کپتان قومی اسمبلی میں آنے سے گریزاں کیوں؟

کپتان قومی اسمبلی میں آنے سے گریزاں کیوں؟
کپتان قومی اسمبلی میں آنے سے گریزاں کیوں؟

  

وزیراعظم عمران خان اپنے قوم سے خطاب میں یہ مثالیں دے رہے تھے کہ انہوں نے او آئی سی اور اقوام متحدہ میں توہین رسالتؐ کے موضوع پر کھل کر مغرب کی نفرت انگیز پالیسیوں کی مذمت کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے ایسا کیا، تاہم ان کے لئے یہ اچھا موقع تھا کہ قوم سے ٹی وی کے ذریعے خطاب کرنے کی بجائے قومی اسمبلی میں آکر یہ مقدمہ لڑتے، پالیسی بیان دیتے، جس کی گونج زیادہ شدت سے دنیا میں سنائی دیتی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے بھی اس اہم موقع پر وزیراعظم عمران خان کے قومی اسمبلی میں نہ آنے کو اس ایوان کی توہین قرار دیا۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دیتے یا پھر وہ یہاں آنے سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا قومی اسمبلی یا سینیٹ میں آنے کا ٹریک ریکارڈ کچھ اچھا نہیں۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی کپتان گراؤنڈ میں آنے سے اجتناب کرے۔ وزیراعظم نے ٹی وی پر خطاب زیادہ کئے ہیں اور اسمبلی میں تقرریں کم،حالانکہ انہوں نے خود ہی یہ کہا تھا کہ قومی اسمبلی میں وہ باقاعدگی سے آیا کریں گے اور حکومت کی پالیسیوں کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے سوالوں کا جواب بھی دیا کریں گے، لیکن دوسرے وعدوں کی طرح ان کا یہ وعدہ بھی پورا نہ ہو سکا۔ بعد میں یہ عذر پیش کیا گیا کہ اپوزیشن ہر وقت احتجاج کرتی ہے، اس لئے وزیراعظم اسمبلی میں نہیں آتے۔ اپوزیشن یہ تاثر دیتی رہی ہے کہ وزیراعظم میں اعتماد کی کمی ہے، وہ ایوان کا سامنا نہیں کر سکتے، کئی بار ایسا بھی ہوا کہ وزیراعظم عمران خان نے ایوان میں تقریر کی اور اس کے فوراً بعد وہاں سے چلے گئے جس پر یہ تاثر گہرا ہوتا گیا کہ وہ اپوزیشن کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں۔

تاہم اس بار بہت اہم موقع تھا۔ ملک میں ناموسِ رسالتؐ کے مسئلے پر ایک بے یقینی کی فضا ہے۔ احتجاج اور تشدد کے سنگین واقعات ہوئے ہیں۔پولیس اور مظاہرین کی جانیں ضائع ہوئیں اور املاک کو شدید نقصان پہنچا۔ انہوں نے قوم سے اپنے خطاب میں بہت اہم باتیں کیں، ان میں وزن بھی تھا اور زمینی حقائق کا بیان بھی۔ فرانس سے تعلقات ختم کرنے کے مضمرات پر انہوں نے مدلل گفتگو کی۔ یہ واقعی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ اس کے بعد کئی مزید مسائل بڑھ سکتے ہیں۔ پھر ان کا یہ سوال بھی بہت اہم تھا کہ اس کی کیا ضمانت ہے، اس فیصلے کے بعد فرانس کی طرف سے دوبارہ ایسا انتہا پسندانہ قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر خود یہ مہم چلائیں گے اور جب پچاس اسلامی ممالک اس ایک نکتے پر اکٹھے ہو کر آواز اٹھائیں گے تو ان کی آواز سنی جائے گی۔ انہوں نے فرانس کے سفیر کو واپس بھجوانے سے معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ فرانس سے تعلقات ختم کئے تو یورپی یونین بھی ہم سے تعلقات توڑ لے گی اور ہماری ٹیکسٹائل کی مصنوعات برآمد نہیں ہو سکیں گی۔ یہ سب باتیں انہوں نے درست کی ہیں، تاہم انہیں یہ بھی علم ہوگا کہ توہین رسالتؐ کے معاملے پر پاکستان میں لوگ ان چیزوں کو نہیں دیکھتے، ان کے عقیدے اور محبت کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ایسے ہر شخص،ہر ملک سے ٹکرا جانا چاہتے ہیں جو ناموسِ رسالتؐ اور شانِ رسالتؐ میں ذرا سی بھی بے حرمتی کا ارتکاب کرتا ہے۔

