جسٹس منیر مغل اور چیف جسٹس کی امت عدلیہ

جسٹس منیر مغل اور چیف جسٹس کی امت عدلیہ
جسٹس منیر مغل اور چیف جسٹس کی امت عدلیہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 جسٹس ڈاکٹر منیر احمد مغل بھی گئے۔ ”میں اس وقت بیت اللہ کے سامنے رب ذوالجلال کے آگے سربسجود ہوکر گریہ زاری کر رہا ہوں کہ وہ آپ کو ہر رنج سے ہمیشہ دور رکھے، درجات بلند کرے اور ہر حال میں آپ کو خوش رکھے“ 30 سال قبل ملنے والا یہ خط کسی اجنبی کا تھا۔ تب میں ان ”مصروف ترین“ افراد میں سے ایک تھا جسے مہینے میں لگ بھگ  تین چار من خطوط ملتے تھے۔ کئی خطوط اچھوتے اور منفرد ہوتے، لیکن یہ خط؟ رگ و پے اور نس نس میں سما جانے والے اس بے عنوان سے خط کو کاش میں سنبھال کر رکھ لیتا۔ بخدا تیسرا دن ہے میں نے گھر کو اتھل پتھل کر دیا کہ شاید کاغذات کے اس ڈھیر میں سے یا شاید اس گٹھڑ ی سے نکل آئے۔ رات دو دو بجے تک تلاش کیا لیکن نیشنل آرکائیوز میں رکھنے کے لائق جسٹس ڈاکٹر منیر احمد مغل کے اس خط نے ملنا تھا، نہ ملا۔ اب ایک ہی جگہ باقی ہے۔ شاید جامعہ کی فائلوں میں سے کہیں مل جائے۔ عزیزم کوثر میری باقیات کی شکل میں ابھی شریعہ اکیڈمی میں موجود ہے۔

رئیس العاجزین جسٹس ڈاکٹر منیر احمد مغل مرحوم کے میرے نام اس خط کے مذکورہ بالا جملے میں نے اپنی یادداشت کی ٹھنڈی ٹھار بھوبل میں سے کرید کر نکالے ہیں۔ الفاظ یقینا مختلف ہیں، مفاہیم و معانی البتہ یہی کچھ تھے. خط کی علت غائی یہ تھی کہ میں نے 1993ء میں وکلا کے لیے اسلامی قانون کا ایک سالہ مراسلاتی کورس شروع کیا۔ یہ کورس آنجناب نے دیکھا تو اپنی تمام علمی بلندیوں اور ریاستی رفعتوں کے علی الرغم اولا خود داخلہ لیا، پھر اپنے دو بیٹوں کو بھی یہ کورس کرایا۔ منیر نے بتایا: "ابو کا حکم تھا کہ استاد ہونے کے سبب شہزاد صاحب کا احترام ہم تینوں پر واجب ہے”اللہ اللہ تو شک آخرت میں یہی کچھ تو ہوگا اپنے پاس۔ کورس کے مشتملات انہیں اتنے پسند آئے اور قانون دان طبقے کے حسب ِ حال لگے کہ وہ حرم مقدس میں میرے لئے سربسجود ہو گئے۔ یہ خط میں نے اپنے افسر اعلیٰ ڈاکٹر محمود غازی کو بطور اظہار تفاخر دکھایا۔ بصورت مسکراہٹ تھپکی دے کر بولے: ”جانتا ہوں، ان سے رابطہ رکھیے,کام کے آدمی ہیں“۔

سال گزر گئے، پھر ان کے بیٹے ڈاکٹر احمد منیر ہمارے رفیق کار بن کر یونیورسٹی میں آگئے۔ اس مراسلاتی کورس کو قانونی حلقوں میں خوب پذیرائی ملی تو 24 الگ الگ اسباق پر مشتمل مطالعاتی مواد کو بعد ازاں دو جلدوں میں شائع کر دیا گیا۔ ایک دن منیر نے کمپیوٹر پر کچھ ایسا دکھایا کہ میں چکرا کر رہ گیا۔ معلوم ہوا، جسٹس ڈاکٹر منیر احمد مغل، جج لاہور ہائی کورٹ اپنے تمام سرکاری و نجی کاموں کے ساتھ ساتھ 400 صفحات کی میری کتاب کی پہلی جلد کا انگریزی ترجمہ کر چکے ہیں۔ منیر نے بتایا کہ تمام مواد والد صاحب نے خود کمپوز کیا ہے۔ ترجمہ بلیغ اور رواں انگریزی میں اور مطلوبہ رموز و اوقاف (transliteration) سے بھی مزین تھا۔ بغور جائزہ لیا تو کہنا پڑا کہ معمولی ناگزیر ادارت کے بعد کتاب انگریزی خوان طبقے کے لئے شائع کی جا سکتی ہے۔

اپنی تو گناہوں کی گٹھڑی اتنی بوجھل کہ اٹھائے نہ بنے۔ اتنی بھاری کہ میدان محشر میں پاؤں چلائے نہ بنے۔ اتنی بوجھل کہ اتاروں تو اتارے نہ بنے۔ بہت گناہ گار سہی لیکن معلوم ہے، وہاں میرے پاس کیا ہوگا؟ بائیں ہاتھ میں وہی گناہوں بھری بوجھل گٹھڑی لیکن میں نے دائیں ہاتھ میں رئیس العاجزین جسٹس صاحب کی انگلی پکڑ رکھی ہو گی۔ ان کا ہمالیہ جیسا متبرک نورانی وجود ہوگا اور میں۔ انہی کے عقب میں چھپتے چھپاتے میں جب جنت میں داخل ہونے کی کوشش کروں گا تو اللہ کے اس مقرب بندے اور ان کے ساتھی کو کیا کوئی دربان روک سکے گا، بھلا بتائیے؟ وہ جنت الماوی کے رستے داخل ہوں یا کنج بجانب عدن جائیں، میں تو ان کا کھیڑا ہرگز نہیں چھوڑوں گا۔ کیا کروں اس گنہگار موحد کو وہاں بخشش کے لئے مرحوم کا توسل تو درکار ہو گا۔ قارئین کرام! مرحوم کی صفات کے بیان کی خاطر میرے یہ طمطراقی الفاظ ان کی عظمت کی شہادتیں ہیں بس، ورنہ بخشش کی تھیلی تو رحمان و رحیم نے اپنے پاس سنبھال کر رکھی ہے۔ وہی کچھ عطا کرے تو کرے، ورنہ کیا جسٹس منیر مغل اور کیا ہم آپ، حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آزری۔

منیر سے میری تابڑ توڑ فرمائش یہی رہی کہ پیر و مرشد جب کبھی اسلام آباد تشریف لائیں تو اطلاع کر دینا۔ پھر ایک دن وہ دو بیٹوں ڈاکٹر احمد منیر اور سیشن جج عامر منیر کے ہمراہ اسلام آباد تشریف لائے۔ زبردستی سمجھ لیجئے کہ وہ تو رئیس العاجزین ٹھہرے،میں انہیں سپر جناح کے (اب مرحوم) تاج محل ریستوران میں لے گیا۔ انہوں نے پکوانوں کا انتخاب کرنے میں احتیاط، متانت اور انتہا درجے کی بردباری کے ساتھ میری یوں مدد کی کہ حکم نہ گردانتے ہوئے بھی وہ ان کا لگاوٹ بھرا حکم ہی تھا۔ ان دنوں اس ریستوران میں جب کبھی ہم چار دیگر دوست کھانا کھاتے تو ہزار روپے خرچ ہوتے تھے۔ آنجناب نے اتنا کیا کہ کل 400 روپے خرچ ہوئے۔ کنجوسی اور کفایت شعاری کے مابین لفظ کے لیے اپنے ذخیرہ الفاظ میں کرامت کا اضافہ کر لیجئے۔ ان کی کرامت کے باعث ہم نے مختصر سا کھانا کھایا اور پیٹ بھر کر کھایا۔ کرامت اور کیا ہوتی ہے۔

ان کی ایک اور کرامت سن لیجئے۔ مرحوم نے اپنی زندگی ہی میں شریعت کے مطابق جائیداد تقسیم کر دی۔ اپنا حصہ لے کر منیر نے اسلام آباد، جموں اینڈ کشمیر ہاؤسنگ سوسائٹی میں مکان بنایا۔ یہ وہ بستی ہے جہاں بور کراتے جائیں اور کراتے ہی رہیں، پانی نہیں ملتا۔ وہاں متعدد مکانوں میں لوگوں نے بور کرائے۔ اگر پانی نکلا بھی 10 منٹ سے زیادہ کسی کو نصیب نہ ہوا۔ اس ولی کامل نے ولی خان نامی بور کرنے والے کو حکم دیا کہ سلنڈر کی ہر ضرب پر تم نے بسم اللہ ضرور پڑھنا ہے۔ پھر محلے کے حاضر و موجود سے مل کر عاجزانہ اور رقت آمیز دعا کرائی۔ پانی نکلا اور اتنا نکلا کہ 24 گھنٹے موٹر چلانے پر بھی ختم نہ ہوتا۔ منیر نے واٹر ٹینکروں کو بھی اجازت دے دی کہ لے جاؤ جتنا جی کرے۔ ایک نل کولر باہر عامتہ الناس کو بھی دے دیا۔ یہ پانی سالہا سال یونہی چلتا رہا۔ شاید ولی خان کی کچھ ضربیں بسم اللہ سے خالی رہیں یا شاید اللہ کریم کے پاس اس کرامت کے جملہ حقوق انہی کے نام محفوظ تھے، سالہا سال 24 گھنٹے نکلنے والا پانی ان کے صاحب فراش ہوتے ہی کم ہونا شروع ہوا اور رحلت سے کچھ عرصہ قبل مطلقا خشک ہو گیا۔

جسٹس مرحوم پر یہ مختصر سی تحریر ناکافی ہے۔ اللہ کریم نے موقع دیا تو ان کی پہلو دار زندگی کے چند اور حیران کن اور منفرد گوشے بھی نذر قارئین کروں گا کہ شاید قاضی فائز عیسی کی اُمت عدلیہ میں سے کسی ایک کے دِل میں ان کی کوئی ایک خوبی ہی قرار پکڑ لے۔ اللہ کرے اس سے بڑھ کر کچھ ہو جائے۔

مزید :

رائے -کالم -