دعا کی ضرورت اور عید کا چاند؟

 دعا کی ضرورت اور عید کا چاند؟
 دعا کی ضرورت اور عید کا چاند؟

  


رمضان المبارک کی آج29 تاریخ اور روزہ ہے، قمری کیلنڈر کے حوالے سے مہینہ29اور30 کا ہوتا ہے اس لئے جب 29روزے پورے ہوں تو اگلے ماہ کا چاند دیکھا جاتا ہے اس کے نظر آنے یا نہ آنے کے بعد ہی اگلے ماہ کے آغاز کا اعلان کیا جاتا ہے۔ہمارے ملک میں باقی تمام گیارہ ماہ بڑی حد تک اطمینان سے گذر جاتے اور سرکاری مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان پر کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، البتہ رمضان المبارک اور عیدالفطر کے حوالے سے سنسنی ضرور پھیلتی ہے۔ ملک میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی موجودگی کے باوجود ہمارے علماء کرام اپنے دائرہ اثر کے حوالے سے رویت کا اہمتام کرتے ہیں اگرچہ رمضان  اور عید کے اعلان کے لئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی ہی معتبر ہے اور سرکاری طور پر اسی کے اعلان کا اتباع کیا جاتا ہے، البتہ ہمارے خیبرپختونخوا والے بھائی واضح طور پر نجی رویت پر یقین رکھتے ہیں اور اکثر سرکاری کمیٹی کی پابندی نہیں کرنے اور جامع مسجد قاسم پشاور کے علاوہ قبائلی علاقوں میں موجود علماء کرام اپنے طور پر رویت کا اہتمام کرتے ہیں اور یوں اکثر یکم رمضان یا شوال پر اختلاف سامنے آ جاتا ہے اور ملک میں دو عیدیں ہو جاتی ہیں، یہ سلسلہ جاری تھا کہ اس مرتبہ رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے بھی اپنا اجلاس پشاور میں رکھا تھا، اس کا نتیجہ ایک ہی روز رمضان المبارک شروع ہوا  اب عیدالفطر سر پر ہے اور آج29 روزے پورے ہو جانے کے بعد اجلاس اسلام آباد میں رکھا گیا ہے۔


رمضان المبارک  کے چاند والے تجربے کے بعد میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس مرتبہ عیدالفطر کے چاند پر بھی تنازع نہیں ہو گا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے رمضان المبارک  کا چاند دیکھنے اور اعلان کرنے کے حوالے سے جو مثال قائم کی اس کے بعد تنازعہ ممکن نہ ہو گا کہ رمضان المبارک  کا آغاز سعودی حکومت کے اعلامیہ کے مطابق یہاں بھی ہوا، چنانچہ ایک  روز کا فرق نہ ہوا کہ شمالی علاقوں والے تو ہمیشہ سے روزے مکمل ہونے کا اہتمام سعودی عرب کے ساتھ کرتے اور عید بھی اسی کے مطابق کرتے ہیں اور یہ اب تک ہوتا آیا حتیٰ کہ جب کبھی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا سعودی عرب سے ایک روز کا فرق نکلا تو شمالی علاقوں میں، رمضان اور عید سعودی عرب کے ساتھ ہی ہوئی، اب آج (جمعرات) جو  اجلاس ہو رہا ہے توقع کے مطابق فیصلہ اسی رویت کا آئینہ دار ہو گا، میرے خیال میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے ادراک کیا اور شمالی قبائل کے ساتھ  جا کر رمضان المبارک کا آغاز کر لیا تو اختلاف نہ ہوا اور توقع ہے کہ اب بھی ایسا ہی ہو گا، سعودی عرب نے تو استفادہ کیا اور سالانہ کیلنڈر ترتیب دے لیا اور وہاں قمری مہینے اسی کے مطابق ہوتے ہیں البتہ اعلان وہاں کے ذمہ دار مفتی ہی کرتے ہیں،اس بار محکمہ موسمیات اور ماحولیات والوں نے سائنس کی  رو سے بتایا  ہوا ہے کہ20اپریل کو دنیا بھر میں چاند گرہن ہے اور آج(جمعرات) چاند نظر آنے کا امکان کم ہے اس لئے روزے 30 اور عید ہفتہ کو ہو گی سعودی عرب کے ساتھ 25ممالک میں عید 22اپریل ہفتہ کی ہے، یہ امر سعودی عرب کے لئے تو درست مانا  جا رہا ہے لیکن ہم آج رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے منتظر ہوں گے جو اعلان کرے گی اس کے مطابق ہی عمل ہو گا،لیکن یہ اتفاق بھی ہو سکتا ہے کہ جنوب میں اس بار29رمضان ہی کو چاند نظر آ جائے اور عید21 اپریل جمعہ کو ہو جائے، لیکن شمالی علاقوں والے حضرات پھر بھی سعودی عرب چاند کی پیروی کریں گے اس لئے امکان طور پر یہاں بھی اتفاق رائے کی کوشش کی جائے گی۔ بہرحال جو بھی ہو گا رات تک پتہ چل جائے گا۔ میں تو اپنے قارئین کو پیشگی عید مبارک پیش کرتا ہوں یقین ہے کہ عید کے چاند پر بھی اتفاق ہو جائے گا۔
میں اور میرے جیسے دیگر پاکستانیوں کے دِل ملکی حالات کے حوالے سے بھی دھڑک رہے ہیں، سپریم کورٹ کی سہ رکنی بینچ کی طرف سے اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہوئے سیاسی قائدین کو بلایا گیاکہ کسی ایک تاریخ پر اتفاق ہو تو سابقہ حکم میں کوئی ترمیم ہو جائے اگرچہ واضح یہ کیا گیا ہے کہ سابقہ حکم موجود اور اس پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں نتائج بھی ہوں گے اور یہ اس سہ رکنی عدالت کی حکم عدولی کے بعد شروع ہوں گے، امکانی طور پر عدالتی حکم پر عمل نہ ہونے کے باعث توہین عدالت کی کارروائی کا امکان ہو گا تاہم ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ مشاورت کی حمایت میں تو سب جماعتوں نے اتفاق ظاہر کر دیا ہے تاہم حالات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ 14مئی کے دن پر اصرار کی وجہ سے مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار نہ ہو جائیں، لازم ہے کہ سب جماعتیں کھلے دِل و دماغ کے ساتھ شریک ہوں اور ملکی انتخابات کے لئے کسی تاریخ پر رضا مند ہوں جو اکتوبر کی ہو سکتی ہے اس کے لئے تحریک انصاف کو لچک پیدا کرنا ہو گی، تاحال انتخابی عمل کے حوالے سے حالات تو پی ٹی آئی کے لئے موافق ہیں اور اسے فائدہ اٹھانا چاہئے۔اس سلسلے میں پی ڈی ایم میں متحد رہنے کے ساتھ ساتھ انتخابی عمل اور مذاکرات کے حوالے سے اختلاف ہے۔ پیپلزپارٹی کھلے بندوں مذاکرات کی حمایت اور جمعیت علماء اسلام مخالفت کر رہی ہے۔ مسلم لیگ(ن) گو مذاکرات کے لئے آمادہ ہے لیکن14مئی والے انتخابات کے لئے رضا مند نہیں اور اس  نے اس تاریخ والے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کر کے امیدواروں کو ٹکٹ نہ دینے کا اعلان کیا جبکہ پیپلزپارٹی نے عملاً لاہور والے30حلقوں کے امیدوار فائنل کر دیئے ہیں یوں اب سب نگاہیں سپریم کورٹ کی سہ رکنی بینچ کی طرف ہیں کہ وہاں سے کیا ظہور ہوتا ہے، میں اس بات میں نہیں جاتا کہ قومی اسمبلی کے موجودہ ایوان اور موجودہ سہ رکنی بینچ کے درمیان کیا معاملات ہوئے اور صدرِ مملکت کا عمل کیا ہے۔ یہ سب عیاں ہے اور لوگ اپنے طور پر فیصلہ کر رہے ہیں، ذرا اونٹ کسی کروٹ بیٹھ لے پھر اس پر بھی بات کریں گے۔ دُعا کی ضرورت تو ہے!

مزید :

رائے -کالم -