اس لئے یہ ضروری تھا کہ وہ قومی اسبملی میں آتے اور یہی باتیں اس فورم پر کرتے۔ ان کی ان باتوں پر ایوان ان کی تائید کرتا۔ اس سے یہ مسئلہ بھی کسی حد تک حل ہو جاتا کہ فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے حوالے سے قومی اسمبلی میں بحث کی جائے۔ انہیں ایوان میں بیٹھ کر اپوزیشن رہنماؤں کی تقاریر بھی سننی چاہیے تھیں، تاکہ دنیا کے سامنے ایک مجموعی تاثر جاتا اور فرانس سمیت سب کو یہ پیغام ملتا کہ پاکستان میں توہینِ مذہب اور توہینِ پیغمبرؐ کے حوالے سے زیروٹالرنس موجود ہے، مگر وزیراعظم عمران نے یہ اہم موقع گنوا دیا۔ ایک بار پھر یہ تاثر پیدا ہوا کہ وزیراعظم عمران خان یا تو قومی اسمبلی کو اہمیت نہیں دیتے، حالانکہ اس کی وجہ سے وزیراعظم ہیں، یا پھر ان میں اعتماد کی کمی ہے کہ کہیں اپوزیشن انہیں آڑے ہاتھوں نہ لے۔ تاہم اس بار چونکہ معاملہ حساس تھا، اپوزیشن بھی کسی غیر سنجیدہ طرزِ عمل کا مظاہرہ نہیں کر سکتی تھی، اس لئے وزیراعظم اس اہم اجلاس کا حصہ بن کر نئی تاریخ رقم کر سکتے تھے۔ میرا نہیں خیال کہ انہوں نے ٹی وی چینلز پر جو تقریر کی، اگر ایوان میں کرتے تو اپوزیشن اس پر تنقید کرتی، سوائے خطاب کے اس حصے پر تنقید کے جو انہوں نے نوازشریف کے حوالے سے کیا کہ انہوں نے سلمان رشدی کی کتاب پر احتجاج نہیں کیا تھا، جس پر مسلم لیگی رہنما احسن اقبال نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو تقریر کے لئے مواد دینے والے عقل سے عاری ہیں، کیونکہ سلمان رشدی کی کتاب 1988ء میں آئی، جب نوازشریف وزیراعظم نہیں تھے۔

 بے نظیر بھٹو اور سید یوسف رضا گیلانی اکثر قومی اسمبلی میں آتے اور اپنا موقف بیان کرتے۔ نوازشریف اور عمران خان دونوں میں جہاں یہ بات مشترک ہے کہ قومی اسمبلی میں کم کم آتے رہے، وہاں یہ بات بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے ارکانِ اسمبلی سے رابطہ بھی نہیں رکھا، نوازشریف کے بارے میں بھی ارکانِ اسمبلی یہی کہتے تھے کہ ان کی وزیراعظم سے سال ہا سال ملاقات نہیں ہوتی اور اب عمران خان کے بارے میں بھی ارکانِ اسمبلی کا تاثر یہی ہے۔ اس رویے کی وجہ سے کئی بار بغاوت بھی جنم لیتی ہے اور کئی ناراض ارکان فارورڈ بلاک بنانے کی دھمکی بھی دیتے ہیں۔ 

کپتان کو اب اپنی ترجیحات میں تبدیلی لانی چاہیے۔ وہ جہاں کابینہ کو اہمیت دیتے ہیں وہاں پارلیمنٹ کو بھی دیں۔ انہیں یہ شکوہ ہے کہ اپوزیشن ایوان میں ہلڑ بازی کرتی ہے، اسے چلنے نہیں دیتی۔ ممکن ہے ان کی ایوان میں مسلسل موجودگی سے اس کی فضا بہتر ہو جائے۔ اس کے لئے تھوڑا دل بڑا کرنا پڑے گا۔کچھ تنقید سننی پڑے گی، کچھ اعتراضات سامنے آئیں گے، تاہم وزیراعظم عمران خان کے پاس بولنے کی صلاحیت موجود ہے اور وہ بھی دلیل کے ساتھ، اس لئے ایسی کسی تنقید کا وہ بڑے موثر انداز میں جواب دے سکتے ہیں، اگر وہ قومی اسبملی میں مسلسل آنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو ان کے باقی سوا دو سال پہلے سے کہیں بہتر گزریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -