ترک ڈرامہ ’ارطغرل غازی ‘ کا اثر ، پاکستان میں تیر اندازی اور گھڑسواری کا کھیل فروغ پانے لگا، نوجوان نے کھیل کے فروغ کے لیے کلب کھول لیا

ترک ڈرامہ ’ارطغرل غازی ‘ کا اثر ، پاکستان میں تیر اندازی اور گھڑسواری کا ...
ترک ڈرامہ ’ارطغرل غازی ‘ کا اثر ، پاکستان میں تیر اندازی اور گھڑسواری کا کھیل فروغ پانے لگا، نوجوان نے کھیل کے فروغ کے لیے کلب کھول لیا

  

فیصل آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )ترکی کے معروف ڈرامہ سیریل ’ ارطغرل غازی ‘ کے بعد پاکستان میں بھی تیر اندازی اور گھڑ سواری کا کھیل فروغ پانے لگا۔

فیصل آبادسے تعلق رکھنے والے ارشق نعیم نے گھڑسواری اورگھوڑے پر بیٹھ کر تیراندازی(ماونٹڈ آرچری) کا کھیل سکھانے کے لیے کلب کھولا ہے،تاریخی طور پر تیر اندازی اور گھڑ سواری کا استعمال جنگوں میں ہوتا تھا جبکہ آج کے جدید دور میں اس کا بنیادی استعمال مقابلہ بازی، کھیل اور تفریحی سرگرمیاں ہیں،فیصل آباد میں ارشق نعیم نامی نوجوان کا کلب نوجوانوں میں ماونٹڈ آرچری(تیر اندازی) اور گھڑ سواری سکھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اوراس کھیل کو سیکھنے والے  نوجوانوں کی تعداد میں بڑی تیزی کے ساتھ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ارشق نعیم کے اس ماونٹڈ آرچری میں نوجوان بڑی تعداد میں گھڑ سواری اور گھوڑے پر بیٹھ کر تیر اندازی کی مشقیں کرتے دکھائی دیتے ہیں جو صحت مندانہ سرگرمیوں کی علامت ہے۔

ارشق نعیم کا کہنا ہے کہ دنیا میں یہ کھیل کئی ہزار سالوں سے کھیلا جارہا ہے مگر پاکستان میں ترک ڈرامہ سیریز ارطغرل غازی اور کرلوس عثمان کے بعد اس کو فروغ ملا ہے اور نوجوان اس کھیل کی طرف متوجہ ہورہے ہیں،نوجوانوں اور بچوں  کے ساتھ ساتھ بڑی عمر کے افراد بھی گھڑ سواری اور تیر اندازی سیکھنے کے لئے ہم سے رابطہ کرتے ہیں ،جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ترک ڈرامہ سیریل نے معاشرے پر اپنے اثرات مرتب کئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تیر اندازی کے لیے مختلف رینج کی کمانیں پہلے بیرون ملک سے درآمد کی جاتی تھیں جو مہنگی ہونے کی وجہ سے عام افراد کی قوت خرید سے باہر ہوتی تھیں تاہم اب اس کی لاگت کئی گنا کم ہو چکی ہے اور ہم  ماونٹڈ آرچری کا تمام سامان خود تیار کروا رہے ہیں جس کی کوالٹی اور فنشنگ بہت شاندار ہے۔

ارشق نعیم گزشتہ 10سالوں سے اس کھیل سے وابستہ ہیں،وہ پہلے پاکستانی ماونٹڈ آرچر ہیں جنہوں نے پاکستان میں ترک خلافت کے دور میں استعمال ہونے والے تیر بنانے شروع کئیے۔وہ نہ صرف اس کھیل کے ماہر ہیں بلکہ اب اس فن کودوسرے لوگوں کو بھی منتقل کررہے ہیں۔

آرچری اور گھڑسواری اسوقت دنیا کے بیشتر ممالک امریکہ ، انگلینڈ، کوریا،جرمنی اور چائنہ میں کھیلا جارہا ہے ،دنیا کے مختلف ممالک میں اس کے مقابلے بھی کروائے جارہے ہیں۔ارشق نعیم پہلے پاکستانی نوجوان ہیں جو اس فن کو نوجوانوں میں منتقل کرنے کے لئے گھڑ سواری اور آرچری  کلبز  ملک گیر سطح پر کھولنے کے لئے پلاننگ کر رہے ہیں جبکہ کئی شہروں میں وہ نوجوانوں کو ٹریننگ بھی دے رہے ہیں ۔

مزید :

کھیل -