جھگڑے کے بعد بیٹا اپنی ہی ماں کو کاٹ کر کھا گیا

جھگڑے کے بعد بیٹا اپنی ہی ماں کو کاٹ کر کھا گیا
جھگڑے کے بعد بیٹا اپنی ہی ماں کو کاٹ کر کھا گیا

  

میڈرڈ(مانیٹرنگ ڈیسک) سپین میں جھگڑے کے بعد بیٹا ماں کو کاٹ کر کھا گیا، پراسکیوٹرز نے عدالت میں بتایا ہے کہ خاتون ہر بار اپنے بیٹے کو معاف کر دیتی اور گھر واپس آنے کی اجازت دے دیتی۔ وہ کہا کرتی تھی کہ ”میں کیا کروں، وہ میرا بیٹا ہے۔“

ڈیلی سٹار کے مطابق سپین کے دارالحکومت میڈرڈ کے مضافاتی علاقے گوئنڈیلرا کے رہائشی اس 26سالہ سفاک نوجوان کا نام البرٹو سینچز گومیز بتایا گیا ہے جس نے جھگڑے کے بعد اپنی 66سالہ والدہ ماریا سولیڈیڈ گومیز کو قتل کرکے اس کے جسم کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیے اور ان ٹکڑوں کو لنچ باکسز میں ڈال کر فریج میں محفوظ کر دیا۔ پولیس کے مطابق ملزم فریج سے لنچ باکس نکالتا اور اپنی ماں کے جسم کا ایک ٹکڑا پکا کر کھا جاتا تھا۔ملزم قبل ازیں بھی اپنی ماں پر کئی بار حملہ کرکے اسے تشدد کا نشانہ بنا چکا تھا۔ خاتون نے ایک بار عدالت سے رجوع کرکے اپنے بیٹے کو خود سے دور رکھنے کا حکم نامہ بھی لیا تھا۔

 پراسکیوٹرز نے عدالت میں بتایا ہے کہ کئی دن تک جب دوستوں نے ماریا کو نہ دیکھا تو انہوں نے پولیس کو اطلاع دی اور پولیس نے جب گھر کی تلاشی لی تو فریج سے اس کے جسم کے ٹکڑے برآمد ہو گئے۔پولیس کے مطابق ملزم 15دن تک خود بھی اپنی ماں کا گوشت کھاتا رہا اور اپنے کتے کو بھی کھلاتا رہا۔اس سفاک شخص کو ممکنہ طور پر ساڑھے 15سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -