نیب پراسیکیوٹر کو جواب کی کاپی بنچ کے دوسرے رکن کیلئے جمع کروانے کا حکم

 نیب پراسیکیوٹر کو جواب کی کاپی بنچ کے دوسرے رکن کیلئے جمع کروانے کا حکم

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائی کورٹ نے آمدنی سے زائداثاثوں اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں گرفتارپاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماخواجہ آصف کے کیس میں نیب پراسکیوٹر کو جواب کی کاپی بنچ کے دوسرے رکن کے لئے جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی،جسٹس مس عالیہ نیلم اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے خواجہ آصف کی درخواست پر سماعت کی،ملزم خواجہ آصف کی طرف سے بیرسٹر حیدر رسول مرزا جبکہ نیب کی طرف سے سپیشل پراسکیوٹر سید فیصل رضا بخاری عدالت میں پیش ہوئے،دوران سماعت جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ آپ نے جواب دیکھ لیا؟ جس پر وکیل نے کہا جی میں نے نیب کا جواب دیکھ لیا ہے، فاضل جج نے کہا کہ آپ نے تو جواب دیکھ لیا ہے مگر بنچ کے دوسرے جج کی فائل میں نیب کا جواب موجود نہیں، جسٹس عالیہ نیلم نے نیب کے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے جواب کی 2 کاپیاں داخل نہیں کی تھیں؟ بنچ کے فاضل رکن جسٹس فاروق حیدر ساری فائل پڑھ کر آتے ہیں ان کی فائل میں نیب کا جواب موجود نہیں ہے،فاضل جج نے نیب کے پراسیکیوٹر کو ہدایت کی آئندہ سماعت پر نیب کے جواب کی نقل بنچ کے دوسرے رکن کے لئے بھی جمع کروائی جائے، درخواست ضمانت میں چیئرمین نیب، ڈی جی نیب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست گزار کے وکیل کا موقف ہے کہ  نیب نے منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کے الزامات میں 29 دسمبر کو اسلام آباد سے گرفتار کیا،  نیب کو کیس کا ریکارڈ پہلے ہی فراہم کیا جا چکا ہے، احتساب عدالت کے جج نے بھی نیب کے پاس کیس کا تمام متعلقہ ریکارڈ ہونے کی آبزرویشن دی، جسمانی ریمانڈ دوران نیب نے انکوائری کے شکایت کنندہ کا کوئی ریکارڈ بھی احتساب عدالت میں پیش نہیں کیا، الیکشن کمیشن اور ایف بی آر کے پاس بھی اثاثوں کی تمام تفصیلات موجود ہیں، نیب کو کیس میں مزید ریکوری ضرورت نہیں، بلاجواز جیل میں قید رکھا گیا ہے، عدالت سے استدعاہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے،قبل ازیں آمدنی سے زائداثاثوں اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماخواجہ آصف کی درخواست ضمانت پر نیب نے جواب داخل کروا دیا نیب کا جمع کروایا گیا تفصیلی جواب 10 صفحات پر مشتمل ہے نیب کے جواب میں کہا گیاہے چیئرمین نیب نے 4 ستمبر 2018ء کو خواجہ آصف کیخلاف انکوائری کی منظوری دی، خواجہ آصف کو 29 دسمبر 2020ء کو گرفتار کیا گیا اور کیس کی تحقیقات ابھی جاری ہیں خواجہ آصف نے اپنے اہلخانہ کے نام پر مختلف جائیدادیں بنائیں اور سرمایہ کاری کی، خواجہ آصف نے اپنی آمدن کا مرکزی ذریعہ دبئی کی ایمکو کمپنی کو قرار دیا، دبئی کی ایمکو کمپنی سے تنخواہ منتقلی کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا، نیب کے جواب میں مزید کہا گیاہے کہ خواجہ آصف نے دبئی کی ایمکو کمپنی کی ملی بھگت سے اقامہ بنوایا، میسرز ایمکو کے ایم ڈی الیاس صلوم کو طلب کیا گیا مگر وہ شامل تفتیش نہیں ہوا، ملزم خواجہ آصف نے منی لانڈرنگ کے الزامات کا بھی کوئی جواب نہیں دیا، خواجہ آصف کے لئے کوئی ایسے غیر معمولی حالات پیدا نہیں ہوئے کہ ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جائے، نیب آرڈیننس کے جرم میں ملوث افراد معمولی نہیں ہوتے، خواجہ آصف کا جرم کسی ایک فرد کیخلاف نہیں بلکہ پورے معاشرے کیخلاف ہے، عدالت سے استدعاہے کہ ملزم خواجہ آصف کی ضمانت کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کی جائے۔

خواجہ آصف

مزید :

صفحہ آخر -