہیں،ہائیکورٹ کے مقدمے میں ریمارکس

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے ڈکیتی کے مقدمے میں قانون کے مطابق ملزم کی شناخت پریڈنہ کرنے پرایس پی انویسٹی گیشن صدرکی سرزنش کردی،جسٹس اسجد جاوید گھرال نے کہاکہ پولیس ناقص تفتیش کرتی ہے جس سے ملزم چھوٹ جاتے ہیں، تفتیشی نے شناخت پریڈ نہ کراکر،ناقص تفتیش کرکے کیس کابیڑاغرق کردیا،ملزم پولیس کی غفلت سے چھوٹ جاتے ہیں اورکہاجاتاہے عدالتیں چھوڑدیتی ہیں۔

لاہورہائیکورٹ میں ڈکیتی کے مقدمے میں ملوث ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی،عدالت کے طلب کرنے پر ایس پی انویسٹی گیشن صدر منصور عدالت میں پیش ہوئے،جسٹس اسجد جاوید گھرال نے ملزم کومل شہزاد کی درخواست ضمانت پر سماعت کی،ملزم کی طرف سے میاں دائود ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے ۔

عدالت نے قانون کے مطابق ملزم کی شناخت پریڈنہ کرنے پرایس پی انویسٹی گیشن صدرکی سرزنش کردی،جسٹس اسجد جاوید گھرال نے کہاکہ پولیس ناقص تفتیش کرتی ہے جس سے ملزم چھوٹ جاتے ہیں، تفتیشی نے شناخت پریڈ نہ کراکر،ناقص تفتیش کرکے کیس کابیڑاغرق کردیا،ملزم پولیس کی غفلت سے چھوٹ جاتے ہیں اورکہاجاتاہے عدالتیں چھوڑدیتی ہیں۔

ایس پی انویسٹی گیشن صدر منصورنے کہاکہ یہ کیس میری تعیناتی سے پہلے کا ہے،جو کوتاہی ہوئی ، اس پر متعلقہ تفتیشی کیخلاف کارروائی کرینگے ۔جسٹس اسجد جاوید کھرال نے کہاکہ پولیس نے اپنی کوتاہی چھپانے کیلئے نیا طریقہ سیکھ لیا ہے، جس کیس میں دیکھیں، پولیس افسر کہتا ہے کیس میری تعیناتی سے پہلے کا ہے، پولیس کا یہی حال رہا تو پھر یہ سسٹم نہیں چلنے والا۔

ایس پی انویسٹی گیشن صدرنے کہا کہ غفلت کرنے پر متعلقہ پولیس افسر کیخلاف کارروائی کرینگے،عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا کارروائی کرینگے، ایک دن معطل کر کے دوسرے دن بحال کر دینگے،عدالت نے ملزم کی 1 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

مزید :

قومی -علاقائی -پنجاب -لاہور -