فرانسیسی سفیر کی ملک بدر ی کے  معاملے پر پیش کی گئی قرارداد کامتن

  فرانسیسی سفیر کی ملک بدر ی کے  معاملے پر پیش کی گئی قرارداد کامتن

  

     اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی میں فرانس میں سرکاری سرپرستی میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے معاملے پر پیش کی جانیوالی قرارداد کے متن میں کہا  گیا ہے کہ یہ ایوان متنازع فرانسیسی میگزین چارلی ہیپڈو کی طرف سے یکم ستمبر 2020 ء کو ناموس رسالت ؐ کی گستاخی اور توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ فرانسیسی میگزین کی طرف سے پہلی بار 2015 ء میں پیغمبر اسلام ؐ کے گستاخانہ خاکے شائع کرنے پر پوری دنیا کے مسلمانوں کی طرف سے شدید غم و غصے کے اظہار کے باوجود ایک بار پھر عالمی سطح پر مذہبی ہم آہنگی اور امن کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ فرانسیسی صدر کی طرف سے آزادی اظہار رائے کے نام پر کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے عناصر کی حوصلہ افزائی انتہائی افسوسناک ہے لہذا یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کے مسئلہ پر بحث کی جائے۔ تمام یورپی ممالک بالعموم اور فرانس بالخصوص کو اس معاملہ کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے۔تمام مسلم ممالک سے معاملے پر سیر حاصل بات کی جائے اور اس مسئلے کو اجتماعی طور پر بین الاقوامی فورمزپر اٹھایا جائے۔یہ ایوان اس بات کا بھی مطالبہ کرتا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کے معاملات ریاست کو طے کرنے چاہئے اور کوئی فرد، گروہ یا جماعت اس حوالہ سے بے جا غیر قانونی دباؤ نہیں ڈال سکتا۔ مزید برآں، صوبائی حکومتیں تمام اضلاع میں احتجاج کے لئے جگہ مختص کریں تاکہ عوام الناس کے روزمرہ کے معمولات زندگی میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہ آئے۔  منگل کو اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس میں رکن اسمبلی امجد علی خان نے بطور پرائیوٹ ممبر قرارداد پیش کی۔ 

 قرارداد کامتن

مزید :

صفحہ اول -