ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی فلاحی خدمات

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی فلاحی خدمات
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی فلاحی خدمات

  

ایک دن ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ نشست ہوئی۔ اس دوران ہم نے بہت سی باتیں کیں۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا کر اب اپنی بقیہ زندگی فلاحی کاموں کے لئے وقف کر دی ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا تعلیم اور صحت کے شعبوں کی طرف بڑا رجحان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیشہ وہی ملک اور قومیں ترقی کرتی ہیں، جو تعلیم یافتہ ہوں  اور صحت مندانہ زندگی بسر کر رہی ہوں۔ اگر کوئی معاشرہ تعلیم یافتہ نہیں تو اس میں شعور نہیں ہے اور انسان اگر بیمار ہے تو وہ اپنے ملک کی ترقی میں کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ ہمارے ملک میں تعلیم اور صحت دونوں شعبوں میں کام کرنے کی اشد ضرور ت ہے۔ ہمارے ہاں خواندگی کی شرح انتہائی کم ہے جبکہ صحت کی سہولتوں کا بھی شدید فقدان ہے۔ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔

کورونا وائرس کی وجہ سے جو ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی، اس میں ملک بھر میں صحت کی سہولتیں انتہائی تشویشناک ہیں بلکہ یہ کہا جائے کہ سہولیات ناپید ہوچکی ہیں تو کافی ہوگا، چھوٹے چھوٹے علاقوں میں کوئی اچھے ڈاکٹرز، پروفیسرز نہیں ہیں، مریضوں کو اپنا علاج معالجہ کروانے کے لئے بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں مریضوں کا رش بڑھ جاتا ہے۔ حکومت کی طرف سے چھوٹے علاقوں پر توجہ نہیں دی جا رہی اور کتنی ہی زندگیاں علاج معالجے کی کشمکش میں ہی دنیا سے رخصت ہوجاتی ہیں۔ 

بات ہو رہی تھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے نشست میں بہت سارے مسائل پر تبادلہ خیال ہوا،  میں نے لاہور میں ایک ایسا ہسپتال بنانے کا مشورہ دیا جہاں پر غریب، مستحق اور نادار لوگوں کو علاج معالجے کی بین الاقوامی معیار کی مفت سہولتیں مل سکیں۔ اس پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے فوری طور پر اتفاق کرتے ہوئے حامی بھر لی۔ سب سے پہلے ہم نے ہسپتال بنانے کے لئے جگہ کا چناؤ کیا۔ ہمیں مینار پاکستان کے سائے تلے قلعہ لچھمن سنگھ میں 16کنال رقبہ مل گیا اور یہ علاقہ بھی پسماندہ اور پسے ہوئے طبقے کا  ہے۔ جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ہسپتال بنانے کے لئے مشاورت جاری تھی تو انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسا کام کرنا چاہیے کہ فوری طور پر یہاں لوگوں کا علاج معالجہ شروع ہوسکے۔ 2013ء میں ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال ٹرسٹ کی تعمیر کا آغاز کیا گیا اور 2015میں او پی ڈی تعمیر کرکے یہاں غریب،

مستحق اور نادار لوگوں کا علاج معالجہ شروع کر دیا گیا۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ مریضوں کی ضرورت کے پیش نظر او پی ڈی کے ساتھ ڈائیلسز سنٹر بھی بنایاتاکہ گردے کے غریب مریضوں کو فوری ڈائیلسز کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ہسپتال کی او پی ڈی میں روزانہ کی بنیاد پر ماہر ڈاکٹر صاحبان اور پروفیسرز کی زیرنگرانی سینکڑوں مریضوں کا مفت علاج معالجہ جاری ہے۔ ہسپتال میں کلر ڈوپلر، ڈیجیٹل ایکسرے،الٹر ساؤنڈ، ای سی جی، آپریشن تھیٹر، جدید لیبارٹری اور تمام شعبہ جات موجود ہیں، اس کے علاوہ موبائل یونٹ بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کے او پی ڈی میں اب تک ساڑھے 7لاکھ مریضوں کا علاج معالجہ کیا جاچکا ہے۔

جہاں پر ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال تعمیر کیا جا رہا ہے وہ علاقے انتہائی گنجان آباد اور خستہ حالی کا شکار ہے، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، سیوریج کا گندہ پانی واٹر سپلائی میں شامل ہوکر لوگوں کے لئے بیماری کا باعث بن رہا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جو مینار پاکستان کے سائے تلے واقع ہے۔ اس علاقے پر حکومت کی کوئی توجہ  نہیں ہے۔ میں اس وقت ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہا ہوں۔ مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ دکھی انسانیت کی خدمت سے بڑھ کر کوئی خدمت نہیں اور اس میں جتنی راحت ملتی ہے کسی اور کام میں نہیں مل سکتی۔ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال میں جہاں علاج معالجہ کی سہولیات دی جا رہی ہیں،

وہیں 500بستروں پر مشتمل ہسپتال کے مین ٹاور کا کام آخری مراحل میں داخل ہوچکا ہے چونکہ یہ ایک میگاپراجیکٹ ہے اور اس کی تکمیل عوام کی مدد کے بغیر ممکن نہ تھی۔ اس لئے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستانی عوام سے اپیل کی ہے کہ آئیں اس نیک کام میں میرا ساتھ دیں، آپ اپنے یا اپنے کسی پیارے کے نام سے کوئی کمرہ یا وارڈ منسوب کروائیں تاکہ یہ ان کی بخشش کا باعث بن سکے۔ ہسپتال میں مریض دور دراز علاقوں سے علاج معالجہ کے لئے  آتے ہیں۔ جہاں مستحق مریضوں کو علاج کی بہترین سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ ڈائیلسز سنٹر میں گردوں کے تمام مریضوں کے مفت ڈائیلسز کے ساتھ انہیں ادویات دی جاتی ہیں اور ٹیسٹ بھی فری کئے جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ پاکستانی عوام کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے تو ہمیں چاہیے اپنے محسن کا اس نیک کام میں بھرپور ساتھ دیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -