رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے مالی معاملات کی منظور ی دے دی،ایم سی بی 

رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے مالی معاملات کی منظور ی دے دی،ایم سی بی 

  

لاہور(پ ر)ایم سی بی بینک لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے چیئرمین میاں محمد منشا کی سربراہی میں اپنے اجلاس کے دوران بینک کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور 31 مارچ 2021 کو ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی کے لئے ”کنڈنسڈ انٹیرم فنانشل سٹیٹمنٹ“ کی منظوری دی۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے فی حصص 4.5 روپے کے پہلے عبوری نقد منافع کا بھی اعلان کیا اور یوں بلند ترین منافع کے رجحان کو برقرار رکھا۔ اس سہ ماہی کے دوران ایم سی بی نے سٹریٹجی کے اعتبار سے اپنے حصص داران کو پائیدار ثمرات دینے پر توجہ مرکوز رکھی جس کے ساتھ ساتھ کووڈ 19- کی وباء دوبارہ پھیلنے سے پیدا ہونے والے حالات اور معیشت پر اس کے ممکنہ اثرات پر بھی کڑی نظر رکھی۔ 31 مارچ 2021 کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے لئے ایم سی بی کے ’ان کنسالیڈیٹڈ‘ منافع بعد از ٹیکس میں 6.79 ارب روپے تک اضافہ ہوا جو 5.73 روپے فی حصص آمدنی کو ظاہر کرتا ہے جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران فی حصص آمدنی 5.50 روپے رہی تھی۔ نیٹ انٹریسٹ کی آمدنی 15.24 ارب روپے رہی جو 6.5 فیصد کمی ظاہر کرتی ہے کیونکہ کرونا وائرس کی وباء سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے توسیعی زری پالیسی نظام اپنانے سے آمدنی کے مارجن میں کمی آئی۔ 

نان مارک اپ انکم 22 فیصد اضافے کے ساتھ 4.75 ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ ٹرانزیکشن والیم میں بہتری اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافے نے فیس کی آمدنی میں 17 فیصد افزائش میں اپنا کردار ادا کیا جبکہ ڈیویڈنڈ کی آمدنی میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کی نسبت 86 فیصد تک اضافہ ہوا۔ 

آپریٹنگ اخراجات (پنشن فنڈ کی منسوخی کے علاوہ) کے حوالے سے افراط زر کے مسلسل دباؤ، برانچ آؤٹ ریچ میں توسیع، بنیادی ڈھانچے کی ٹیکنالوجی سہولیات میں مسلسل سرمایہ کاری، اور ہیومن کیپیٹل میں میرٹ کی بنیاد پر ردوبدل کے باوجود بینک نے اخراجات میں قلیل مدتی کمی کو طویل مدتی اقدامات کے ذریعے متوازن بنانے پر زور دیا جن سے انتظامی اخراجات کی افزائش کو 5 فیصد تک روکنے میں مدد ملی۔

پروویژن کے حوالے سے بینک نے ایکوئٹی سکرپ کی ڈسپوزل پر پروویژن کو منسوخ کر دیا جس کے نتیجے میں پہلی سہ ماہی کی نقد منسوخی 570 ملین روپے رہی۔ ڈاؤن گریڈز کی بنیاد پر ایڈوانسز کے برخلاف 444 ملینروپے کی نیٹ پروویژن کی گئی۔

جہاں تک مالی صورتحال کا تعلق ہے تو ان کنسالیڈیٹڈ بنیاد پر بینک کے کل اثاثوں کی مالیت 1.77 ٹریلین روپے بتائی جاتی ہے۔ اثاثوں کے تجزیہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ نقد سرمایہ کاری مین 75 ارب روپے تک کا اضافہ ہوا (7.4 فیصد) جبکہ گراس ایڈوانسز میں دسمبر 2020 کے بعد 33 ارب روپے (-6.5 فیصد) تک کی کمی آئی۔ تاہم 2021 کی پہلی سہ ماہی کے دوران صارف قرضوں میں 2.2 ارب روپے کی افزائش (+8 فیصد) ہوئی۔ 

خطرات سے نمٹنے کے موثر اقدامات کی بدولت ایم سی بی اپنے کریڈٹ رسک کو موثر حد تک سنبھالنے میں کامیاب رہا ہے۔ لہٰذا دسمبر 2020 کے بعد بینک کے نان پرفارمنگ لونز میں 1.2 فیصد کا معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا جن کی مالیت 51.8 ارب روپے رہی۔ بینک کا کوریج اور انفیکشن کا تناسب بالترتیب 98.1 فیصد اور 10.8 فیصد رہا۔ 

واجبات کے حوالے سے بینک نے زیرو کاسٹ اور لو کاسٹ ڈپازٹس میں افزائش پر توجہ مرکوز رکھی۔ اس بناء پر ’ریمونریٹو ڈپازٹس 7 فیصد افزائش کے ساتھ 521.76 ارب رہے اور 31 مارچ 2021 کو کل ڈپازٹس میں یہ مزید بہتری کے ساتھ 40 فیصد رہے جبکہ 31 دسمبر 2020 کو 38 فیصد تھے۔ کاسا مکس میں 93.1 فیصد بہتری اائی جبکہ بینک کے کل ڈپازٹس 2 فیصد تک افزائش کے ساتھ 1.31 ٹریلین روپے رہے حالانکہ انڈسٹری کی افزائش صرف 0.17 رہی۔

اثاثو ں پر منافع 1.54 فیصد اور ایکوئٹی پر منافع 17.35 فیصد رہا جبکہ فی حصص بک ویلیو 127.16 روپے رہی۔ سرمائے کی ریگولیٹری شرائط کی پاسداری کے حوالے سے بینک کا کل کیپیٹل ایڈیکوئیسی ریشو (سی اے آر) 20.11 فیصد رہا جبکہ اس کی ضروری شرح 11.5 فیصد ہے۔ 

پیکرا کے 26 جون 2020 کے نوٹیفکیشن کے مطابق ایم سی بی کی لوکل کریڈٹ ریٹنگ سب سے بلند یعنی طویل مدت کے لئے AAA اور قلیل مدت کے لئے A1+ ہے۔

مزید :

کامرس -