سعودی عرب میں مقیم تارکین وطن نے مشکل کی اس گھڑی میں نظرانداز کرنے کا شکوہ کردیا

سعودی عرب میں مقیم تارکین وطن نے مشکل کی اس گھڑی میں نظرانداز کرنے کا شکوہ ...
سعودی عرب میں مقیم تارکین وطن نے مشکل کی اس گھڑی میں نظرانداز کرنے کا شکوہ کردیا

  

ریاض (وقار نسیم وامق) سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ مشکلات کی اس گھڑی میں ہمیں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول میں سعودی عرب کو شامل نا کرکے 27 لاکھ پاکستانیوں کے حقوق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے.

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مقیم سیاسی، سماجی، مذہبی اور کاروباری طبقے کی جانب سے آن لائن اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں کورونا وائرس کی وبا کے بعد تبدیل ہوتی صورت حال پر گفتگو کی گئی، کانفرنس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ اس وقت سعودی عرب میں 75 پاکستانیوں کی میتیں موجود ہیں جن کو پاکستان نہیں بھجوایا جاسکا جبکہ پندرہ ہزار سے زائد ایسے افراد ہیں جو وزٹ ویزوں پر یہاں موجود تھے جو واپس نہیں جاسکے، اس کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں مریض وطن واپس جانا چاہتے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں ورکرز بھی پاکستان جانا چاہتے ہیں مگر موجودہ حکومت کی جانب سے سعودی عرب میں مقیم 27 لاکھ پاکستانیوں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے.

شرکاء کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانیوں کی بڑی تعداد مشکلات کا شکار ہے جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اس لئے وزیراعظم پاکستان عمران خان اور معاون خصوصی زلفی بخاری کو چاہئیے کہ وہ یورپی ممالک کے گرین کارڈ ہولڈرز کو ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ سبز پاسپورٹ رکھنے والے لاکھوں پاکستانیوں کو بھی وطن واپس لیجانے کے حوالے سے اقدامات کریں.

آن لائن اجلاس سے خالد اکرم رانا، رانا عبدالرؤف، ڈاکٹر مزمل، اقبال ودود، احسن عباسی، ممتاز خان، زاہد لطیف سندھو، محمد خالد رانا، خالد یوسف، رانا عمر فاروق خان، راجہ یعقوب، یوسف جٹ، عمر فاروق کیلانی اور دیگر نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اوورسیرز پاکستانیز فاؤنڈیشن کو اپنا کردار ادا کرنے کے علاوہ پروٹیکٹر کی مد میں اربوں روپوں کو اوورسیرز پاکستانیز کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کرنے کی ضرورت ہے اور زرمبادلہ بھیجنے والے پاکستانیوں کو مشکل کی گھڑی میں ریلیف دینے کی ضرورت ہے.

مزید :

عرب دنیا -