سی سی پی او کی جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کریک ڈاؤن میں تیزی لانے کی ہدایت 

  سی سی پی او کی جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کریک ڈاؤن میں تیزی لانے کی ہدایت 

  

 پشاور(کرائم رپورٹر)جرائم کی روک تھام اور امن و امان کے قیام کی خاطر دیگر اداروں کے ساتھ کوارڈینیشن کو مزید مثر بنایا جائے، جامع تفتیش کے ذریعے جرائم کے خاتمہ کو ممکن بنایا جا سکتا ہے، منشیات فروشوں کے ساتھ ساتھ  آئس میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاون کو مزید تیز کیا جائے، ہوائی فائرنگ، آتش بازی، قمار بازی میں ملوث عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائیوں کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے، رمضان المبارک کے دوران اشیائے خوردونوش اور دیگر بازاروں میں امن و امان کے قیام کے ساتھ ساتھ کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا جائے، کرونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ماسک کے استعمال کو یقینی بنایا جائے، تھانہ آنے والے سائلین کی داد رسی کو ترجیحی بنیادوں پر ممکن بناتے ہوئے بروقت ایف آئی آر کے اندراج کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، ان خیالات کا اظہار سی سی پی او عباس احسن نے گزشتہ روز ملک سعد شہید پولیس لائن پشاور میں کرائم ریویو میٹنگ کے دوران کیا تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز کیپٹل سٹی پولیس آفیسر پشاور عباس احسن کی سربراہی میں سٹی اور کینٹ ڈویژن میں جرائم اور امن و امان کا جائزہ لینے کی خاطر خصوصی کرائم ریویو میٹنگ کا انعقاد کیا گیا ہے، چیف ٹریفک پولیس آفیسر عباس مجید خان مروت، ایس پی کینٹ محمد طاہر شاہ وزیر، ایس پی سٹی عتیق شاہ، ایس پی انوسٹی گیشن محمد عارف اور کینٹ و سٹی ڈویژن کے ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز نے میٹنگ میں شرکت کی، میٹنگ کے دوران کینٹ و سٹی ڈویژنز پر کرائم چارٹ کا تقابلی جائزہ لیا گیا، اس موقع پر سی سی پی او نے اسٹریٹ کرائمز کے حوالے سے نئی حکمت عملی مرتب کرنے اور ملوث ملزمان کے خلاف موثر کارروائیاں کرنے کی ہدایت کی، انہوں نے جرائم خصوصا اسٹریٹ کرائمز کے خاتمہ کی خاطر انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید فعال کرنے کی بھی ہدایت کی، سی سی پی او نے عوام کے جان و مال کے تحفظ کی خاطر تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لانے اور شہریوں کو بہترین سروسز کی فراہمی کو ہر صورت ممکن بنانے کی ہدایت کی، انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ پولیس میں ہونے والے اصلاحات کا ثمر ہر حال میں شہریوں کو ملنا چاہیے، سی سی پی او نے مزید کہا کہ جامع تفتیش کے ذریعے جرائم کے خاتمہ کو ممکن بنایا جا سکتا ہے جس میں کسی قسم کی غفلت و لاپرواہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -